عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر کے صدراور ممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) ست شرمانے کل سرینگر میں پارٹی کارکنوں کی ایک میٹنگ کی صدارت کی تاکہ تنظیمی امور کا جائزہ لیا جا سکے اور جاری پروگراموں پر رائے حاصل کی جا سکے۔ ست شرما نے پارٹی کے نچلی سطح پر ڈھانچہ کو مضبوط بنانے اور بوتھ سطح پر پروگراموں کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے جاری آؤٹ ریچ اقدامات پر تفصیلی رائے طلب کی اور پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ مرکزی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم کو تیز یں۔حال ہی میں پیش کیے گئے مرکزی بجٹ اور جموں و کشمیر میں این سی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، ست شرما نے کہا کہ جب کہ مرکزی بجٹ جامع ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے واضح وثن کی عکاسی کرتا ہے،این سی حکومت کے بجٹ میںسمت کا فقدان ہے اور اہم عوامی خدشات کو دور کرنے میں ناکام ہے۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ حقائق کی معلومات عوام تک پہنچائیں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پھیلائی جارہی غلط معلومات کا مقابلہ کریں۔کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے ست شرما نے کہا کہ پارٹی اہم بین الاقوامی تجارتی سودوں پر قوم اور جموں و کشمیر کے معصوم عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ ہے۔ سیب کی پیداوار کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ تقریباً 21 لاکھ ٹن سیب پیدا ہوتے ہیں، جبکہ ملکی ضرورت تقریباً 26 لاکھ ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 5 لاکھ ٹن ملک سے باہر سے منگوانا پڑتا ہے، اس میں سے امریکہ سے تھوڑی ہی مقدار میں درآمد کی جا رہی ہے، اور وہ بھی زیادہ نرخوں پر، جو حقیقت میں مقامی پیداوار کے مقابلے میں صفر ہے۔