پونچھ // کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف ڈگری کالج پونچھ کے طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے اس گھنائونے جرم میں ملوث مجرموں کی فوری گرفتاری اور انہیں قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔طلبہ و طالبات نے ڈگری کالج پونچھ سے ایک ریلی بر آمد کی۔ اس دوران مظاہرین کے ہاتھوں میں بینراُٹھائے ہوئے تھے جن پر تحصیل ہیرا نگر کے گائوں راسانا کی آٹھ سالہ آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے افسوسناک واقعے کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر مظاہرین نے کہاکہ آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ کے ساتھ پیش آیا یہ دل سوز اور وحشیانہ واقعہ ہے جوانسانیت کے منہ پرطمانچہ ہے۔مظاہرین نے الزام لگایاکہ بچی کے قاتلوں کو سزادینے میں غفلت کامظاہرہ کیا جارہاہے۔ مظاہرین نے پاکستان کے قصورشہرمیں سات سالہ زینب کواغواکراور اس کی عصمت دری کے بعد اس کو قتل کرکے گندگی کے ڈھیرمیں پھینک دینے کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں واقعات کے ذمہ داران انسانیت کے دشمن ہیں جن کوسرعام پھانسی دی جانی چاہیے۔
آصفہ کے قاتل انسانیت کے قاتل : مفتی سید بشارت
پونچھ // آصفہ کے قاتل انسانیت کے قاتل ہیںمذہب کوئی بھی ہو وہ انسانیت کے قتل کی قطعی اجازت نہیں دیتا چنانچہ اللہ کی کتاب کا واضح پیغام ہے جس نے کسی ایک جان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ہے ایسے لوگ معاشرے کے دشمن ہیں ایسے لوگوں کی وجہ سے جموں کشمیر کی شبیہ عالمی سطح پر خراب ہوئی ہے ایسے لوگوں کی شدیدمذمت کرنی چاہیئے جو لوگ قاتل کو ملک کے قوانین سے بچا کر قاتل کی حمایت کرتے ہیں وہ برابر کے شریک ہیں اسلام نے عورتو ں کو بے انتہاء عزت دی ہے کائنات کے نبی نے عورتوں کو ہر اعتبار سے عزت کی ہے ان خیالات کا اظہار یہاں ریاست کے نامور عالم دین الحاج مولانا مفتی سید بشارت حسین رضوی برکاتی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ جدید نے پریس کے نام جاری بیان میں کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ کچھ لوگ آٹھ سالہ بچے کے بیہمانہ قتل پر بھی سیاست کررہے ہیں یہ کسی ایک قوم کی بچی نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی توہین ہے ۔تعجب یہ ہے یہ حال اُس ریاست کا ہے جس کی کمان ایک خاتون کے ہاتھ ہے اس ریاست میں حقوق نسواں کے تعلق سے بہت سی باتیں کی جارہی تھی اور ریاست کی خواتین وبچیاں پر امید تھیں کہ اب ہماری عزت آبرو کی حفاظت ہوگی کیونکہ ریاست کی کمان بھی ایک خاتون کے ہاتھ میں آگئی لیکن خبروں کے مطابق مظلوم خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بھی کوئی نہیں وزیر نہیں پہنچا جوظلم بلائے ظلم کے مترادف ہے انہوںنے کہا کہ میں جماعت اہلسنت کے صدر ہونے ناطے پوری جماعت کی جانب سے اس معاملے کی مذمت کرتے ہوئے ریاست کے حکمرانوں پولیس انتظامیہ کو آگاہ کرتاہوں کہ اٹھ سال بچی اصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دی جائے اور ریاست میں بر سرعا م گھومنے والے ایسے درندوں کے لئے سزائے موت کا قانون بنایا جائے ۔انہوںنے کہا کہ قصور کی زینب ہو یاکٹھوعہ کی آصفہ آبروریزی عند اللہ ایک سنگین جرم ہے جسکی سزا موت ہے لہذا ایسے لوگوں کو سزائے موت ہونی چاہیئے۔ انہوںنے آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت کی مانگ کی اور قاتلوں کو بچانے والوں کو معاشرے کا دشمن قرار دیا۔