جب بھی ہم کشمیریوں کی معاشرتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سچ کھل کر سامنے آ جاتاہے کہ ہمارےمعاشرےمیں زیادہ تر لوگوںکی زندگی اور اعمال، روحانیت اور مقصدیت سے خالی ہے۔معاشرے کی اکثریت بے عملی ،بد اعمالی،بے راہ روی اور اباحیت کا شکار ہے، جس کے نتیجہ میں ہمارے ارباب و اقتدار اور کاروباری لوگ ایمان ،دیانت اور فرائض پر مبنی باتوں کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے ہیں،جبکہ زندگی کےتمام شعبوںسے وابستہ لوگوں کی خاصی تعداد اپنے مذہبی اور دینی مقام و مرتبے سے بے نیاز ہوکر دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رمضان کے اِن مبارک ایام میں بھی لوگ وہ سب کچھ نہیں کرتے ہیںجو کہ احکام ِ الٰہی کے تحت ہمارے لئے لازم ہیں۔حالانکہ ماہِ رمضان غم خواری کا مہینہ ہے، جس کے معاشی اور روحانی پس منظر میں رمضان المبارک کی سماجی و معاشرتی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے،مگر ہم ہیں کہ اس کے عین مخالف کام کرتے رہتے ہیں،گویا نہ ہمیں رمضان کی قدر ہے اور نہ ہمیں رمضان میں اپنی مغفرت کروانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔یہی وجہ ہے ہمارا معاشرہ ہر سطح پر اور ہر معاملے میںپست و خست ہورہا ہے اور ہمارے درپیش مسائل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
ہر ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی مذہبی تہوار آتا ہے،عیدین آتی ہیں یا ماہِ مبارک آتا ہے تو عام کشمیریوں کے لئے درپیش مسائل میں اضافہ ہوناایک روایتی مسئلہ بن جاتا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافےکا عمل شروع ہوجاتا ہے۔یہاں کے عادی ناجائز منافع خوروںکے خرافات عروج پر پہنچ جاتے ہیں اور وہ اپنے خود غرضانہ حیلے بہانوں کے تحت عام لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ِ عمل ہوجاتے ہیں۔روزِ مرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوجاتی ہیںاورغریب و متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر بن جاتی ہے۔ حالانکہ سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سےکشمیر کی معاشی ترقی کی رفتار پہلے ہی بُری طرح متاثر ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں کام کرنے والوں لوگوں کو بھی مناسب تنخواہیں اور اُجرتیںنہیں مل رہی ہیں۔جس سے عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوچکی ہے ۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کے لئے سرکاری انتظامیہ میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس تعلق سے فکر مند ہے۔وادیٔ کشمیرکےعوام کو اِس وقت جس بےلگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے،اُس کا شائد سرکاری انتظامیہ کو ادراک ہو، مگر پھر بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
تعجب ہے کہ روزِ مرہ استعمال ہونے والی اشیائے ضروریات کی مارکیٹ میںدوگنی یا تِگنی وصول کئے جانے کے بعد بھی ناجائز منافع خور طبقہ ناشکرانی کا اظہار کرتا رہتا ہے،جس سے یہ سچائی بھی نمایاںہوجاتی ہے کہ یہاں کے معاشرے میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کافقدان ہے،جس سے عام لوگوں کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوجاتا ہے۔تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وادیٔ کشمیر کے عام لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا ماضی میں کرنا پڑتا تھا،آج یو ٹی انتظامیہ کے ڈبل انجن دور میں مختلف معاملات میں زیادہ مشکلات ومصائب جھیلنے پڑتے ہیں، جبکہ ناجائز منافع خور مافیا ایک طاقتور شکل اختیار کرچکا ہے۔ چنانچہ ناجائز منافع خوری اور اسمگلنگ کے خلاف کو ئی سخت قانون شایدنافذ ہی نہیں ،اس لئےکھلے عام یہ سارے کام ہو رہے ہیں اورغریب عوام کو ان عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔اشیائے ضروریہ ،خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ ادویات کی من مانی قیمتیںوصول کی جارہی ہیں۔ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری کھانے پینے کی چیزوں کی تجارت بھی کھلے عام ہورہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی انتظامیہ عوام کو درپیش ان مسائل کو حل کرانے کے لئے اعلیٰ سطح پر سوچ بچار کرے اور ایسی ٹھوس کاروائیاں عمل میں لائیں جو ماہِ مبارک کے ان مقدس ایام میں عام لوگوں کے لئے سود مند ثابت ہوسکیں۔جبکہ اپنے آپ کو سچے مسلمان کہنے والے تاجروں ، دکانداروں اور ریڑھے والوں کو چاہئے کہ حق پرستی کے ساتھ گاہکوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں وصول کریں۔
�������������������