وادیٔ کشمیر کے اطراف و اکناف میں وقفہ وقفہ کے بعد آگ کی جو وارداتیں رونماں ہورہی ہیں، اُن میں لوگوں کوبڑے پیمانے پر مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اُن کی زندگی بھر سعی بلیغ خاک میں مل جاتی ہے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو کر راکھ بن جاتا ہے۔جس کے نتیجے میںجہاںمتاثرہ خاندانوں کے افراد کی زندگی بُری طرح متاثر ہوجاتی ہے،وہیں بہت سے گھرانے کھلے آسمان کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔موسم سرما کے آغاز سے ہی اپنی اس وادی میں آگ کی ان وارداتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے،جن میں اگرچہ محدود پیمانے پر انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا ہے لیکن بڑے پیمانے پرمالی نقصان ہوجاتا ہے۔سینکڑوں لوگوں کے رہائشی مکانات کے ساتھ ساتھ ،اُن کا مال و اسباب اورجمع پونچی بھی خاک میں مل جاتی ہے اوراُن کے مستقبل کے خواب چکنا چور ہوکر رہ جاتے ہیں۔
گذشتہ دو ڈھائی مہینوں کے دوران شہر اور دیہات کے مختلف علاقوں میں پیش آمدہ آتش زدگی کی وارداتوں میں درجنوں رہائشی مکانات اور دوسرے املاک خاک میں مل گئے ہیں ،جن زد میں کئی انسانی جانیں بھی آئی ہیں۔ آگ زنی کی ان وارداتوں پراگرچہ زبان ِ زد عام بات یہی ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے،اللہ کی مرضی سے ہی ہورہا ہے۔بے شک ہمارا بنیادی عقیدہ اور ایمان ہے کہ اس کائنات میں ہونے والا ہر واقعہ اللہ کے حکم سے ہی انجام پاتا ہےاور جن طبعی قوانین کے تحت یہ کارخانۂ قدرت چل رہا ہے ،ان کا وضع کرنےوالا اللہ ہی ہے۔لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں نکالاجاسکتا کہ انسان کواُس بات کا کوئی علم ہی نہیںدیا گیا ہے،جس کے باوصف وہ ایسی وارداتوں سےبچ بھی سکتا ہے یا ان وارداتوں پر قابو پاسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ انسان کو اپنی غفلت ، اپنی کوتاہی یا اپنی نادانی سے بھی مختلف حادثوں کا شکار ہونا پڑتا ہے، بڑے سے بڑے مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا بڑے پیمانے پر مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔خیر! آتش زدگی کی جو بھی وارداتیں رونماںہوچکی ہیں یا ہورہی ہیں،وہ آفات ِ الٰہی کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔دیکھا یہ بھی جارہا ہے کہ آتش زدگی کے کئی متاثرین کی نظام ِزندگی اس قدر مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے کہ بے بسی کے عالم میں اپنا ذہنی توازن تک کھو بیٹھتے ہیں اور بے آسرا گھر والوں کے لئےشدید مصائب اوربوجھ کا باعث بن جاتےہیں۔بے شک جب زندگی بھر کی جمع پونجی ،مال و اسباب اور گذر بسر کا آشیانہ کسی سےچھِن جائے تو اُس کے پاس جینے کے لئے کیا رہ جاتا ہے۔
اس صورتِ حال میںاگرچہ انسانیت کے تقاضے کے تحت کئی لوگ نوع ِ انسانی کی مدد کے لئے پیش پیش رہتے ہیںاور حکومتی ادارے بھی متحرک ہوکر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتےہیں ،لیکن یہ سب کچھ تو وقتی طور پر ہوتا ہے۔اس کے بعد متاثرین انتہائی غیر یقینی صورت حال میں زندگی گذارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ہاں! کسی بھی قدرتی آفت کے شکار لوگوں کی زندگی بحال کرنےکی اہم ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے،تاکہ متاثرین جسم و جان کا رشتہ برقرا ر رکھ سکیں اوراُن کی زندگی کا نظام بحال ہوسکیں اور وہ اپنے معاشرے میںپہلے جیسے کی طرح زندگی کا گذر بسر کرسکیں،کیونکہ اسی مقصد کے تحت حکومتیں وجود میں آتی ہیں،گویا آفت زدہ لوگوں کی دوبارہ بحالی کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائدہوتی ہے۔ لیکن جہاں تک دیکھنے میں آرہا ہے کہ آفات زدہ لوگوں کے لئے حکومت کی طرف سے جو بھی ریلیف منظور ہوتی ہے ،اُسے متاثرین تک پہنچنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے ،بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ متاثرین منظور شدہ ریلیف قسطوں میں دی جاتی ہے ،جس کے نتیجے میں متاثرین بدترین صورتحال کا شکار ہوجاتے ہیں۔
چلہ کلاں کی منجمند کرنے والی ان سردیوںمیں بغیر آشیانوں کے زندگی گزارنا کتنا کھٹن مرحلہ ہے، یہ تو کوئی بھی ذی حِس اور باشعور انسان بخوبی محسوس کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے اُن اداروں کو متحرک ہونے کے لئے احکامات صادر کریں ،جو آگ زنی سے متاثرہ لوگوں کی راحت اور بحالی کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ تاکہ بلا تاخیر اور بر وقت متاثرین کو ہر وہ سہولت بہم ہوجائے جو اِن آفت زدہ متاثرین کے لئے بطور ایکس گریشا ریلیف منظور کی گئی ہو، حکومت کےاِسی عمل سے متاثرین کو راحت پہنچے گی اوروہ اپنی زندگی کو بحال کرنے کے قابل بن سکتے ہیں۔