بانہال // راشن کارڈوں کی درجہ بندی میں مستحق اور غریب افراد کو نظر انداز کرنے اور صاحب ثروت لوگوں کو غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی فہرست میں شامل کرکے سینکڑوں لوگ اپنے اوپر ہوئے شب خون کی شکایات کرتے آرہے ہیں۔ سماج کے غریب ، مستحق اور لاچار کنبوں کو نظر انداز کرکے بعض منظور نظراور خوش حال کنبوں اور نابالغ بچوں کو شادی شدہ قرار دے کر محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری کی شفافیت پر ازل سے ہی کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ راشن کارڈوں کی فراہمی اور درجہ بندی میں فراڈ کاغذی لوازمات کی مدد سے انجام دیئے گئے ایسے کئی فراڈ محکمہ امور سارفین کی طرف سے دی گئی اطلاعات میں سامنے ائی ہے ۔ بانہال کے مضافات میں ایک راشن ڈیلر نے اپنے کنبے کے کسی بھی فرد کو ناراض نہ کرتے ہوئے راشن کارڈوں کی اجرائی اور علاقے کے لوگوں کی درجہ بندی میں بڑے پیمانے پر فراڈ کاغذی لوازمات کی مدد سے کئی غیر شادی شدہ افراد کو شادی شدہ قرار دیا ہے اورسرکاری کاغذوں میں ان نابالغوں کی اہلیہ کی کا نام اور نامعلوم خواتین کے فوٹو بھی محکمہ امور صارفین کی کنبہ جاتی تفصیل میں جاری کئے گئے ہیں۔ اس فراڈ کی وجہ سے بانہال کے غریب اور پسماندہ پہاڑی علاقہ ٹھاچی اور امکوٹ کے درجنوں مستحق اور غریب اور نادار کنبوں کے حق پر شب خون مارا گیا ہے۔ درخواست دہندہ شوکت علی ساکنہ ٹھاچی امکوٹ تحصیل بانہال کا کہنا ہے کہ اْس جیسے درجنوں صارفین کیلئے محکمہ کی طرف سے جاری کی گئی فہرست چونکا دینے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے غریبوں کو نظر انداز کرکے متعلقہ ڈیلر نے اپنے کئی غیر مستحق افراد کو بی پی ایل اور اے اے وائی کے زمرے میں لایا ہے اور مستحق افراد کو نان پریراٹی ہاوس ہولڈ کے زمرے میں لائے گئے ہیں جو علاقے کے غریبوں کیلئے بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو اْن زمروں میں رکھا گیا ہے جو اس زمرے کی مقرر قیمت پر راشن خریدنے کی کسی طور بھی سکت نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزم لگایا کہ راشن ڈیلر نے اپنے کنبے کے سکول بچوں ، گاڑی اور ٹھیکداری کرنے والوں کو بی پی ایل کے زمرے میں رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ درجنوں شادی شدہ اور بال بچوں والے افراد اور کنبوں کو ابھی تک راشن کارڈ ہی اجرا نہیں کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق راشن کارڈ نمبر 00000208 فہرست سیریل نمبر 44 عابد فاروق ولد فاروق احمد نائیک عمر 22 سال اور اس کی اہلیہ مہران نساء عمر 10 سال کے حق میں درج کیا گیا ہے جبکہ عابد فاروق کی ابھی تک شادی ہی نہی ہوئی ہے اور وہ طالب علم ہے۔ محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری کی طرف سے جاری کنبے کی تفصیل میں غیر شادی شدہ عابد فاروق نائیک کی نامعملوم اہیلیہ مہران نساء کی عمر دس سال درج کی گئی ہے اور اْس کا فوٹو بھی راشن کارڈ رپورٹ میں چسپاں ہے۔ سیریل نمبر 313 پر درج طاہر مشتاق ولد مشتاق احمد راشن کارڈ نمبر 451 بھی غیر شادی شدہ ہے اور راشن کارڈ لسٹ میں ا سکی اہلیہ فوٹو سمیت یاسمین بیگم کے نام کے ساتھ درج کی گئی ہے۔ سیریل نمبر 198 راشن کارڈ نمبر 503 غلام نبی نائیک ولد آحد نائیک کے حق میں AAY کے تحت درج کیا گیا ہے۔ سیریل نمبر 189 راشن کارڈ نمبر 490 محمد ابراہیم ولد احد نائیک AAY ، سیریل نمبر 197 راشن کارڈ نمبر 502 جاوید احمد ولد غلام نبی نائیک اے اے وائی ، سیریل نمبر 173 راشن کارڈ نمبر 467 نسار احمد ولد غلام نبی نائیک اے اے وائی کی فہرست میں درج کیا گیا ہے ۔ سیریل نمبر 199 راشن کارڈ نمبر 504 مشاق احمد ولد غلام نبی نائیک بی پی ایل کی فہرست میں درج ہے جبکہ سیریل نمبر 196 راشن کارڈ نمبر 501 شکیل احمد ولد غلام نبی نائیک ، سیریل نمبر 210 راشن کارڈ نمبر 517 فاروق احمد ولد غلام نبی نائیک، سیریل نمبر 186 راشن کارڈ نمبر 486 خورشید احمد ولد غلام نبی نائیک کے حق میں بی پی ایل کے راشن کارڈ جاری کئے گئے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد فراڈ کاغذی لوازمات کی وجہ سے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر رکنے والے افراد یا کنبون کے طور شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں منگت اللہ ، تنویر احمد ، بہاراحمد ، اور مدثر احمد وغیرہ کے راشن کارڈ ابھی تک بنائے ہی نہیں گئے ہیں جبکہ یہ سب شادی شدہ ہیں اور کئی کئی بچوں کے باپ بھی ہیں۔ لوگوں کا الزام ہے کہ پورے علاقے میں مستحق اور غریب افراد کوڈیلر کی من مرجی کی وجہ سے یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ راشن ڈیلر ٹھاچی امکوٹ بانہال نے اپنے گھر کے افراد کو زیادہ سے زیادہ فائیدہ پہنچانے کی غرض سے دو دو کنبوں پر مشتمل کئی کنبوں کی فراڈ رجشٹریشن کرائی ہے اور غیر شادی شدہ افراد کے حق میں راشن کارڈ اجرا کرنے کیلے نامعلوم خواتین کے فوٹو نام سمیت چسپاں کئے گئے ہیں جو زمینی سطح پر موجود ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری اور محکمہ امور صارفین کی طرف سے کوئی چیک نہ ہونے کی وجہ سے غریبی کی سطح سے نیچے گذر بسر کرنے والوں اور مستحق افراد کو یکسر نظر انداز کرکے این پی ایچ ایچ کے زمرے میں رکھکر اْن کے سخت ناانصافی کی گئی ہے۔ علاقے کے کئی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ وہ علاقے کے نہایت ہی غریب اور کمزور طبقوں میں شمار کئے جاتے لیکن متعلقہ ڈیلر نے فراڈ کاغذی لوازمات تیار کرکے اپنے خاندان کے کم از کم چودہ افراد کے حق میں پی پی ایل اور اے اے وائی کے راشن کارڈ بنوائے ہین جبکہ علاقے کے مستحق افراد کو راشن کارڈوں کی درجہ بند کے اْس زمرے میں رکھے گئے ہیں جہاں اونچی داموں پر راشن خریدنا انکے بس کی بات نہیں۔