کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ کس نظریۂ حیات پر پختہ یقین اور اس سے محکم وابستگی رکھتی ہو،کیونکہ اسی سے نہ صرف فرد کی تکوین ہوتی ہے اور قوم وملت وجود میں آتی ہے بلکہ فرد ہو یا قوم ہو،اس کے اعمال و کردار اور اس کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار بھی ہی ہوتا ہے ۔گویا انسانی سیرت کا منظم ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ کچھ خیالات پر پختہ یقین کے نتیجہ میں اس کی ایک مستقل اور متعین سیرت بن جائے۔مسلمان اگرچہ اس وقت زوال کے شکار ہیں لیکن ان کے اصول ِحیات صحیح اور سالم ہیں،ان کا نظام زندگی تمام نظاموں سے اعلیٰ اور زندہ ہے ۔یہ نظام دنیا کے تمام مشکلات کو حل کرسکنے کی قدرت رکھتا ہے ۔مسلم امہ اس وقت ہر لحاظ سے زبوں حالی کی شکار ہے ۔نظریاتی طور پر یہ اپنے نظریۂ حیات سے وابستہ نہیں بلکہ ذہنی افلاس کی شکار ہوچکی ہے ۔امت دوسرے نظریات سے مرعوب اور ان پر عمل کی خواہاں ہے۔سیاسی لحاظ سے بظاہر آزادی حاصل کرلینے کے باوجود یہ اپنے فیصلے خود نہیں کرسکتی،ان کے اکثر حکمران مغرب زدہ ہیں،مغربی سوچ اور فکر رکھتے ہیں ۔مسلمان ممالک کی معیشت بین الاقوامی معاشی اداروں اور حکومتوں کی مقروض نہیں ،پھر بھی یہ اپنی معیشت کے بارے میں خودفیصلہ نہیں کرسکتے ۔خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ پچاس کروڑ ہے جو کل مسلم آبادی کا ۳۸ فیصد حصہ ہے۔سارے مسلم ممالک کی مجموعی قومی پیداوار دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا محض پانچ فیصد ہے ۔سارے ممالک کا شرح تعلیم چالیس فیصد سے زیادہ نہیں ،وغیر وغیرہ۔مختلف چیزیں ہیں جن کو یہاں بیان کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ساری چیزیں ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں۔ان چیزوں کے ساتھ ساتھ اس دورِ تنزلی میں بہت سارے مثبت کام بھی ہوئے ،جن سے اس امت میں روشنی کی کرنیں نظر آتی ہیں۔ظاہر ہے کہ زوال جب انتہا کو چھونے لگتا ہے تو پھر عروج کا آغاز ہوتا ہے ۔تاریخ کا اصول ہے کہ ہر تہذیب کا ایک نقطۂ عروج ہوتا ہے ،بلند ترین چوٹی سر کرلیا جائے تو آگے نشیب بھی ہوتا ہے۔زوال کا عمل تو شروع میںغیر محسوس ہوتا ہے لیکن آگے چل کر نمایاں ہوجاتا ہے اور بالآخر بلندی پستی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور عروج زوال میں بدل جاتا ہے۔سلطنت عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہیں مسلمانوں پر ہمہ گیر زوال آیا ،یہ کئی حوالوں سے مختلف تھا ،اس بار دنیا کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر غیرمسلموں کے پاس چلی گئی تب سے زوال اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا اور ذلت و رسوائی مسلمانوں کا مقدر بن گئی۔مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس کے مرکز میں قوت کا خلا پیدا ہوا ،اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے بندوبست کردیا ۔امت کی بقا اسلام کی نشاۃالثانیہ سے وابستہ ہے لہٰذا اس کی جدو جہد فرض عین بن جاتی ہے۔
