۔6 رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلے کا اعلان 5 جون کو
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا تین روزہ اجلاس بدھ کو آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا کی صدارت میں شروع ہوگیا۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث مرکزی بینک اپنی کلیدی پالیسی شرح سود (ریپو ریٹ) کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔چھ رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلے کا اعلان 5 جون کو کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی، خام تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور روپے کی قدر میں کمی نے افراط زر اور اقتصادی ترقی دونوں کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔نجی شعبے کے بینک یس بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ جنگی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث معیشت کو سپلائی سے متعلق جھٹکوں کا سامنا رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھوک افراط زر (WPI) کے اثرات اب خوردہ مہنگائی تک منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کا اظہار پٹرول، ڈیزل اور تجارتی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صنعتی اور زرعی شعبوں کے پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور کئی صنعت کار یہ اضافی بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم یس بینک کے مطابق جون میں شرح سود میں تبدیلی کا امکان کم ہے کیونکہ آر بی آئی مہنگائی کے ممکنہ ثانوی اثرات کا مزید جائزہ لینا چاہتا ہے۔آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چیف اکنامسٹ گورا سین گپتا کا کہنا ہے کہ مہنگائی ابھی آر بی آئی کے مقررہ ہدف کے دائرے میں ہے، اس لیے مرکزی بینک فی الحال شرح سود برقرار رکھنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔کوٹک مہندرا اے ایم سی کے ابھشیک بسن نے کہا کہ موجودہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی تنازعات، خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، روپے کی گرتی قدر اور مون سون سے متعلق خدشات معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