بلند قامت، گندمی رنگ، خوبصورت چہرہ جس پر ہمیشہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی، نہایت ذہین وفتین، بے باک مگر بزمِ یاراں میںابریشم کی طرح نرم، دینی اقدار کا حد درجہ پاس و لحاظ رکھنے والے۔ یہ تھے ہماری یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹرانکس کے پروفیسر جناب غلام محی الدین بٹ صاحب۔ رب جلیل نے انہیں اخلاق فاصلہ سے خوب آراستہ و پیراستہ کیا تھا۔ ان کے اسمِ گرامی کے ساتھ مرحوم لکھتے وقت کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
گزشتہ دنوں (15مئی2021 کی رات تین بجے) داعی اجل کو لبّیک کہا اور صبح چھ بجے آبائی قبرستان چیوہ، صفاپورہ میں سپرد خاک کئے گئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
صبح تک تونے نہ چھوڑی آہ اے بادصا
یادگار رونقِ محفل تھی پروانے کی خاک
راقم نے جب16مئی کی صبح سویرے یہ اندوھناک خبر سنی تو بے اختیار آنکھوں میں آنسوبھرآئے۔ صبر کو آواز دی مگر غم نے جواب دیا۔ کچھ لکھنا چاہا مگر ہجومِ غم میں قلم ساتھ دینے سے قاصر رہا۔ دل و دماغ میں وہ ساری یادیں انگڑائیاں لینے لگیں جو ان سے وابستہ تھیں۔
دل و دماغ جگر سب اک بار
کام آئے ترے فراق میں اے یار
مرحوم علی گڈھ مسلم یونورسٹی کے ایک فیض یافتہ چراغ تھے۔ہماری ان کے ساتھ کالج کے زمانے سے شناسائی تھی۔ پھرکشمیر یونورسٹی میں ہم نے بیس سال سے زیادہ عرصہ ایک ساتھ گزارا۔حسن ِ اتفاق سے یونورسٹی میں ہمارے فیملی کواٹر بھی آس پاس ہی تھے۔
حق تو یہ ہے کہ مرحوم ہمارے لئے ایک سرمائیہ افتخار تھے۔ ان کی زندگی وطن ِ عزیز کے لئے ایک زینت تھی اور بزمِ جہاں میں شمع روشن بن کے جیئے۔ان کی موت کسی فرد واحد کی موت نہیں بلکہ وہ ایک قوم کی دیوار تھے جو مرگ ناگہانی سے منہدم ہوگئی۔ ان کے جانے سے ایک ایسی خلیج پیدا ہوگئی جس کے پورا کرنے میں ایک زمانہ درکار ہے۔
ہم دست بہ دعا ہیں کہ رب جلیل مرحوم کے اہل و عیال کو صبر جمیل سے نوازے، ہم سب کو اس صدمہ عظیم کے برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کرے اور ان کی درجات بلند فرمائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھرکی نگہبانی کرے
(مضمون نگار سابق استاد شعبہ عربی کشمیر یونیورسٹی ہیں)