۱۹۴۹ء میں ایک منظم طریقے کے ذریعے عالم اسلام کو متحد کرنے کی کوشش ہوئی ،۱۹۶۲ء میں رابطہ عالم اسلامی کا قیام ہوا اور پھر ۱۹۶۹ء میں مسلمان ممالک کے سربراہان نے سرکاری سطح پر اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC)کے تحت جمع ہوکر امت کے اجتماعی مسائل پر آواز اٹھائی ۔امام حسن النبا نے سیاسی غلبہ کے لئے اخوان المسلمون قائم کی، جو دیکھتے دیکھتے اکثر عرب اور افریقی ممالک میں پھیل گئی ۔برصغیر میں بھی دینی تنظیموں کے رہنماوئں نے تبلیغی اور فلاحی جماعتیں قائم کیں اور ان کے علاوہ بہت ساری تحریکیں اٹھیں جن کی جدوجہد کے اثرات سارے عالم اسلام میں پھیل گئے ۔جس کے نتیجے میں لوگوں کو دین کے قریب لانے کی کوششیں جاری رہیں۔چنانچہ مسلمان ملکوں کا محل وقوع اللہ تعالیٰ نے اس طرح رکھا ہے کہ وہ پوری دنیا کی معاشی اور سفری حرکات کو قابو میں کرسکتے ہیں۔نہر سویز اور بحر قلزم کی آبی شاہراہیں بھی مسلمانوں کی ہیں ،خلیج فارس ،باب المندب اور درۂ دانیال ان کے قبضے میں ہے۔ایشیا،افریقہ ،یورپ او ر آسٹریلیا کے بری،بحری اور فضائی راستوں کا باہمی رابطہ اس خطے سے گزرے بغیر ناممکن ہے۔افریقہ اور ایشیا کے سمندر اور بحیرہ روم کی تنگ پٹیاں جو بین الاقوامی تجارت کے لئے انتہائی اہم ہیں وہ عالم اسلام میں واقع ہیں۔اس کے علاوہ بھی ہم بہت سارے انعامات کا حوالہ دے سکتے ہیں جو مسلم ممالک کی بالا دستی کے حق میں ہیں ،ان چیزوں کا اگر ذکر ذہن میں رکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ اللہ نے اس امت کو دنیا کسی چیز کی کمی نہیں رکھی ہے اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ امت کی طرف سے ہی ہے۔الغرض مسلمانوں کے کمزور ہونے سے دنیا میں باقی چیزوں نے سر نکالا اور باقی ادیان کو پورا موقعہ ملا کہ انہوں نے اپنے نظاموں کو دنیا میں رائج کیا اور ساتھ ساتھ استوار بھی کیا ۔اور اس طرح یہ تہذیب دنیا میں روبۂ زوال ہوگئی۔ آخرکیوں؟جبکہ اس تہذیب میں اللہ تعالیٰ نے اتنی صلاحیت اور طاقت رکھی ہے کہ یہ ہر زمانے میں تمام حالات کے سایے میں جلد از جلد عروج حاصل کرسکتی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ اس تہذیب سے منسلک انسانوں میںاس تہذیب کے نظریہ سے وابستگی میں کمزوری آگئی۔دنیا میں انسانوں نے عقل اور سوچ کے مطابق بہت سی چیزوں کے لئے اصول اور قوانین بنائے لیکن سب سراب ثابت ہوئے۔انسانی عقل نے بہت سارے نظام اور اصول دنیائے انسانیت کو اس وعدے کے تحت دئے کہ ان اصولوں اور نظاموں سے خوشحالی آئے گی لیکن ہر سطح پر ان کی سوچ ناکام رہی۔ان نظاموں نے دنیا کو بھوک و افلاس اور جان و مال کے بے حرمتی کے سوا کچھ نہیں دیا۔صنعتی اور سائنسی ترقی کی وجہ سے فاصلے توختم ہوکر رہ گئے ،دنیا ایک شہر کی حیثیت اختیار کرگئی لیکن پوری دنیا کے لئے کوئی ایک ہی نظام قائم نہ ہوسکا۔