سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کو پورے بھارت میں ملکی آئین کے معمار بھیم رائو امبیڈکر کو یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور بھاجپا و مرکزی سرکار اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہی لیکن افسوس اس بات کاہے کہ عملی طور پر بھاجپا کی پالیسی مکمل طور پر بھیم رائو امبیڈکر کے اصولوں اور آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے گذشتہ 7سال کے دوران حکومت میں رہ کر اُنہی روایات کو دوام بخشا جن کے خاتمے کیلئے امبیڈکر نے جدوجہد کی تھی، ملک میں آج پھر سے اونچ نیچ، چھوت چھات ،نابرابری ، فرقہ پرستی اور ناانصافی کا دور دورہ ہے اور یہ رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں پھیلتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ’’ بھیم رائو امبیڈکر نے جمہویت اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے جنگ لڑی لیکن آج نہ کہیں جمہوریت ہے اور نہ ہی اظہارِ رائے کی آزادی۔ انہوںنے کہاکہ امبیڈکر نے ملک کو آئین کی بالادستی اور آئین کو ہمیشہ مقدم رکھنے کا درس دیا لیکن جب سے بھاجپا کی حکومت معرض وجود آئی ہے تب سے آئین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں اور 5اگست2019بھی اسی کی ایک بدترین کڑی تھی‘‘۔ ڈاکٹرکمال نے کہاکہ بھاجپا نے جموں وکشمیر کے عوام سے وہ حقوق غیر آئینی طور پر چھین لئے جن کی ضمانت اُس آئین ہند میں دی تھی جس کے معمار بھیم رائو امبیڈکر تھے۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ امبیڈکر کو سب سے بڑا خراج عقیدت آئین کو مقدم سمجھ کر جموںوکشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کو بحال کرنا ہوگا۔ انہوںنے جموں یونیورسٹی میں نائب صدر وینکیا نائیڈو کی تقریر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں تاریخ کو مسخ کرنے اور جموںوکشمیر کی غلط تصویر دکھانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو نے دعویٰ کیا ہے کہ 5اگست 2019کے فیصلوں کے بعد یہاں ناانصافی ختم ہوگئی اور لوگ ان فیصلوں سے خوش ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف کشمیر بلکہ جموں اور لداخ میں بھی لوگ مرکزی حکومت کے فیصلوں سے نالاں ہیں اور اپنے حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نائب صدر نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دانشگاہ کے کنونشن سے اس طرح کی غلط اور گمراہ کن تقریر کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ نائب صدر یا تو تاریخ سے نابلد ہیں یا پھر جان بوجھ کر ایک غیر سیاسی عہدے پر رہ کر بھاجپا کی بولی بول رہے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر واقعی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر اقوام متحدہ میں اس بارے میں قراردادیں کیوں ابھی تک موجود ہیں؟ اگر مسئلہ کشمیر واقعی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پر شملہ سمجھوتا ، تاشقند معاہدہ کیوں ہوا اور آگرہ سمٹ میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان کس مسئلے پر بات ہوئی؟