راجوری+پونچھ//ایس ایس اے اساتذہ کے مطالبات پر راجوری اور پونچھ میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔رہبر تعلیم اساتذہ فورم پونچھ نے اپنی مانگوں کو لے کر زبردست احتجاج کیا اور ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جس میںبڑی تعداد میں ایس ایس اے اساتذہ نے شرکت کی۔احتجاج کی صدارت ایسوسی ایشن کے اہم رکن گلناز چوہان کر رہے تھے۔ مقررین نے کہا کہ ایس ایس اے اساتذہ کو کئی بار تین مہینے اورکئی بار چھ مہینے جبکہ کبھی ایک سال تک تنخواہ نہیں دی جاتی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایس ایس اے اساتذہ کی تنخواہیں ڈی لنک کی جائیں اورانہیں ریاستی بجٹ کے ساتھ رکھاجائے۔ان کاکہناتھا کہ اساتذہ کی ٹرانسفر پالیسی لاگو کی جائے جبکہ پانچ سالہ سروس کا فائدہ بھی دیا جائے۔ اس دوران اساتذہ کا وفد زونل ایجوکیشن آفیسر کنوئیاں سے بھی ملا جہاں انہوں نے ایک تحریری میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاستی سرکار نے ان کی تنخواہوں کو جلد ڈی لنک نہ کیا تو وہ سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اتنا پیسہ نہیں جس سے وہ اپنے اہل و عیال کو کھانا کھلا سکیں اور نہ ہی وہ اپنے والدین کیلئے ادویات مہیا کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکار نے قوم کے اس معمار کی تنخواہوں کو ڈی لنک نہ کیا تو وہ ریاستی سطح پر کام چھوڑ ہڑتال شروع کردیںگے۔ اس موقعہ پر سید مدثر شاہ،اجے رینہ،وجاہت حسین ،راج کمار، محمد شفیق،گورویندر سنگھ،منیر حسین،حسن محمد،راویندر کمار موجود تھے۔سرنکوٹ کے بفلیاز علاقے میں بھی رہبر تعلیم ٹیچر فورم کی جانب سے احتجاج کیاگیا ۔اساتذہ نے کہاکہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں اور سوتیلا سلوک ترک کیاجائے نہیں تو سنگین نتائج برآمد ہوںگے ۔مظاہرین نے کہاکہ وزیر تعلیم کی خاموشی قابل مذمت ہے اور اگر ان کی طرف سے کوئی مثبت رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کئے جائیں گے جس سے تعلیمی نظام درہم برہم ہو گا اور اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے 2003 میں ایس ایس اسکیم کے تحت ریاست میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی تھیں اور اب یہ سمجھ کے پرے ہے کہ موجودہ حکومت کیونکر ایس ایس اے اساتذہ کے مطالبات کو پورا نہیں کر رہی۔وہیں تھنہ منڈی میں بھی ایس ایس اے اساتذہ کے مطالبات پراحتجاج کیاگیا جس دوران ایک میمورنڈم بھی پیش کیاگیا۔احتجاج کی قیادت شوکت میر زونل صدر کررہے تھے ۔اس موقعہ پر فورم کے ریاستی جنرل سیکریٹری جہانگیر عالم خان نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ریاستی سرکار کو انتباہ دیا کہ ان کی تین سے چار مہینے کی بقایا تخواہ واگزار کی جائیں اور دیگر مطالبات بھی پورے کئے جائیںنہیں تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔اس موقعہ پر عبدالعائد،محمد یوسف، شوکت میر، احمد خان ،فاروق چوہدری، اعجاز ڈار،فاروق قریشی بھی موجو دتھے۔اسی معاملے پر منڈی میں بھی رہبر تعلیم ٹیچرس فورم پونچھ کے بینر تلے احتجاج کیاگیا اور ایک احتجاجی ریلی بھی برآمد ہوئی جس کی قیادت فورم کے ضلع صدر حمید نباض کر رہے تھے ۔ا س دوران منڈی لورن ساوجیاں سڑک پر ٹریفک کی نقل و حرکت بند کرکے اساتذہ نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور پھرزونل ایجوکیشن منڈی کے دفتر کو تالا لگایا۔بعد میں انہوں نے تحصیل دار منڈی کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں تمام مطالبات شامل تھے ۔حمید نباض نے کہاکہ انہیں سرکار کی طرف سے سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگرعید سے پہلے سرکار نے ساتویں پے کمیشن کی قسط اور تنخواہوں کو ڈی لنک کرنے کے مطالبات پورے نہ کئے تو ریاست کے تمام اساتذہ عید کی نماز وادی کے پرتاپ پارک میں پڑھ کر وزرا کے گھر کی طرف مارچ کریں گے ۔اس موقعہ پر فورم کے دیگر ارکان بھی موجو دتھے ۔خطے کے دیگر علاقوں میں بھی ایس ایس اے اساتذہ کے مطالبات پر احتجاج کئے گئے۔