پرویز احمد
سرینگر //نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز کی دورزہ ہڑتال کے پہلے دن وادی بھر کے سرکاری اسپتالوں میں کام کاج متاثر ہوا ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز نے بدھ کو ہرٹال کے پہلے دن تمام ضلع اور سب ضلع اسپتالوں کے علاوہ چیف میڈیکل افسران کے دفتروں اور اولڈ سیکریٹریٹ سرینگر میں قائم ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیااور دھرنے دئے۔دھرنوں پر بیٹھے ملازمین نے مستقلی کی مانگ کرتے ہوئے ہماچل اور دیگر ریاستوں کی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز کو مستقل کرنے کی مانگ کو دوہرایا ۔ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالروف نے بتایا کہ این ایچ ایم کی مختلف سکیموں کے تحت کام کرنے والے 13ہزار سے زائد ملازمین نے بدھ کو کاج چھوڑ ہڑتال کے دن تمام ہسپتالوں میں احتجاجی دھرنے دئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہماچل ، دلی اور دیگر ریاستوں میں سرکار نے مختلف طریقے اپنا کر نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز کو مستقل کرنے کا عمل شروع کیا ہے لیکن جموں و کشمیر واحد ایک خطہ ہے جہاں پچھلے 15سال سے نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز مستقلی کی مانگ کررہے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے وعدوں اور تحریری ضمانتوں کے علاوہ عملی طور پرکچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ روف نے بتایا کہ دلی ، ہماچل اور دیگر ریاستوں میں سرکاروں نے نیشنل ہیلتھ میشن کے تحت کام کرنے والے ملازمین میں سبکدوش ہونے والے ملازمین کیلئے golden hand Shake سکیم متارف کرائی ہے جہاں سبکدوش ہونے والے نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلاز کو 25لاکھ روپے کی رقم فراہم کی جاتی ہے لیکن جموں و کشمیر میں سرکار خواب غفلت میں سوئی ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر سرکار نے سال 2019میں ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیکر ایم ایچ ایم ملازمین کی مستقلی کیلئے قوائد و ضوابط تشکیل دینے اور راہ ہموار کرنے کیلئے کمیٹی کو 6ماہ کے اندر اندر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن کورونا وائرس کی عالمی وباء اور دفعہ 370کی تنسیخ کی وجہ سے کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے اور آج 7سال بعد نیشنل ہیلتھ ملازمین پھر ہرٹال پر مجبور ہوئے ہیں۔ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو آئندہ دنوں میں احتجاج کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ادھرکپوارہ ضلع صدر مقام پر درجنو ں این ایچ ایم ملازمین چیف میڈکل آفیسر کپوارہ کے دفتر کے سامنے جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کی ۔این ایچ ایم ایمپلائز ایسو سیشن کے ضلع صدر کپوارہ وانی نصیر احمد نے خبر دار کیا کہ اگر ان ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ احتجاجی تحریک کومزید وسعت دی جائے گی ۔ادھرضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں این ایچ ایم ملازمین ضلع ہیڈکوارٹر واقع چیف میڈیکل آفیسر دفتر پلوامہ کے باہر جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کی۔اس موقعے پر این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر الطاف احمد بٹ نے کہا کہ این ایچ ایم ملازمین صحت کے اداروں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