جنگلاتی رقبے میں کمی اور انسانی مداخلت کا نتیجہ
بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں گزشتہ دس برسوں کے دوران جنگلی جانوروں کے انسانوں پر حملوں اور رہائشی علاقوں میں داخل ہونے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے لے کر اگست 2025 تک جنگلی جانوروں کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔سرکاری دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان10برسوں میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں جہاں10شہری لقمہ اجل بنے وہیں52زخمی ہوئے۔اس مدت میں قریب1949جنگلی جانور رہائشی علاقوں میں داخل ہوئے۔مالی سال 2015-16میں جنگلی جانوروں کے 88 واقعات درج ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ2016-17میں واقعات کی تعداد بڑھ کر 112 ہو گئی، جس دوران ایک شخص کی موت اور 7 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق 2017-18میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور کل 131 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے،تاہم2018-19 میں 104 واقعات درج ہوئے، جن میں ایک ہلاکت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کا اندراج کیا گیا۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق2019-20کے دوران جنگلی جانوروں کے 147 واقعات رپورٹ ہوئے، اگرچہ اس برس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ 2020-21میں واقعات کی تعداد 74 رہی، اس دوران بھی کسی موت کی اطلاع نہیں ملی لیکن 6 افراد زخمی ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق 2021-22ایک تشویشناک سال ثابت ہوا، جب جنگلی جانوروں کے واقعات اچانک بڑھ کر 380 تک پہنچ گئے۔ اس سال 2 افراد کی جان گئی جبکہ 7 افراد زخمی ہوئے۔ سال2022-23میں 277 واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم اس برس کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، البتہ ایک شخص زخمی ہوا۔محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق سال2023-24میں جنگلی جانوروں کے 218 واقعات درج ہوئے، جن میں 2 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔گزشتہ سال 2024-25 میں 309 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 2 افراد کی موت اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26میں اگست 2025 تک جنگلی جانوروں کے 109 واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق جنگلی جانوروں کا مسلسل رہائشی علاقوں میں داخل ہونا جنگلاتی رقبے میں کمی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، خوراک کی کمی اور انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ ماہر جنگلی حیات ڈاکٹر عمر نذیر کا کہنا ہے کہ جنگلات اور باغات کے درمیان خالی علاقہ نہ ہونا اور زرعی زمین کے استعمال کی تبدیلی ، دیہی اور نیم شہری علاقوں میں روایتی فصلوں (دھان) باغبانی (میوہ، زیادہ تر سیب) میں تبدیل ہونا شامل ہیں کیونکہ یہ ریچھوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے جن کو جنگل کے بجائے باغات میں اچھے معیار اور بڑی مقدار میں کھانا ملتا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ تیندوے کو2چیزوں کی ضرورت ہے اور وہ،پناہ اور کھانا ہے، انہیں جہاں پر بھی یہ ملتا ہے ان کی افزائش وہاں ہوتی ہے۔ زرعی یونیورسٹی میں شعبہ جنگلی حیاتیات شعبے سے وابستہ ڈاکٹر خورشید کا کہنا ہے کی شہری بستیوں کے نزدیک قائم کی جا رہی نرسریاں تیندئوں کو پناہ لینے کیلئے اچھا کردار کرتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ شہری تیندوے ہیں اور آوارہ کتوں کی شکل میں انہیں آسان غذا میسر ہیں،جبکہ انہیں قابو میں کرنا ضروری ہے،کیونکہ یہ فطرتی ماحول کا حصہ نہیں ہے۔’’ وادی میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم آرائی میں ہلاکتوں سے متعلق ایک تحقیق میں 10سالہ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانوں و جانوروں کی تصادم آرائی میںریچھ سب سے زیادہ ذمہ دار تھا جس کے بعد تیندوا جبکہ بندر اور سرخ لومڑی کے حملے کم عام اور مہلک تھے اور تیندوئوں کے حملوں میں اموات سب سے زیادہ تھیں۔