تھنہ منڈی // با با غلام شاہ بادشاہ سکا لر شپ سکینڈل کی تحقیقات کررہی چار ممبری خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے انکوائری مکمل کرنے تین ماہ کی مہلت مانگی ہے تاہم سپیشل ایڈیشنل موبائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان نے 15مزید بڑھاتے ہوئے دو ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔واضح رہے کہ ڈی وائی ایس پی شازیہ میر کی سربراہی میں تحقیقات کررہی چار ممبری کمیٹی کو سپیشل ایڈیشنل موبائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان کی طرف سے دوبارہ تحقیقات کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا اور عدالت ہذا نے 15 فروری 2018 کو چالان پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔جمعرات کو دی گئی یہ مدت پوری ہوگئی تاہم تحقیقاتی ٹیم رپورٹ پیش نہیں کرپائی اورٹیم نے عرضی دائر کرتے ہوئے اپیل کی کہ تحقیقاتی عمل کو مکمل کرنے کیلئے تین ماہ کی مہلت دی جائے لیکن سپیشل ایڈیشنل موبائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان نے دو ہفتہ کا وقت دیتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی ہے کہ پندرہ دنوں کے اندراندر تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔واضح رہے کہ 2015 میں با با غلام شاہ بادشاہ یو نیورسٹی راجوری میں طلباء کے سکالر شپ سکینڈل کا معاملہ پیش آیا اور یہ الزام عائد کیاگیاکہ سکالر شپ کے طور پر دیئے جانے والی لاکھوں کی رقوم کا خرد برد کیاگیاہے ۔اس حوالے سے پولیس تھانہ درہال میں ایف آئی آر زیر نمبر 46 زیر دفعات 109/420/467/468/471/409کا کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ۔ لگ بھگ تین سال کی تحقیقات کے بعد تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 12دسمبر 2017کو عدالت تھنہ منڈی میں چالان پیش کیاجس میں آصف اقبال ولد عبدالرشید ساکنہ چوکیاں تحصیل درہال، سجاد احمد ولد محمد رفیق سکنہ تھنہ منگ تحصیل درہال، منظور حسین ولد محمد شفیع سکنہ گھمبیرمغلاں منجا کوٹ اور کلبھوشن کھجوریہ ولد شیو رام کھجوریہ ساکنہ گھگوال سانبہ کو ملزم ثابت کیا گیا ۔ملزمان کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ زبیر عثمان نے ایڈیشنل سپیشل مو بائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی کو دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمہ میں گواہان کو ہی ملزم بنا کر عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم نے اسکالر شپ اسکینڈل میں ملوث افراد کو باہر نکال دیا ہے جس پر ایڈیشنل سپیشل مو بائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان نے مقدمہ کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا اور یہ ہدایت دی تھی کہ ایک ماہ کے اندرتحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ا صل ملزمان کی نشاندہی ہوسکے ۔ اس سکینڈل کی تحقیقات ڈی وائی ایس پی شازیہ میر کی سربراہی والی ٹیم کررہی ہے جس میں ایس ایچ اوراجوری طاہر یوسف ،اے ایس آئی خورشید احمد اور ہیڈ کانسٹبل محمد اقبال شامل ہیں ۔