سبزار احمد بٹ
فریضہ اب بیگم فریضہ بن چکی تھی اور وہ دسویں منزل کے فلیٹ نمبر نو کی کھڑکی سے نیویارک کی فلک بوس عمارتوں ،مصروف ترین سڑکوں اور اُداس چہروں اور آدھے ادھورے کپڑوں میں ملبوس عورتوں کی بے بسی غور سے دیکھ رہی تھی ۔ آج اسے پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ یہ سارے چہرے مصنوعی مسکراہٹ سجائے ہوئے ہیں جبکہ اندر سے ان سب کو اداسی اور گھٹن نام کا کیڑا دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ فریضہ کو یہ بات سمجھنے میں تیس سال کا عرصہ لگا ۔
دراصل فریضہ اور اس کی بہن نجمہ ان کے والدین کی کل کائنات تھیں ۔ جب ان دونوں بہنوں نے بارویں جماعت کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا اور دونوں کو اپنے والدین نے کہا کہ اب نیٹ کی تیاری کریں، کیونکہ ان کے والدین کا شوق تھا کہ وہ دونوں بیٹیوں کو ڈاکٹر بنائیں اور ثابت کر کے دیں کی بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتیں کیونکہ فریضہ اور نجمہ کا کوئی بھائی نہیں تھا ۔ لیکن فریضہ آزاد خیال لڑکی تھی اور اسے مغربی تہذیب سے کافی لگاؤ تھا ۔ جب کبھی موقع ملتا وہ بلا جھجک سب کے سامنے کہتی تھی کہ مشرق میں لوگ گھٹن زدہ زندگی گزارتے ہیں اصل آزادی تو مغرب میں ہے ۔ انسان جو چاہیے کر سکتا ہے اپنی مرضی سے کپڑے پہن سکتا ہے، گھوم پھر سکتا ہے اور وہاں کے لوگ لڑکے اور لڑکیوں میں فرق نہیں کرتے ۔ وہاں کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں، لوگ آزادانہ زندگی گزارتے ہیں ۔ اس لئے اُس کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بن کے اپنے والدین کا خواب پورا کرے لیکن یہاں نہیں بلکہ امریکہ میں ۔والدین اور بڑی بہن نجمہ اسے سمجھاتی تھی لیکن اس پر کسی بات کا اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھی بالآخر اس کے والد نے اسے امریکہ جانے کی اجازت دے دی ۔ دراصل اس کا باپ ایک بزنس مین تھا اور امریکہ میں اس کا ایک دوست تھا جس کے بھروسے پر فریضہ کو امریکہ جانے کی اجازت مل گئی ۔
نجمہ نے نیٹ کا امتحان پاس کر کے ایک مقامی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور پڑھائی کرنے لگی جبکہ فریضہ امریکہ کے لیے روانہ ہوئی ۔ اپنے ملک کو تو 1947 میں آزادی ملی تھی لیکن فریضہ کو لگا کہ اصل آزادی اسے آج نصیب ہوئی ہے ۔ امریکہ پہنچ کر اُسے لگا کہ وہ کھلی ہوا میں سانس لینے لگی ۔ اسے لگا کہ جیسے اسے قید سے رہائی ملی ۔ اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی ۔ چند مہینوں میں ہی وہ امریکہ کے رہن سہن اور پہناوے کے ساتھ اس طرح گھل مل گئی کہ جیسے اس نے ایک عمر امریکہ میں گزاری ہو ۔ اس نے امریکہ کے ایک کالج میں انٹرنس کا امتحان پاس کر کے داخلہ لیا ۔ وہ ہر دو یا تین دن کے بعد گھر فون کر کے اپنے ممی پاپا اور بڑی بہن نجمہ سے بات کرتی تھی اور پہروں انہیں امریکہ کے بارے میں بتاتی رہتی ۔ “مما یہاں کی لڑکیاں دنیا کی خوش نصیب لڑکیاں ہیں ، جو چاہیں کر سکتی ہیں ۔ جس طرح کے کپڑے چاہیں پہن سکتی ہیں نہ کوئی روک ٹوک اور نہ کوئی پابندی”
۔ خیر دن گزرتے گئے ۔ اور فریضہ کی امریکہ کے ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی ۔ اس دوستی کو پیار میں بدلنے میں دیر نہیں لگی ۔ وہ امریکہ کی زندگی اور اس لڑکے کی دوستی میں اس قدر مگن ہوئی کہ اسے گھر یاد ہی نہیں رہا۔ وہ کبھی دس دن بعد اور کبھی ایک مہینے بعد اپنے گھر والوں کو فون کرتی تھی ۔ بالآخر فریضہ نے اسی لڑکے سے شادی کی اور چار مہینوں کے بعد جب گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا ان پر پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔ باپ نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ میرے گھر کے دروازے آپ کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے ۔ یہاں کبھی واپس مت آنا ۔ چار سال تک اسی طرح چلتا رہا اس دوران فریضہ کے دو بچے بھی ہوئے ۔