اسی لئے پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز وجود میں آئی،لیکن چونکہ ا س نظام کے لئے انسان کے پاس کوئی فکری بنیاد تھی نہیں لہٰذا وہ جلدہی ناکام ثابت ہوئی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک اور ادارہ یو این او(UNO)کے نام سے وجود میں آیا ۔یہ بھی عالمی نظام کے قیام کی کوشش ہے مگر یہ ادارہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔اب اس کی حیثیت بھی کچھ نہیں رہ گئی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام جو آج تک چلا آرہا ہے ،دنیا میں اس نعرے کے ساتھ آیا تھا کہ یہ انسانوں کے معاشی مسائل حل کرے لیکن اس نظام نے عام انسان کا خون پسینہ چوس کر جو دولت کمائی وہ صرف چند اداروں کی جیب میں ہی چلی گئی ہے۔اس نظام کے بالمقابل کمینزم اور سوشلزم بھی اس نعرہ کے ساتھ آیا کہ دولت کسی فرد کے ہاتھ میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ایک اجتماعی نظام کے تحت تمام انسانوں کی ضروریات پورا کرے گی ۔کسی کو دولت رکھنے کا حق حاصل نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک کی دولت ریاست کی دولت تصور کی جائے گی،اس نظام میں بھی اتنی خرابیاں تھیںکہ وہ فوراً ہی فساد فی الارض پر منتہج ہوئی۔کیونکہ یہ نظام بھی ان بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگیا جو کسی بھی نظام کی بقا کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اب نیو ورلڈ آڈر کے نعرے کب سے لگ رہے ہیں ،یہ بھی اسی ارتقا کی طرف ایک پیش قدمی ہے۔دوسری طرف مغربی تہذیب ہے جس کا زوال بھی آچکا ہے اور اسے بھی فساد فی الارض کی دیمک لگ چکی ہے ۔لیکن تہذیبوں اور نظاموں کے اکھاڑنے میں ابھی کوئی ایسی طاقت موجود نہیں ہے جو اس کمزور پڑتی طاقت کو چیلنج کرسکے،مسلمان تو اپنی ذات کے گنبد میں بند ہیں۔ان حالات میں اہل مغرب کو یہ موقع ملا کہ وہ اکڑ کر کہہ سکیں کہ ہمارا کوئی مدِ مقابل نہیں،ہم سب سے بہترین ہیں ،ہماری جمہوریت ،ہماری معیشت ،ہمارا نظام زندگی سب سے اعلیٰ و برتر ہے ،لہٰذاسب کو اس کی پیروی کرنی چاہئے۔ان نظاموں کی انسانیت کو جو تحائف ملے، وہ سب کے سامنے عیاںو بیاں ہیں۔یہ نیا عالمی نظام ابھی تک پوری طرح جَڑ نہیں پکڑ سکا اور نہ ہی پکڑسکنے کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ یہ بھی مختلف خامیوں سے پُر ہے۔
کمیونزم کے زوال کے بعد سب سے بڑی تہذیب اور سب سے مضبوط نظریۂ حیات جو اہلِ مغرب کو چیلینج کرتا ہوا نظر آرہا ہے ،وہ اسلامی نظریہ حیات اور مسلم تہذیب ہے ،اور یہ صحیح بھی ہے ۔کمیونزم کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر ایک فکری اور تہذیبی خلاء پیدا ہوچکا ہے ۔اس وقت مسلمانوں کے لئے نادر موقع ہے کہ وہ اس خلا کو پُر کرسکتے ہیں۔دنیا ترس رہی ہے ،زمین ترس رہی ہے کہ کب وہ سورج طلوع ہوگا جو اپنے ساتھ امن وآشتی کا پیغام لے آئے تاکہ معصوم اور بے گناہ لوگ چین کا سانس ل ے سکیں۔