یواین آئی
واشنگٹن/امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایرانی کھلاڑیوں کی 2026 فیفا ورلڈ کپ میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم آئی آر جی سی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا کہ انتظامیہ کھلاڑیوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتی۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوگا، جس کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کریں گے ۔مارکو روبیو نے کہا کہ مسئلہ کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان افراد سے ہو سکتا ہے جنہیں ایران اپنے ساتھ لانا چاہے گا، اور جن میں بعض کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے افراد کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی آر جی سی سے وابستہ افراد کو صحافی یا سپورٹ اسٹاف ظاہر کرکے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ امریکہ اسے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے ۔اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی پاولو زیمپولی نے تجویز دی تھی کہ ایران کی جگہ اٹلی کو ورلڈ کپ میں شامل کیا جائے ، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔فی الحال ایران کے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے یا اس پر پابندی کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا گیا، جبکہ فیفا نے ایران کے میچز کو امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے ۔