عربوں کیلئے پریشانی ،ایران کیلئے راحت رسانی
قریب چار دن تک 3 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج منظر عام پر آنے کے انتظار میں امریکیوں نے اپنی سانسیں تھام کررکھیں۔ یہ اعصاب شکن اضطراب بالآخر 7نومبر کو دوپہر سے قبل اُس وقت ختم ہوا جب صدر ٹرمپ کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے اپنی جائے پیدائش پنسلوینیا کے20الیکٹورل ووٹ لیکر کامیابی کا جادوئی آنکڑا پار کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بائیڈن کی فتح کی خبر دنیا تک پہنچی تو ٹرمپ کو گالف کورس میں پایا گیا۔
تاہم ریئلٹی شو ٹیلی ویژ ن پیش کارڈونالڈ ٹرمپ،جو2016میں حادثاتی طور صدر بنے تھے ،ابھی بھی بائیڈن کی فتح اور اپنی شکست تسلیم کرنے سے منکر ہیں۔ اس کالم کی تحریر تک ٹرمپ ابھی بھی اصرار کر رہے ہیں کہ ان کے حریف نے ان سے انتخاب کو "چوری" کیاہے اور وہ اپنی شکایات کو امریکی عدالت عظمیٰ تک لے جانے کی دھمکی دے رہا ہے جہاں انہوںنے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی پسند کے جج لگائے ہیں تاکہ وہ ایسی ہنگامی صورتحال میں اُن کی پسند کے فیصلے سنائیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت بالکل اسی طرح ختم ہورہی ہے جس طرح اس کی شروعات ہوئی تھی: امریکی منظرنامے کو تقسیم اور پولرائز کرکے۔اُوول آفس میں اپنے پہلے ہی لمحے سے ٹرمپ کبھی بھی تمام امریکیوں کے صدر نہیں تھے۔ انہوں نے سفید فام بالادست پرستوں کے مسلسل اس ناکارہ ایجنڈے کوفروغ دینے کی تنگ ذہنیت اور تعصب پرستی سے باہرآنے سے انکار کردیا ، جواُس رنگ کے لوگوں کے حق میں امریکہ کے تیزی سے بدلتے ہوئے آبادیاتی نقشہ سے خطرہ محسوس کرتے ہیں جن سے ٹرمپ کے ذہنی مریض ماہرین نفرت کرتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے حامیوں اور ان لوگوں،جن کووہ 'دشمن' مانتے تھے ، کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش نہیں کی ۔
ٹرمپ کی نفاق پسندی صرف گھر کے محاذ تک ہی محدود نہیں تھیں ۔اُن کی ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘کی فرسودہ اصطلاح امریکہ کے روایتی حلیفوں کی تحقیر کی وجہ بن گئی اور نتیجہ کے طور پر امریکہ کی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور وابستگیاں ہوا میں تحلیل ہوگئیں۔ انہوں نے ڈھٹائی سے نیٹو کے اتحادیوں کو گمراہ کیا، موسمیاتی تبدیلی پر پیرس معاہدے سے الگ ہوگئے،یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے منکر ہوگئے جس کو ان کے پیشرو اوباما نے بڑی محنت کے ساتھ یقینی بنایا تھااور ایشیاء اور بحر الکاہل میں اقتصادی تعاون سے متعلق ایک کثیرالجہتی معاہدے سے بھی الگ ہوگئے۔
اسرائیلی سانڈکے سائے میں کراہتے ہوئے فلسطینیوں کے جذبات کو صریحاً مجروح کرتے ہوئے ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون اور ان پر امریکی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کردیا۔
لیکن ٹرمپ کی انتہائی پستی کا مقام تب آیا جب ٹرمپ کورونا وباء سے لڑنے کی اپنی منصبی ذمہ داری سے بھاگ گئے۔ کسی دوسر ی غلط حرکت سے کہیں زیادہ یہ اس وباء کے خلاف امریکی لڑائی کی قیادت کرنے میں ناکامی تھی جو بائیڈن کے خلاف اُن کی ہار کی وجہ بن گئی۔
یہاں تک کہ کوویڈ۔19 کی وجہ سے قریباًاڑھائی لاکھ امریکی جانوں کے اتلاف کے باوجود ، ٹرمپ اپنی تاریخ کی اس تاریک ترین گھڑی میں امریکی لڑائی کی قیادت کرنے میں غیر معمولی ناکامی کے بارے میں نادم نہیں ہیں۔