اس لئے منطق یہ کہتی ہے کہ دنیا میں ایک اور بار عدل وانصاف کا دور دورہ ہوجائے گا ۔چونکہ ان مصیبتوں کے بیچ ہمارے لئے یہ خوش خبری ہے کہ قیامت سے پہلے اس روئے زمین پر اسلامی خلافت قائم ہوکر رہے گی۔اللہ کا مشروط وعدہ ہے کہ مسلمانو! تم میں سے جو ایمان اور عمل صالح کا حق ادا کریں گے انہیں زمین میں خلافت عطا کی جائے گی ۔اس لئے ایک بات مسلمانوں کو ذہن نشین کرنی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمیں پر خود تشریف فرمانہیں ہوں گے ،اللہ کے آلہ کار انسان ہوتے ہیں ،جب تک انسان خود تگ و دَونہ کریں گے ،اللہ
کی نصرت نہیں آئے گی۔اللہ کی نصرت تب جاکر آئی جب صحابہ میدان بدر میں کودے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ اللہ کو اتمامِ اسلام کرنا ہے،کن کے ذریعے کرے گا ،وہ کوگ خوش قسمت ہیں۔یہ بھی ضروری نہیں کہ آج سے پندرہ سو سال قبل جس طرض خلافت چلی ہے آج بھی اُسی طریقے پر من و عن چلے گی ،جیساکہ اکثر روشن خیال مسلمان کہتے آئے ہیں ،اب خلافت میں اصو ل وہی ہوں گے لیکن تفصیلی خاکہ بنے گا ۔آج کے زمانے کے تقاضوں کے مطابق۔وہ خلافت جس کے بارے میں علماء کی رائے ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت کا گلاب پوری طرح کِھل چکا ہے ،ماڈل وہی ہوگا ۔وہ نظام حکومت جب حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ اگر دجلہ اور فرات کے کنارے پر ایک کتا بھوکا مرے گا تو قیامت کے دن عمر زمہ دار ہوگا نہ کہ وہ جمہوریت،جس میں بے گناہوں کا خون بہتا ہے۔
تبدیلیاں خود سے نہیں ہوتیں ۔اللہ کا قانون ہے کہ اللہ اُس وقت تک کسی قوم یا ملت کی حالت نہین بدلتے جب تک نہ وہ قوم اپنی حالت بدللے۔اللہ اپنے قانون اور طریقے نہیں بدلتا ۔خلافت کا پہلا مرحلہ ایک مسلمان کو اپنی ذات اور وجود پر عملانا ہوتا ہے ،جیسے صحابہ ؓ نے دور ِ رسالت میں عملایا تھا ۔خلافت کا مخاطب ایک مسلمان براہِ راست ہوتا ہے ،خلافت کا نظام قائم کرنا ہے تو پہلے اپنی ذات پر کیجئے ۔اللہ کے ہاتھ جتنا اختیار ہے ،جس جس چیز پر اللہ نے آپ کو مالک بنایا ہے ،ذات ،وجود ،اہل و عیال وغیرہ ،پہلے ا ن چیزوں کا خلیفہ بننا ہے ۔ایک انسان کے پاس جتنی صلاحیت ہے ،طاقت ہے ،جتنی چیزیں ہیں ،ان سب کو
اللہ کے دین کے غلبے کے لئے لگادیں ۔جب تک مسلمان اس خلافت کا حق ادا نہ کریں گے ،اجتماعی خلافت قائم نہیں ہوگی ۔عارضی خواہش کرنے سے خلافت قائم نہیں ہوگی۔اگر آج کے مسلمان نہیں کریں گے تو اللہ نسل کو ہی تبدیل کرے گا ،پھر اُن سے کام ے گا ۔اللہ کی نصرت کے کچھ شرائط ہوتے ہیں جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو ،پھر دعا مانگو ،دعا قبول ہوگی ۔یاد رہے کہ جب تک مسلمان اللہ کے راستے پر یکسوئی سے چلتے رہے ،وہ غالب تھے۔جب انہوں نے صالحیت گنوا دی تو پھر ان کا عروج زوال میں تبدیل ہوا اور پھر یہ اقتدا راللہ نے ان ہی لوگوں کو دیا جو زمین میں اسباب زندگی مہیا کرنے پر دوسروں سے زیادہ بہتر طور پر قادر تھے۔
����