اتوار کا دن تھا اور فریضہ اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ اس کا فون بجا ۔ اس نے دیکھا کہ مما کا نمبر تھا۔ اسے حیرت ہوئی اس نے فون اٹھایا۔
ہلو مما:
ماں نے بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
ہاں بیٹا کیسی ہو ۔ تم تو ہمیں بھول ہی گئی ہو۔
فریضہ بھی رونے لگی۔ مما کیا کروں پاپا نے گھر آنے سے بھی منع کیا ہے اور فون کرنے سے بھی۔
بیٹا اب گھر بھی آنا اور فون بھی کرنا کیونکہ اب پاپا نہیں رہے۔
یہ سنتے ہی فریضہ پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا وہ زور زور سے رونے لگی۔ بچے بھی دم بخود ہوگئے۔
مما یہ سب کیسے ہوا اور کسی نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔
بیٹا وہ آپ کی شادی کی خبر سن کر ڈپریشن کے شکار ہوئے اور ان کی آخری خواہش تھی کی اس کے موت کی خبر آپ کو نہ دی جائے ۔ بس پھر کیا تھا دونوں طرف سے ہچکی بند گئ دونوں نے رو رو کر اپنا برا حال کیا ۔
چند دن بعد فریضہ وطن لوٹی ۔ نجمہ نے فریضہ کا حلیہ دیکھ کر کہا ۔ فریضہ ہمارے پاپا مرے ہیں اور تم یہ کیسے کپڑے پہن کر آئی ہو ۔ او ہو نجمہ تمہاری سوچ ابھی بھی نہیں بدلی۔ تم ابھی ابھی عبایا اوڑھے ہوئے گھٹن زدہ زندگی گزار رہی ہو ۔ چھوڑو یہ سب مجھے بتاؤ کہ میرے پاپا کوکیا ہوا ۔ “تم ہی نے تو مار دیا اسے” ۔ نجمہ نے بہت دیھمی اواز میں کہا۔
فریضہ چونک گئی۔
میں نے کیسے مارا؟
جب سے انہیں پتا چلا کہ تم نے امریکہ میں بن بتائے شادی کی۔ تب سے ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی ۔
فریضہ کو سب کی باتوں سے لگا کہ وہ اسے ہی والد صاحب کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، ایک ہفتہ رکنے کے بعد فریضہ واپس امریکہ چلی گئی اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئی ۔ امریکہ کی مصروف ترین زندگی میں فریضہ بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مست ہو گئی ۔ اب بیٹا اور بیٹی بڑے ہو گئے۔ وہ بھی فریضہ کی طرح ہی بہت آزاد خیال تھے ۔ اتنے آزاد خیال کہ دونوں نے شادی کر لی اور اپنے ماں باپ کو بتایا تک نہیں ۔ فریضہ کو اس بات کا سخت دکھ ہوا ۔ وہ ہمیشہ اسی خیال میں رہتی تھی کہ وہ کون سی آزادی چاہتی تھی جس وجہ سے وہ امریکہ چلی آئی ۔
ہائے افسوس میرے والد کو بھی یہی دکھ ہوا ہوگاجب میں نے اس کی اجازت کے بغیر شادی کی۔ فریضہ کے راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں ۔ رات کو اٹھ اٹھ کر اپنے آپ کو کوسنے لگتی تھی، کہ میں ہی اپنے والد کی قاتل ہوں۔ میرا باپ میری وجہ سے مر گیا اور میں اپنے بچوں کی وجہ سے مروں گی ۔ کیا کیا میں نے اپنے بچوں کے لئے اور کیا دیا انہوں نے مجھے ۔ فریضہ بچوں کے بارے میں اتنا سوچنے لگی کہ چند مہینوں میں ہی اس کی حالت غیر ہو گئی ۔ ایک خوبصورت اور حسین و جمیل عورت سے وہ ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ۔ اس کا شوہر بھی ایک عیاش انسان تھا، اسے بھی اب فریضہ میں دلچسپی نہیں رہی ۔ ایک دن اس کا شوہر آفس گیا اور واپس نہیں لوٹا ۔ فریضہ کو اکیلا پن کھانے کو دوڑتا تھا ۔ بچوں کی بے وفائی کا ان کے والد کو کوئی خاص دکھ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی بیوی سے کہتا تھا کہ یہ انڈیا نہیں امریکہ ہے اور یہاں کوئی کسی کا نہیں ، اور بچوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا یہاں تک کہ گھر چھوڑنا بھی کوئی بڑی یا بُری بات نہیں ہے ۔ لیکن بچوں کے چلے جانے کے بعد فریضہ اپنا اکثر وقت اپنے شوہر کے ساتھ ہی گزارتی تھی ۔ لیکن اس بار جب وہ آفس سے نہیں لوٹا تو فریضہ گھبرانے لگے ۔اس کے آفس بھی فون کیا لیکن وہاں سے بھی کچھ پتہ نہیں چلا۔ چند دنوں تک پاگلوں کی طرح اسے جگہ جگہ تلاش کیا۔
