عاصف بٹ
کشتواڑ// ضلع کشتواڑ کے پولیس سٹیشن اٹھولی میں پیش آئے ایک مبینہ پُرتشدد واقعے کے سلسلے میں فوج کے متعدد اہلکاروں جن میں افسران بھی شامل ہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی آر زیر نمبر 17/2026 کے مطابق جو کہ پولیس سٹیشن اٹھولی میں بھارتیہ نیائے سنہتا 2023اور پریوینشن آف ڈمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ہے، یہ واقعہ 24 جون کو دوپہر 1بجے کے درمیان پیش آیا۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق اس وقت تھانہ اٹھولی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر بلاک ڈیولپمنٹ آفس پاڈر میں ایک سرکاری تقریب میں مصروف تھے جب انہیں تھانے کے احاطے میں مبینہ حملے اور ہنگامہ آرائی کی اطلاع موصول ہوئی۔ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 17آر آر کیمپ کیجائی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30سے 40فوجی اہلکار مبینہ طور پر میجر وکاس شرما اور نائب صوبیدار شنکر گُرخے کی قیادت میں جبکہ کمانڈنگ آفیسر این ارون گاندھی کے ماتحت تھانے کے مرکزی گیٹ اور دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور سرکاری اسلحہ سے لیس تھے اور انہوں نے تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او اور ایس ڈی پی او اٹھولی وجے کمار بھگت کو بھی مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیاجس دوران ایس ایچ او کی وردی پھٹ گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق ایس پی او سریش کمار کو رائفل کے بٹ مارا گیا جسے اسکی گردن پر چوٹیں آئیں جبکہ دیگر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران اے آر ٹی او کشتواڑ اور ان کے پی ایس اوز جو اس وقت تھانے میں موجود تھے، کو بھی مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔شکایت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے جس میں اے آر ٹی او ایس ایچ او اور ایس ڈی پی او کی سرکاری گاڑیوں کے علاوہ تھانے کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔پولیس نے اس معاملے میں کمانڈنگ آفیسر این ارون گاندھی، میجر وکاس شرما، نائب صوبیدار شنکر گُرخے، جی ڈی راج کمار، سپاہی راہل کمار، سپاہی انوپ سنگھ، سپاہی اومکار انگالے سمیت 30سے 40نامعلوم فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا ہے۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جن میں دفعہ 109، 115(2)، 121(1)، 126(2)، 132، 189(2)، 190، 191(2)، 191(3)، 221، 324(4)، 324(5)، 324(6)، 332(b)، 351(2) اور 352شامل ہیں، جبکہ پریوینشن آف ڈمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ کی دفعہ 3(1) بھی عائد کی گئی ہے۔اس دوران جموںمیں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹننٹ سنیل بارٹوال نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فوجیوں کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور یہ معاملہ کشتواڑ کے اتھولی میں مقامی پولیس کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر سے متعلق ہے۔انہوںنے بتایاکہ اس معاملے کی مناسب ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے جانچ کی جا رہی ہے۔ دفاعی ترجمان نے کہا کہ، بھارتی فوج قانونی عمل میں مکمل تعاون کرے گی ،اورمشترکہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ، اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا جب کہ تحقیقات جاری ہے۔قابل ذکر ہے کہ تاحال حکام کی جانب سے واقعے کی وجوہات پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تحقیقات جاری ہے اور حکام شواہد کی بنیاد پر حقائق کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ خبر ایف آئی آر میں درج تفصیلات پر مبنی ہے۔ اس میں بیان کردہ الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