شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے زیر اہتمام یوم مادری زبان کی تقریبات کے سلسلے میں’’ خطہ ٔ پیر پنجال کی علاقائی زبانوں پر عربی کے اثرات ‘‘کے موضوع پر ایک روزہ ریاستی سیمینارکا انعقاد کیاگیا۔ عربی زبان چونکہ الہامی اور عالمگیر زبان ہے اور ا س کے لسانی وادبی اثرات دنیا کی تقریبا تمام بڑی زبانوں پر موجود ہیں۔خطۂ پیر پنجال کی علاقائی زبانیں یعنی گوجری، پہاڑی، کشمیری، اردو اور انگریزی ا بھی ن اثرات سے بے نیاز نہیں ہوسکیں۔یہ سیمیناردو نشستوں پر مشتمل تھا۔ جناب محمد اسحاق (رجسٹرار بی جی ایس بی یو) پروفیسر محمد اصغر ڈین اسکول آف میتھ میٹکل سائنسز، پروفیسر جی ایچ ڈار ، ڈین اسکول آف بائیو ڈائیورسٹی اسٹڈیز، پروفیسر شبیرشاہ ، پرنسپل ڈگری کالج راجوری اور پروفیسر شکیل رینہ پرنسپل ڈگری کالج تھنہ منڈی پہلی نشست اور جناب نثار راہی (پہاڑی ادیب) راجہ نذر بونیاری (پہاڑی ادیب) جناب امین قمر (گوجری ادیب) ڈاکٹر رفیق انجم اور ڈاکٹر شمس کمال انجم نے دوسری نشست کی صدارت کے فرائض انجام دئے۔صدر شعبہ عربی ڈاکٹر شمس کمال انجم نے اس نشست کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے سیمینار کے شروع میں زبانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی ایک مادری زبان ہوتی ہے۔ اور دوسری اکتسابی۔ زبانیں ملک وقوم اور سماج ومعاشرے کی تبدیلی سے بدلتی رہتی ہیں۔ سماج، معاشرہ ، رسم ورواج، حکمراں، تہذیب وثقافت ان تمام چیزوں کے اثرات زبانوں پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ صحرائی علاقوں کی زبانوں کی خصوصیات کچھ اور ہوتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں کی زبانوں کی خصوصیات کچھ اور تو دیہاتی زبانوں کی خصوصیات اور شہری علاقوں کی خصوصیات میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کا سیمینار یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب پروفیسر جاوید مسرت کی تحریک اور ڈاکٹر جاوید راہی چیف ایڈیٹرگوجری سیکشن جموں وکشمیر اکیڈمی کی معاونت سے انعقاد پذیر ہورہا ہے۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم نے بتایا کہ شیخ الجامعہ یہاں کی علاقائی زبانوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان زبانوں میں ریسرچ وتحقیق کا کام ہو۔ اسی حوالے سے گوجری پہاڑی ریسرچ سنٹر کا قیام بھی عمل میں آگیا ہے۔ڈاکٹر موصوف نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے سیمینار کی غرض وغایت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سیمینار اپنی نوعیت کا واحد اورمنفرد سیمینار ہے۔ اس موضوع پر ازیں قبل اس انداز میں تحقیقی بازیافت کی کوشش نہیں کی گئی اسی لئے انہوں نے خطۂ پیر پنجال کی علاقائی زبانوں پر عربی کے اثرات اور اس کے مختلف زاویوں پر کام کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے حال ہی میں اردو شعبے کو جوئن کرنے والے ریاست کے مشہور افسانہ نگار ڈاکٹر مشتاق احمد وانی صاحب کا بھی پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر وانی کی وابستگی سے اردو شعبے کو بہت رونق ملی ہے اور یہ اس کے لیے بڑی اعزاز کی بات ہے۔ اسی لیے روایت سے ہٹ کر ان سے خصوصی طور سے سیمنار کے دوسرے سیشن میں کہانی پیش کرنے کرنے کی دعوت دی گئی اور انہوں نے اپنی ایک خوب صورت کہانی سے سامعین کو لمحۂ فکریہ عطا کیا۔
