عظمیٰ ویب ڈیسک
لکھنؤ/دہلی کے لال قلعہ میٹرواسٹیشن کےنزدیک ہوئے دھماکے کے بیسویں دن پیر کو لکھنؤ میں ڈاکٹر شاہین کے گھر پر این آئی اے نے چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ٹیم نے شاہین کے والد سمیت بھائیوں سے بھی پوچھ گچھ کی۔اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے ڈیجیٹل مواد سمیت دیگر مشتبہ اشیاء کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ چھاپے کے وقت ٹیم کے ساتھ یوپی اے ٹی ایس بھی موجود تھی۔ این آئی اے کی ٹیمیں پیر کو قیصر باغ میں واقع قندھاری بازار میں شاہین کے والد کے گھر اور مڑیاؤں میں بھائی پرویز کی رہائش گاہ پر بھی پہنچیں۔اس سے پہلے 11 نومبر کو بھی جموں و کشمیر پولیس اوراے ٹی ایس نے وہاں چھاپہ مارا تھا۔ ذرائع کے مطابق، این آئی اے کے افسران نے شاہین کے والد سعید انصاری اور بڑے بھائی پرویز سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ ٹیم صبح 9:30 بجے گھر پہنچی اور تقریباً 11:42 بجے باہر نکلی۔ اس دوران گھر کے ہر حصے کی گہرائی سے جانچ کی گئی۔
اس دوران حفاظتی انتظامات کو دیکھتے ہوئے محلے کی گلی میں پولیس نے بیریکیڈنگ کرکے آمد ورفت تقریباً روک دی تھی۔ جبکہ افسران نے گھر کے اندر جاکر کئی کمروں کی گہری تلاشی لی۔ شاہین کے والد سعید انصاری کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آتا کہ ان کی بیٹی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتی ہے۔دوبارہ چھاپے کے بعد خاندان میں تناؤ اور بڑھ گیا ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہین کے خاندان سے پوچھ گچھ کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے اتر پردیش ایس ٹی ایف ،دہلی پولیس اور جموں و کشمیر پولیس بھی شاہین کے گھر پر معلومات جمع کر چکی ہیں۔ کلیدی ملزم مزمل سے نکاح کی بات سامنے آنے کے بعد سے ہی ایجنسیاں شاہین کے کردار کے بارے میں چوکس ہو گئی تھیں۔
این آئی اے کا لکھنؤ میں چھاپہ، ڈاکٹر شاہین کے والد اور بھائیوں سے پوچھ گچھ