چند دن بعد اس کے موبائل پر ایک کال آئی۔ اس سے پہلے کہ فریضہ کچھ کہتی ۔ فون سے آواز آئی
“مجھے ڈھونڈے کی کوشش مت کرنا، میں اپنی ایک دوست سے شادی کر رہا ہوں اور اسی کے ساتھ دوسرے شہر میں بسنے جا رہا ہوں ۔ آپ میں اب ہے ہی کیا جو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ وہ خوبصورتی اور وہ حسن ختم ہو گیا جس پر میں فدا تھا اب تو فقط ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے۔ ”
بس فون سنتے ہی فریضہ سکتے میں آگئی سوچنے لگی کہ میں کون سی آزادی چاہتی تھی ۔ میں امریکہ کو کیا سمجھتی تھی اور یہ امریکہ کیا نکلا ۔ ہائے افسوس آج سمجھ میں آیا کہ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں لیکن ہوتے نہیں ہیں ۔ کئی بار خود کشی کا خیال آیا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کیوں نہ واپس انڈیا جاؤں شاید میری ماں یا بہن مجھ پر ترس کھا کر مجھے پناہ دے۔ ٹکٹ بک کی اور ان ہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک سے اس کا فون بجا اور اس کی گہری سوچوں کا تسلسل ایک دم سے ٹوٹ گیا ۔ اس نے آنسو پونچھے اور فون اٹھایا ۔ اس کی بہن نجمہ کا فون تھا۔ آج کئی سالوں کے بعد اس نے فون کیا۔
فریضہ نے فون اٹھایا۔
ہیلو ہاں آپا کیسی ہو میں نے آج آپ کو خواب میں دیکھا،
نجمہ نے بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔
ہاں نجمہ بہت بری حالت میں ہوں۔
کیا ہوا کچھ تو بتاؤ۔؟
لمبی کہانی ہے ۔ بس میں وطن واپس لوٹ رہی ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
لیکن کیوں ۔ بچے بھی آرہے ہیں کیا اور جیجو
نہیں میں اکیلے آرہی ہوں ۔ فریضہ نے روتے ہوئے کہا اور ہاں میں نکلنے والی ہوں میری فلائٹ کا ٹائم ہے۔
ہاں لیکن آپا سیدھے میرے پاس ہی آنا، ماں کے گھر مت جانا کیونکہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ آپ کو اچانک دیکھئے گی اور گھبرائے گی ۔
ٹھیک ہے یہ کہہ کر فریضہ نے فون رکھ دیا اور جلدی سے بیگ میں کچھ کپڑے بھر کر آئر پورٹ کی طرف روانہ ہوئی ۔
آئر پورٹ پہنچ کر حسرت بھری نظروں سے اس شہر کو آخری بار دیکھنے لگے اور اپنے آپ سے ان گنت سوال پوچھ رہی تھی لیکن کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا اس کے پاس۔ بلآخر آنسو آنکھوں میں لئے، ہوائی جہاز میں سوار ہوئی۔ بھارت پہنچنے تک فریضہ کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا، ویسے ہوائی جہاز میں اسے جاننے والا کوئی نہیں تھا لیکن دراصل وہ اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اسے کس آزادی کی تمنا تھا ۔ وہ پردے کو بوجھ کیوں سمجھتی تھی ۔ خیر اپنے ملک پہنچ کر ہر ایک سے نظریں بچا رہی تھی حالانکہ ہندوستانی معاشرے میں ابھی اتنی شرم تھی کہ وہ راہ چلتے لوگوں کو نہیں گھورتےتھے لیکن فریضہ کو لگتا تھا کہ وہ کون سا منہ لے کر ان لوگوں میں پھر آئے گی ۔ گھر پہنچ کر پھوٹ پھوٹ رونے لگی ۔ روتے روتے اپنی داستان سنانے لگی ۔ نجمہ کی دونوں بیٹیاں پردے میں تھیں اور اپنی ماں اور موسی کی داستان سن رہے تھے ۔ انہیں پردے میں دیکھ کر اور اپنی بہن نجمہ کو خوشحال دیکھ کر وہ رونے لگی..
ہائے افسوس مجھے کس پردے سے نفرت تھی اور مجھے کس آزادی کی تمنا تھی ۔
میری بہن مجھے اب کچھ نہیں چاہیے بس میری ایک آخری خواہش ہے۔ کیا پوری ہوسکتی ہے؟ نجمہ نے فریضہ کے آنسو پونچھے اور کہا” بہن میری جان بھی حاضر ہے آپ کے لئے۔
حکم کیجئے آپ کو کیا چاہیے”
مجھے دفن ہونے کے لیے دو گز زمین چاہیے بس مجھے اور کسی چیز کی تمنا نہیں ہے ۔ کھوکھلی آزادی کی چاہ میں، میں نے اپنے وطن میں دفن ہونے کا حق بھی کھو دیا ہے، میں سمجھ گئی اپنے اس معاشرے کو بھی اور پردے کی اہمیت کو بھی لیکن….
اس سے پہلے کہ فریضہ کچھ اور کہتی، اس کی آنکھیں پھترا گئیں اور زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی ۔
���
اویل کولگام، کشمیر
موبائل نمبر؛7006738436