آبی ذخائر میں سطحِ آب تشویشناک حد تک کم ، مزید کم ہونے کا امکان
سرینگر//جموں و کشمیر میں طویل خشک موسم کے نتیجے میں نومبر اور دسمبر کے پہلے دس دنوں میں 86فیصد بارش کی شدید کمی ہوئی ہے، جس سے دریاؤں، چشموں اور قدرتی ذرائع میں پانی کی سطح میں شدید کمی پیدا ہوگئی ہے جس سے نہ صرف آب رسانی کا نظام متاثرہورہا ہے بلکہ ماحولیاتی کارکنوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جارہی ہے ۔محکمہ موسمیات کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں یکم ومبر سے 9دسمبر کے درمیان صرف 6.1ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جبکہ اس مدت کے لیے عام اوسط 43.1ملی میٹر ہے۔یہ مجموعی طور پر 86فیصد کمی ہے جس میںجموں صوبہ میں 82.6فیصد اور کشمیر ڈویژن میں 82.1فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔گرمائی دارالحکومت سری نگر میں خسارہ 83.3فیصد رہا، جب کہ سرمائی دارالحکومت جموں میں یہ 71.5فیصد رہا۔کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی۔کولگام اور شوپیاں میں سب سے زیادہ خسارہ 90.5فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد گاندربل 88فیصد، بارہمولہ 87.7فیصد؛ بانڈی پورہ 81.5فیصد، بڈگام77.5فیصد، کپواڑہ 77.4فیصد، اننت ناگ 75.5فیصداور پلوامہ میں60.7فیصدبارشوں کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔جموں ڈویژن میں، کٹھوعہ اور کشتواڑ میں سب سے زیادہ خسارہ 100فیصدہے۔اس کے بعد راجوری میں93.5فیصد ،پونچھ90.4فیصد،ڈوڈ 90.2فیصد،سانبہ 88.0فیصد، ادھم پور83.1فیصد، رام بن 72.9فیصد اور ریاسی میں 31.2فیصدبارش کا خسارہ ریکارڈ ہوا ہے۔طویل خشکی نے آبی ذخائر کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔سنگم کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح صفر گیج سے نیچے گر کرمنفی 0.59فٹ ہوگئی ہے۔معاون ند یوںبشمول کھڈونی میں ویشو، کوکرناگ میں برنگی، ویری ناگ میں سیندرن اور ویتھ۔ویتاستو،ترال میں آری پل اور پلوامہ میں ٹونگری اور رومشی نالہ بھی معمول کی سطح سے بہت نیچے بہہ رہے ہیں اور یہاں تک کہ سوکھ گئے ہیں۔آزاد موسمی ماہر فیضان عارف کینگ نےبتایا کہ جہلم اور اس کی معاون ندیوں اور متعدد چشموں میں پانی کی سطح غیر معمولی طور پر کم ہوئی ہے۔اُن کا کہناتھا کہ سطح آب کم ہونے سے کسانوں اور ماحولیاتی گروپوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔اُن کاکہناتھا’’کشمیر میں تقریباً 40دنوں سے کوئی مضبوط مغربی ہوا ئوں کا مرحلہ نہیں آیا ہے۔ جو بھی سسٹم پہنچے وہ کمزور تھے اور معنی خیز بارش یا برف باری پیدا کرنے میں ناکام رہے‘‘۔انہوں نےمزید کہا ’’مناسب موسمی نظام کے بغیر، قدرتی ریچارج سست ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پانی کی سطح میں کمی آتی ہے جسے ہم پوری وادی میں دیکھ رہے ہیں ‘‘۔فیضان نے مزید کہا کہ “جموں و کشمیر میں نومبر اور دسمبر کے پہلے 10دنوں میں 86فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی، اگلے 10سے15دنوں میں کسی بڑے گیلے موسم کی توقع نہیں ہے جس کے نتیجہ میں پانی کی سطح مزید گرنے کا امکان ہے‘‘۔پانی کی سطح میں مسلسل کمی سے آب رسانی کا نظام متاثر ہورہا ہے۔چیف انجینئر جل شکتی کشمیر انجینئرراکیش کمار گپتا نے بتایا کہ سپلائی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرنے والے زیادہ تر قدرتی ذرائع بارش کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا’’جاری خشک موسم نے پانی کے کئی ذرائع کی پیداوار کو کم کر دیا ہے۔ بارش دوبارہ شروع ہونے کے بعد، ریچارج قدرتی طور پر ہو جائے گا‘‘۔گپتا نے کہا کہ جب کہ بعض علاقوں میں بہاؤ میں کمی دیکھی جا رہی ہے، محکمہ بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے۔پینے کے پانی کی دستیابی پر کچھ اثر پڑتا ہے، لیکن ہم اسے ٹینکرز کے ذریعے حل کر رہے ہیں۔ ہم ڈی سیز اور ڈویژنل انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ کر رہے ہیں، اور جہاں ضرورت ہو ٹینکرز فراہم کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر کوئی بڑی کمی یا بحران نہیں ہے‘‘۔