عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اسمبلی میں کل کارروائی کے دوران جعلی خبروں اور غلط معلومات کے مسئلے پر بحث ہوئی جس دوران اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ہدایت دی کہ “اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک قانون (بل) تیار کیا جائے۔” یہ ہدایت اْس وقت دی گئی جب اسمبلی میں اس موضوع پر مختصر بحث ہوئی، جس کا آغاز ایم ایل اے رنبیر سنگھ پٹھانیا نے کیا۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے پٹھانیا نے کہا کہ “سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں غیر رجسٹرڈ ویب سائٹس، پیجز اور چینلز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن پر کوئی واضح قانون لاگو نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “آن لائن پلیٹ فارمز کی بے تحاشا بڑھوتری کے باعث جوابدہی نہیں رہی اور نہ ہی کوئی ایسا نظام ہے جو خبروں کی تصدیق کرے۔”انہوں نے سبھی آن لائن پورٹلز اور چینلز کی رجسٹریشن لازمی قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس بحث میں 14 اراکین اسمبلی اور ایک وزیر نے حصہ لیا، جس کے بعد نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جواب دیا۔ کچھ اراکین نے کہا کہ “کم تجربہ کار افراد کے میڈیا میں آنے سے جعلی خبروں میں اضافہ ہوا ہے، اور بعض لوگ یا پارٹیاں انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔”جواباً چودھری نے کہا کہ “میڈیا اداروں کو خود بھی غور کرنا ہوگا کہ وہ کس سمت میں جانا چاہتے ہیں۔سپیکر عبد الرحیم راتھر نے حکومت کو ہدایت دی کہ دیگر ریاستوں کے قوانین کا جائزہ لے کر ایک مناسب بل تیار کیا جائے تاکہ جموں و کشمیر میں جعلی خبروں کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