عارف بلوچ
اننت ناگ//ڈورو سب ڈسٹرکٹ ہسپتال جس کو عرف عام میں ماڈل ہسپتال بھی کہا جاتا ہے کی صحت ان دنوں خراب چل رہی ہے،جس کے باعث یہاں آنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،نئی عمارت میں منتقلی کے باوجود ہسپتال کو نیم طبی عملے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔2 ہفتے قبل 2 ماہر ٹیکنیشن کے ریٹائرمنٹ کے بعد اسپتال کا آپریشن تھیٹر (OT) جزوی یا مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔ اسپتال جہاں روزانہ 550 سے لے کر 600 مریض داخلہ لیتے ہیں اور مریضوں کے بھاری رش کے باوجود بھی ہسپتال گذشتہ 20 سال سے نئی اسامیاں وجود میں لانے کا منتظر ہے جس کی وجہ سے اسپتال اٹیچمنٹ عملہ یا زیر تربیت طلاب کے رحم وکرم پر چل رہا ہے،جراحی سیکشن بند ہونے کے باعث حاملہ خواتین کو دوسرے اسپتال اسپتال جانے کی صلاع دی جاتی ہے۔ہسپتال زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں روزانہ 7 سے 8 جراحیاں ہوتی ہیں جن میں حاملہ خواتین بھی شامل ہیں، تاہم سینئر ٹیکنیشن کے ریٹائرمنٹ کی وجہ سے جراحی بند ہے،علاوہ ازیں اسپتال کا سی ٹی اسکین نجی کمپنی سے معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد 1 ماہ سے بند پڑا ہے۔مقامی شہری جاوید احمد خان کا کہنا ہے کہ اسپتال کی منتقلی کے وقت حکومت نے یہاں کے لوگوں کو سبز باغ دکھایا گیا اور ماڈل اسپتال کا بورڈ نصب کرکے یہاں کے لوگوں کو گمراہ کیا گیا تاہم حقیقت میں اسپتال گذشتہ 25 سال سے افرادی قوت کی مانگ کر رہا ہے، جس کو حکومتیں نظر انداز کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال پر وسیع آبادی کا دباؤ ہے جس میں خط چناب بھی شامل ہے،تاہم افراد قوت کی قلت نے اسپتال کے کام کاج پر منفی اثر ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ عملے کی کمی کے باعث ماضی میں بھی جراحی سیکشن کئی بار بند رہا ہے اور اب سیکشن 2 ہفتے سے بند پڑا ہے، جب کہ سی ٹی اسکین سیکشن بھی تالا بند ہے جو کہ محکمہ صحت کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔لوگوں نے مقامی ممبر اسمبلی کے تئیں بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کانسچونسی کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے ہیں جو کہ قابل افسوس ہے۔چیف میڈیکل آفیسر اننت ناگ ڈاکٹر خالد ظفر نے عملہ کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال تھیٹر ہفتے میں 2 دن کام کر ے گا اور آنے والے دنوں میں مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے جہاں تک سی ٹی اسکین کا سوال ہے ہم نے ڈائریکٹر سے منظوری مانگی ہے ،جونہی وہاں سے منظوری ملتی ہے سیکشن چالو کیا جائے گا۔