فکر انگیز
ڈاکٹر عائشہ خان
نا ہونے سے پہلے ناممکن سا لگا، مجھے ہر کام مشکل سالگا !انسان ایک نا معلوم بُلبلے کے مانند پھڑ پھڑاتا رہتا ہے ، پھر مزید پھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ چل پڑتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھولنے میں اتنا مگن ہو جاتا ہے کہ وہ ختم ہو جاتا ہے اور ایک بُلبُلہ ویسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کو مٹا کر دوسرے بلبلوں میں شامل ہو کر اُن کو بڑھنے میں مدد کرتا ہے، حتیٰ کہ اُس کی ہستی ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کا پیدا کر دہ بُلبلہ پھر اس سےبُلبلے اس کی نشانی بن کر اس کی ہستی کے معنی کو برقرار رکھتے ہیں۔ خوب شعر کہا اقبال نے ؎
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
ایک بُلبلہ مانند انسان وہ جو خودغرض رہتا ہے، اپنے بارے میں سوچتا ہے ،فقط وہ کھا کھا کر اتنا پھولتا ہے اپنی اَنّا میں، اکڑ میں ،بڑا سمجھنے میں کہ ہاں میں کچھ ہوں۔ میرا کچھ عہدہ ہے یا میں عہدہ میں بڑا ہوں ۔ آخرت کے جہاں کو بھلا بیٹھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے ،وہ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا ۔اس تکبر میں وہ خدا کو تو مانتا ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ وہ تو خود خدا بن بیٹھا ہے ۔اپنی نفس کا ، اپنی اَنا کی تسکین کی غلامی کا، حتیٰ کہ وہ قبر میں جا پہنچتا ہے اور یوں اس کی خود پسندی ،بد اخلاقی، اُس کی ہستی ہمیشہ کے لئے مٹا دیتی ہے ۔اب چلے چلتے ہیں اُس دوسرے بُلبلے کی جانب ،جو دنیا میں رہتا تو ہے لیکن دنیا اُس کے اندر نہیں رہتی ۔ اس کو دار فانی یاد ہے ۔ جو اس کے قلب کو فرحت اور اس کو خود اعتمادی اور سکون بھی فراہم کرتی ہے۔ اس نے اپنے حسن اخلاق اور خوش مزاجی کے دم پہ اتنی عزت و محبت پائی کہ بھلا ہی اس کی ہستی مر مٹ جائے یا اس کا وجود ختم ہی کیوں نہ ہوجائے لیکن اس نے جو اپنے پیچھے شمع جلائی ہے ،وہ اس کو کبھی ختم ہونے نہیں دیگی۔اس نے کو اپنا پور پور اپنے رب کائنات کے حکم کو ماننے میں اس کی جدوجہد میں ڈال دیا ۔ جس کی بدولت وہ آگ کا ایندھن بننے سے بچا لیا جائے گا۔ کیا ہی فرمان ہے میرے رب کائنات کا :’’جو آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، وہ ہی اصل کامیاب ہوا۔‘‘اس بُلبلہ کو یاد تھا بھلا ہی اپنے آپ کو مٹا ہی دوں، لیکن یہ دنیا فانی ہے جو مجھے ایک ابدی دنیا کی طرف لے کر جائےگی۔ پھر وہاں کوئی نا انصافی، حکم عدولی نہ ہوگی۔ مجھے اس سے کہیں زیادہ عطا کر دیا جائےگا ۔ وہ اپنا نشان چھوڑ گیا ہمیشگی کے لئے، اس کے اخلاق قائم رہے ہمیشہ۔ ربّ اپنے حقوق پر تو ایک طرف کو معاف کر بھی دے ، لیکن لوگوں کے حقوق تو لوگ ہی کریںگے۔اگر آپ اور میں اس بُلبلہ سے سیکھ لیں کہ اپنے کو بھول کر اور یہ یاد رکھ کر کہ میں بس مٹی ہوں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ جتنا چھوٹا سمجھیں گے ، اتنا ہی نام ہوگا۔
دنیا میں تھی تو کچھ اولِ کام ہوگا ۔تو قصہ کُل یہ ہے کہ وہ اپنی ہستی کو دوسروں میں ڈھونڈنے والا نرم دل رکھنے والا ،وہی نا معلوم بُلبلہ آج بھی دلوں میں معلوم ہے ۔ہر دل عزیز، زندہ و جاوید،کیا ہی عمدہ زندگی پائی اس بُلبلہ نے ۔