سرینگر//اینٹی بائیوٹکس کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے عالمی دن کے موقعہ پر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے اینٹی بائیوٹکس ادویات کے منصفانہ استعمال پرزوردیا ہے۔ایک بیان میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس ادویات کانامعقول استعمال وادی کشمیرمیں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف عوام میں مدافعت میں اضافہ کی بڑی وجہ ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ دوتہائی سے زائد اینٹی بائیوٹک ادویات وادی میں غیرضروری طور تجویز کئے جاتے ہیں جووائرل انفیکشن ہوتے ہیں یاجن کا انفیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ ڈاکٹر کے پاس زکام یافلو کے علاج کیلئے جائیں اورآپ اینٹی بائیوٹکس کی تجویز ساتھ لے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہربار جب مریض کو بخار ہوتا ہے تو اُسے اینٹی بائیوٹکس دیئے جاتے ہیں۔ہربخار انفیکشن کا نتیجہ نہیں ہوتا ہے اوراس کے لئے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ وائرس سے ہونے والے اسہال،گلے کی خراش،کان یاناک سے پانی کااخراج،کیلئے اینٹی بائیوٹک دیئے جاتے ہیں ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ضابطے نہ ہونے کی وجہ سے بغیر نسخہ کے بھی کیمسٹ کی دکان سے لوگ اینٹی بائیوٹک ادویات خرید سکتے ہیں۔دوافروش تھکاوٹ،جسمانی درد،اینٹھن،سردردہر کسی مرض کیلئے اینٹی بائیوٹک تھمادیتے ہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ اسپتالوں میں مریضوں کو اینٹی بائیوٹک ان کے بیکٹیریل انفیکشن کی معقول جانچ کے بغیر دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے نامعقول اور بلاجواز استعما ل نے کشمیرکے اسپتالوں کو مہلک بیکٹیریائوں کی آماجگاہ بنایا ہے جوتمام قسم کے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت رکھتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ 80فیصد سے زیادہ بیکٹیریااینٹی بائیوٹکس کے آخری قسم کے خلاف بھی مدافعت رکھتے ہیں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ارشدعلی نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت ایک صدی کی ادویات میں ہوئی ترقی کوکمزور بناتاہے۔بیماریاں جو پہلے ہمارے اینٹی بائیوٹکس سے ٹھیک ہوجایاکرتی تھیں ،اب ان کا علاج ہی نہیں ہوتا کیوں کہ ان پر ضدانفیکشن ادویات کااثر ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے بغیر کینسر کاعلاج،اعضا کی پیوندکاری اور معمولی جراحیاں ناممکن بن جائیں گی اور مستبقل میں ہم کھانسی یا معمولی خراش سے مرجائیں گے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر ریاض احمدڈگہ نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے بارے میں ایک جامع اور اپ ڈیٹ پالیسی کی ضرورت ہے اور ہمیں گہرائی کے ساتھ اسپتالوں میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کی نگرانی کرنی ہوگی،تاکہ ان ادویات کا منصفانہ استعمال ہو۔