سرنکوٹ// سرنکوٹ ہسپتال کے احاطے میں نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دیاگیاجس میں نیشنل کانفرنس کے سینئرنائب صدر و سابق وزیر سید مشتاق احمد شاہ بخاری نے بھی شرکت کی ۔ ملازمین نے کہا کہ اگر سرکار ان کے مطالبات پورے نہیں کرپائی تو پھرسرکاری ہسپتالوں میں الو بولیںگے اور طبی نظام کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ دوہفتے سے وہ پولیس کے ڈنڈے کھارہے ہیں مگر حکومت کو ٹس سے مس نہیں اور ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔انہوںنے کہاکہ وہ تبھی ہڑتال ختم کریںگے جب مطالبات پورے ہوںگے اور ان کیلئے جاب پالیسی مرتب کی جائے گی ۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے مشتاق بخاری نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ اب ہسپتالوں کو بھی اجاڑ دیاگیاہے جس سے مریض بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کوچاہئے وہ نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کیلئے جاب پالیسی مرتب کرے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ ان ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے طبی نظام مفلوج بن کر رہ گیاہے ۔بخاری کاکہناتھاکہ اگر حکومت ان کے مطالبات پورے نہیں کرسکتی تو سیدھا جواب ہی دے دے اور ان پر لاٹھی چارج نہ کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ان کے مطالبات پورے کرکے انہیں واپس کام پرلایاجائے تاکہ لوگوںکو طبی سہولیات فراہم ہوسکیںنہیں تو کل کے روز مریض بھی سراپااحتجاج ہوںگے۔