پیار و محبت کے جھانسے میں کسی لڑکی کو پھنسا کر اس سے جنسی تعلقات قائم کر کے اس حاملہ بنانا اورپھر سازش رچا کر اس کابے دردی سے قتل کر نے جیسے واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ یا توانسان کے اندر انسانیت مر چکی ہے یاپھر سماج کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔انسانی معاشرے میں عورت کو جو مقام حاصل تھا، کیا وہ ابھی برقرار ہے یا اب اس کی قدر گھٹ کر رہ گئی ہے ؟ یہ اپنے آپ میں ایک سوال ہے ۔ خواتین کی آبروریزی ،عصمت دری کی وارداتیں آئے روز اخبارات کی سُرخیاں بنتی ہیں اور چند روز تک شور وغل کے بعد یہ معاملہ پھر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔گھر ہو یا دفتر ،پارک ہو یا بازار، ٹرین ،بس ہو یا کوئی سنسان جگہ، اُن کی عصمت پر حملے ہونا آئے روز کا معمول بنا ہوا ہے ۔کبھی معاملہ عصمت دری پر رُک جاتا ہے تو کبھی ظلم کی شکار خاتون کو زبردستی یا معصومیت کا فائیدہ اُٹھا کرپیار محبت کے جال میں پھنسا کر انہیں جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ ایک گھنائونی صورت اجتماعی عصت دری کی ہے جس میں کئی لوگ کسی معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا شکار بنا کر پھر بڑے درر ناک طریقے سے اسے قتل کر دیتے ہیں ۔
شہروں میں ایسے واقعات کا رونما ہونے کے بعد جہاں دنوں تک لوکل اور نیشنل ٹی وی چینلوں پر یہ بحث کا مدعا بنے رہتے ہیںوہیں گائوں دیہات میں ہمارے چینل اور اخبارات دوسرے تیسرے پیچ پر اسے ایک خبر دکھا کرپھر بھول جاتے ہیں ۔ایسا ہی ایک واقع مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع رام بن کے سب ضلع بانہال میں پیش آیا جہاں ایک لڑکی کو پیار و محبت کے جھانسے میں پھنسا کر اس سے جنسی تعلقات قائم کر کے جب وہ حاملہ ہو گئی تواسے بہت ہی شاطر طریقے سے بے رحمی سے قتل کر دینے کی ایک واردات گذشتہ دنوںسامنے آئی ہے۔ تاہم اس معاملے میں پولیس اور اور مقامی میڈیا نے قابل ستائش رول نبھا کر ملزمین کو 48گھنٹوں کے اندر گرفتار کر کے اس اندھے قتل کو طشت از بام کر دیا ۔
ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمان کے مطابق اس طرح کا قتل انکے پولیس ریکاڑ میں اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے۔ اُنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس میں جو بھی ملوث ہو گا، اُسے بخشا نہیں جائے گا ۔میڈیا کو اس واقع کی بریفنگ دیتے ہوئے اُن کی آنکھیں بھی چھلک گئی اور جذباتی انداز میں اُنہوں نے کہا کہ شاید انسانی معاشرے میں لڑکیوں کی قدر نہیں ۔
لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا سماج کس طرف جا رہا ہے جہاں انسان خاص کر لڑکی کی کوئی قدر نہ رہی ہے۔ سماج کے ٹھیکیداروں ، سماجی کارکنوں ، مذہبی رہنمائوں،انسانی حقوق کے علم برداروں اور والدین و رشتہ داروں ، ہمسائیوں اور گھر والوں کی کیا یہ ذمہ داری نہیں بنتی ہے کہ وہ اپنے اڑوس پڑوس میں ایسے جرائم پر نظر رکھیں ۔ والدین اپنے بچوں کے تئیں اتنے بے فکرکیوں، اور بچوں کی پرورش اور انہیں اخلاقی و دینی تعلیم سے سرفراز کرنا کیا والدین کی ذمہ داری نہیں بنتی؟ ۔ اپنے بچوں کو ٹائم نہ دینا ،انہیں بُرے اور بھلے کی تمیز نہ سکھانے کے لئے آخر کار ذمہ دار کون ؟ تمام چیزوں کو پولیس کے لئے چھوڑ دینا کہاں کی سمجھداری ہے ۔ بچے یا بچی سے کسی غلطی کا ارتکاب ہونا اور اس غلطی کا سُدھا ناکیا والدین اور سماج کے ٹھیکیداروں ، رشتہ دوران و ہمسائیوں کا فرض نہیں ؟۔یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جس پر خود احتسابی کی ضرورت ہے ۔اس لڑکی کی ہی مثال لیجئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ اگر بروقت انہیںاس بارے میں مطلع کیا جاتا تو فون ٹریسنگ سے انہیں بروقت پکڑ کر اس کی زندگی کو بچایا بھی جا سکتا تھاکیونکہ متوفی لڑکی لگاتار دو دن تک جنگل میں اس درندہ صفت قاتل کے ساتھ گھومتی رہی لیکن ایک ماہ تک پولیس کو اس بارے میں مطلع تک نہ کیا گیا، نہ ہی گھروں والوں سے اور نہ ہی ان کے کسی رشتہ داروں یا ہمسائیوں نے اس بات کی زحمت گوارا کی کہ اس کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی جائے ۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور اپنے ارد گردیا سماج کے تئیں کتنے فکر مند اور سنجیدہ ہیں ۔
جدیدیت کے اس دور کے ساتھ جہاں انسان ترقی کے منازل طے کرتا جا رہا ہے وہیں انسان تیزی سے درندگی کا رخ بھی اختیار کرتے جا رہاہے اور اور اس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انسیانت مر رہی ہے اور سماج سو رہا ہے۔مذہبی رہنمائوں ، اساتذہ ، سماجی کارکنوں اور سب سے زیادہ والدین کو اپنے بچوں کی بہتر پرورش اور انہیں غلط اور صحیح کی پہچان دے کر انہیں اخلاقی تعلیمی سے سرفراز کرنا ہر کسی والدیں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے ۔اپنے بچیوں اور بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنا کیا والدین اور سماج کی ذمہ داری نہیں ۔ماں ، بہن بیٹیوں کی عزت اور عظمت کے بارے میں بچوں کو واقف کرانا سماج کے ہر فرد کا فرض ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے درندہ صفت انسانوں کے خلاف سخت سے سخت سزا کے بعد ہی ایسے جرائم اور گناہوں کو روکا جاسکتا ہے ۔ شہر اور دیہات کی طرف میڈیا اور پولیس کو یکساں رول نبھانا ہو گا ۔ سالہا سال عدالتوں میں ایسے کیسوں کو لٹکانے کے بجائے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر انکے فیصلے لئے جانے چاہئیں تاکہ خواتین کے حقوق اور ان کی عزت و آبرو کو بچایاجا سکے ۔ نوجوان لڑکیوں کو بھی ایسے واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ وہ انجان لوگوں سے دوستی کر کے ان کے جھانسے میں نہ پھنس کر اپنی زندگیوں کے ساتھ نہ کھلیں ۔ جبکہ آوارہ ،بد چلن اور ایسے درندرہ صفت انسانوں کو سبق آموز سزا دے کر دوسروں کو ایسے جرائم انجام دینے کی سوچنے پر بھی ان کا روح کانپ اُٹھناچاہئے۔
(کالم نویس سابق صحافی اور فری لانس رائٹر ہے ۔ )
رابطہ۔[email protected]،9858239083
گھر کی خوشحالی کیلئے مستحکم نظام لازمی!