اس نے چین کے ساتھ مبینہ طور پر شراکت داری پر صرف عالمی ادارہ صحت کے تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دیکر اس دارہ پر اپنا غصہ نکال پر زخموں پر نمک پاشی ہی کی۔اس کے برعکس بائیڈن نے کوویڈ۔19 کی وباء سے لڑنا اپنی اولین ترجیح قرار دیا ۔ اپنی جیت کا جشن منانے کے لئے اپنے آبائی شہر ولمنگٹن ڈیلویر میں ہونے والے عظیم پروگرام میں بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ اس وبا سے نمٹنے کے لئے منصوبہ تیار کرنے کی خاطر اعلی سائنسدانوں اور ماہرین کی ایک ٹیم کو نامزد کریں گے۔
لہٰذا جو بائیڈن اپنے اُوول آفس کی دہلیز پر ٹرمپ کے کچرے کے بوجھ کے ساتھ خود کو پارہے ہیںجس کو اسے عوامی امریکی عوام کے اُن زخموں کا مرحم کرنے سے پہلے ہی صا ف کرنا ہوگا جو بقول عالمی شہرت یافتہ ماہر لسانیات اور سماجی کارکن نوم چومسکی انسانی تاریخ میں حکمرانی کرنے والے سے ’’سب سے بد ترین مجرم‘‘سے دئے ہیں۔
’سب سے عظیم تقسیم کار‘ ٹرمپ اپنے پیچھے ایک ایسے ملک کی میراث چھوڑ کر جائیں گے جس میںاُن کی نفرت اور تفریق کے تنگ نظرایجنڈے کی وجہ سے نسلی اور معاشرتی دراڑیں پڑچکی ہیں اور جو انتہائی حد تک تقسیم ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب بائیڈن کے لئے صفائی ستھرائی کا ایک بڑا کام ہوگا ، جس نے 74.4 ملین مقبول ووٹوں کی تعداد کے ساتھ امریکی جمہوریت کی تاریخ میں پہلے ہی ایک انوکھی تاریخ رقم کردی ہے۔ نیز ان کی نائب صدر منتخب ، کملا ہیرس بھی تاریخ بنا رہی ہے جو مخلوط جمیکا اور ہندوستانی خون کی ہے۔ وہ نہ صرف پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں بلکہ اس رنگ کی بھی پہلی خاتون بن گئیں جو امریکی قیادت کی انتہا اور معراج تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔
ملک میں بائیڈن کی پہلی ترجیح نسلی اور معاشرتی تفریق کو کم کرنا اوردراڑوں کو پورے جوش و جذبہ سے بھرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹرمپ کے برعکس پہلے ہی نہ صرف سرخ (ریپبلکن اکثریت) ریاستوں بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تمام لوگوں کا صدر رہنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے ایک مرحم کار اور متحد کارہونے کا وعدہ کیا ہے اور اُس امریکی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کیا ہے جس کو ٹرمپ نے پامال کیاتھا۔
بیرون ملک ، خارجہ پالیسی میں تبدیلی آئے گی لیکن اتنی تیزی سے نہیں۔ نیٹو اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی تجدید کرنے کو اعلیٰ ترجیح حاصل ہوگی اورساتھ ہی افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین جنگ کو ختم کرنا ہی اولین ترجیح ہوگی۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا کہنے میں آتا ہے۔
ٹرمپ شاطرانہ چال کے تحت اپنی غنڈہ گردی ،دھوکہ بازی اور جارحانہ مزاجی کو بروئے کارلاتے ہوئے بہت سے کاموں میں گزرے۔تاہم افغانستان ایک ایسا گڑھا مردہ ہے جو ایک ایماندار اور سیدھے رہنما کی حیثیت سے بائیڈن کی اختراعی صلاحیت و ذہانت اور ایمانداری کوگہری چوٹ لگا سکتا ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر اور ہندوستان ثانوی طور پر افغانستان کے تناظر میں بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے ریڈار پر جگہ پانے کیلئے جتن کریں گے۔ اس کے برعکس اپنی انتظامیہ کی سخت کوششوں کے باوجود ٹرمپ کو ہچکچاہٹ سے اس کا اعتراف کرنا پڑاکہ افغان کے آتش فشاں یا شاہ بلوط کو آگ سے نکالنے کے لئے پاکستان کے مددگار ہاتھ کی ضرورت ہوگی۔ لیکن ٹرمپ کی حکومت کے تحت واشنگٹن اگر چہ افغان طالبان کے ساتھ حتمی تصفیہ کے عمل میں دہلی کو شامل نہ کرسکالیکن اس نے امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو شرط بنانا اپنی پالیسی ظاہر کیا