سیمینار کا کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد پہلی نشست میں ڈاکٹر لیاقت نیر، گلشن رشید ، ڈاکٹر منظر عالم، جناب نثار راہی، ڈاکٹر رفیق انجم نے بالترتیب اردو ، کشمیری، عربی، پہاڑی اور گوجری زبانوں کی نشوونما پر بہت ہی تحقیقی اور پر مغز مقالے پیش کیے گئے اور سامعین کو ان زبانوں کی نشو ونما اور آغاز وارتقاء کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور یہ واضح کیا کہ کس طرح زبانیں کسی نہ کسی زبانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور مرور ایام کے ساتھ ترقی یافتہ بن کر عالمی زبان کا پیکر اخذ کرتی ہیں۔دوسری نشست میںقاضی نثار احمد (جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) ڈاکٹر محمد اعظم، ارشد احمد بٹ، ڈاکٹر رومینہ رشید، ڈاکٹر شمس کمال انجم، ڈاکٹر عقیلہ نے بالترتیب پہاڑی ، گوجری، کشمیری، انگریزی اور اردو زبانوں پر عربی کے اثرات پر سیر حاصل بحث کی۔ ان مقالہ نگاران نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح عربی زبان ان تمام زبانوں پراثر انداز ہوئی ہے اور کس طرح سے ہزاروں اور سینکڑوں کی تعداد میں عربی کے الفاظ وتراکیب اور محاورے وجملے بھی ان زبانوں میں اس طرح شامل ہوگئے ہیں کہ ان کا اخراج کبھی بھی کسی طور ناممکن ہے۔پروفیسر شبیر شاہ نے اپنے خطبے میں فرمایاکہ خطۂ پیر پنجال کی ان تمام زبانوں پر عربی کے اثرات تو بہر صورت پائے جاتے ہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے مگر تحقیقی انداز میں علمی اسلوب میں اس پر سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت تھی جس میں آج کے سیمینار کے ذریعے ایک اہم پیش رفت کا آغاز ہوا اور اس کے لیے انہوں نے شعبے کو مبارکباد دی۔ پروفیسر شکیل رینہ نے تفصیل سے زبانوں کی نشو ونماپر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ انگریزی یا دیگر عالمی زبانوں کے اثرات اپنی جگہ ان پر محقق اپنے انداز میں سوچتااور کام کرتا ہے لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مادری زبانوں میں ان عالمی زبانوں کی لفظیات کے متبادل کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کریں نہ کہ ہم ٹی وی، ریڈیو فیس بک، موبائل، لیپ ٹاپ جیسے الفاظ پر خود کو منحصر کریں بلکہ ان کا متبادل اپنی زبانوں میں تلاش کریں۔پروفیسر ڈارنے بہت تفصیل سے زبانوں کے تعلق سے گفتگو کی اور عربی شعبے کو مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر محمد اصغر نے کمپیوٹر کی زبان اور اصلی زبانوں کے باریک فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سے زبان بنتی ہے خواہ وہ ٹکنالوجی کی زبان ہو یا بولنے والی۔ جناب محمد اسحاق نے بھی اپنے خطبے میں شعبے کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ اپنی مسرت کا اظہار کیا کہ عربی شعبہ ڈاکٹر شمس کمال انجم کی سربراہی میں روز افزوں ترقی کے مراحل طے کررہا ہے۔ جناب راجہ نذر بونیاری نے مادری زبان کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوسری زبانوں سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی مادری زبان کے دامن سے ہمیشہ وابستہ رہنا چاہیے ۔ انھوں نے عربی اور ان علاقائی زبانوں کے اثر وتاثیر پر بھی مختصرا روشنی ڈالی۔ جناب امین قمر نے گوجری کے حوالے سے بڑا پر مغز خطبہ دیا اور بڑی اہم لسانی باریکیوں سے روشناس کرایا۔جناب اسرار غوث اور کرنل کے کے ڈوگرا نے بھی اس موقع پراظہار خیال کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کے صدورجناب مبشر ملک،جناب ای ڈی گوہر، ڈاکٹر پرویز عبد اللہ،جناب دانش رینہ، ڈاکٹر قمر رئیس، ڈاکٹر ماجد ملک، جناب احمد ریاض، جناب گر پریت سنگھ، جناب خلیل احمد کے علاوہ یونیورسٹی کے مالی مشیر جناب قریشی صاحب ، طلبہ وطالبات اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے دوسرے شیشن کی نظامت کے فرائض انجام دیے ۔ڈاکٹر لیاقت نیر نے شکریے کی رسم ادا کی۔ ��