ظفر اقبال
اوڑی/آپریشن سندور کے تقریباً ایک سال بعد بھی اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر واقع دیہات میں ایک بھی زیر زمین بنکر تعمیر نہیں کیا گیا ہے، جس سے ان رہائشیوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جو سرحد پار سے گولہ باری کے خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔آپریشن سندور 7-8 مئی 2025 کی درمیانی شب ایل او سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جواب میں کیا گیا۔ تاہم اْوڑی کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی انکے حفاظتی انتظامات کاغذوں تک ہی محدود ہے۔اوڑی کنٹرول لائن پر رہنے والے رہائشیوں نے کہنا ہے کہ آپریشن سندور کو ایک سال ہونے کو ہے مگر زیر زمین بنکر کی تعمیر پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ایل او سی پر واقع چرنڈا گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں سال 2020 میں کچھ کمیونٹی بنکر تعمیر کئے تھے مگر وہ رہاش کے قابل ہیں ان بینکروں میں پانی جمع ہو گیا ہے اور ان بینکروں میں بنیادی سہولیت دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے کہا حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سرحدی لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے، لیکن یہاں زمینی سطح پر کچھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا اگر ہمیں کچھ ہوا تو ہماری حفاظت کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔سلی کوٹ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ارشاد احمد نے کہا کہ سرحد پار سے گولہ باری کی صورت میں ان کی حفاظت کے لیے کوئی کارآمد بنکر دستیاب نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا ہمارے علاقے میں دو یا تین بنکر موجود ہیں، لیکن وہ تقریباً چھ سال پہلے بنائے گئے تھے اور اب خستہ حالت میں ہیں۔ وہ استعمال کے قابل نہیں ہیں اور ان کی دیکھ بھال نہیں کی جا رہی ہے۔ دردکوٹ گاوں کے ایک شہری نے کہا ہم نے اپنے گاؤں میں ایک بھی بنکر کو تعمیر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا گولہ باری کے دوران ہمارے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ اْوڑی انتظامیہ نے بتایا کہ ہنگامی حالات کے دوران فوری پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے کئی سرحدی علاقوں میں 80 سے زیادہ اوور ہیڈ پروٹیکشن ٹرینچز (OPTs) بنائے گئے ہیں۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینچز مستقل بنکروں کا متبادل نہیں ہیں۔ کمل کوٹ گاؤں کے ایک مقامی شہری نے بتایا اوور ہیڈ پروٹیکشن ٹرینچز عارضی طور پر مدد کر سکتے ہیں، لیکن وہ بھاری گولہ باری کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ ہمیں طویل مدتی حفاظت کے لیے مناسب زیر زمین بنکروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاجب بھی کشیدگی بڑھتی ہے ہم اپنے گھر چھوڑنے یا غیر محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح کی اطلاعات اوڑی اور بونیار کے دیگر سرحدی علاقوں سے موصول ہو رہی ہیں جہاں پر لوگ زیر زمیں بیکروں کے بغیر اپنی زندگی خوف و ہراس میں گزار رہے ہیں۔یاد رہے کہ اسی سال جنوری میں، اْس وقت کے ڈپٹی کمشنر بارہمولہ، منگا شیرپا نے اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر محکمہ داخلہ کے ساتھ مل کر وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے اوڑی سیکٹر کے لیے 500 سے زیادہ بنکروں کی منظوری دی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ابھی تک کوئی زمینی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے بنکروں کی منظوری کے بارے میں سنا ہے لیکن زمین پر کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ لوگوں نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ان بینکروں کی تعمیر کے عمل کو تیز کریں ۔