لیکن اگرچہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اپنے نشیب و فراز اور اتار چڑھائوکے ساتھ قائم رہ سکتے ہیں جہاںپاکستانیوں کو اس تاریخی حقیقت کی تھوڑی سی یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ ڈیموکریٹس کی زیرقیادت امریکی انتظامیہ روایتی طور پر ریپبلکن زیرقیادت حکومت کے مقابلے میں ان کے حق میں کم مائل رہی ہے ، لیکن اس کے برعکس بھارت کو تازہ یقین دہانی کرائی جاسکتی ہے کہ اس کے ساتھ قریبی تعاون کا حصول واشنگٹن کے لئے ایک اسٹیبلشمنٹ اور غیر جانبدارانہ و غیر جماعتی ترجیح ہے۔
ہندوستانی قائدین اور پالیسی ساز شاید اسے آسانی سے قبول نہیں کریں گے لیکن امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی اپنی ایک تاریخ ہے۔عالمی امور میں ناوابستہ تحریک کی قیادت کے زمانہ عروج میں بھارت کو ایک موقع ملنے پر واشنگٹن کے بینڈ ویگن میں شامل ہونے سے خائف نہیں تھا۔ اس کی ایک نمایاں مثا ل ناوابستہ تحریک کے ایک سب سے بڑے وکیل اور علمبردار پنڈت نہرو تھے جو اُس وقت امریکہ کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ طے کرنے کے خواہشمند تھے جب 1962میں چین نے نیفا میں حملہ کیا اور نہرو نے صدر کنیڈی سے اسلحہ کی درخواست کی۔
بلاشبہ انتہائی محتاط بائیڈن وزیر اعظم مودی کے ساتھ اتنے چپٹے نہیں ہوں گے جتنے کہ ٹرمپ ہوتے تھے لیکن امریکہ تمام امکانات میں بیجنگ کے ساتھ اپنے بالادستی اور چودھراہٹ کی لڑائی میں چین کے جوابی وزن کے طور پر ہندوستان کو پراموٹ کرتا رہے گا۔ دہلی کے لئے یہ فکر کرنے کی شاید ہی کوئی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے دوطرفہ تعلقات میں جو گرم جوشی پیدا کی تھی ،وہ بائیڈن کے عہد صدارت میں ٹھنڈی پڑ جائے گی۔
البتہ ، عرب شیخوں…سعودی اور دوسرے خلیجی حکمرانوں کے لئے کافی تشویش کی وجہ ہے ، جو ایک سخت مزاج ٹرمپ کے ساتھ پینگیں بڑھانے میں بہت ہی راحت محسوس کرتے ہیں ۔ایک کاروباری یا تاجر ، جو اب واشنگٹن سے پسپائی اختیار کر رہا ہے ، ایران سے نفرت میں اس قدر اندھا ہو گیا تھا کہ وہ عرب طاقتوروں اور ظالموں کی آبیاری کے لئے کچھ بھی کرتا۔ اس کی ایک عمدہ مثال محمد بن سلمان ہیں جو سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے زار کی طرح ہیںہے ، جوعملی طورپر ٹرمپ کے دور اقتدارمیں قتل کے مقدمہ سے بچ گئے۔بائیڈن کے دور صدارت میں وہ اتنے خوش قسمت نہیں ہوسکتے ہیں۔
بائیڈن کے دور صدارت میں ایران امریکہ کے ساتھ اپنے خراب تعلقات کو دوبارہ معمول پر لاسکتا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کا اشارہ کیا ہے جس میں ٹرمپ کے ذریعہ خلل پڑا تھا۔ ایک نیا کھیل شروع ہوچکا ہے اور ایک نئی صحر طلوع ہونے کو ہے!۔
(کرامت اللہ خان غوری ایک تجربہ کار کیریئر ڈپلومیٹ ، مصنف اور متعدد ممالک (ہندوستان نہیں) میں پاکستان کے سابق سفیررہ چکے ہیں ، جن کا تاریخ کے بارے میں اہم نظریہ ہے۔ آپ اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ مضمون کو بلین پریس کے شکریہ کیساتھ شائع کیاجاتا ہے)
رابطہ ای میل۔[email protected]
مترجم ۔ریاض ملک