عاشق آشفتہ سرازی
کہاں سے لاتے ہیں اتنے روپے، یہ لوگ اتنے عمیر کیسے بنتے ہیں۔ یہاں آئی فون(I.phone) کے بغیر کوئی آتا ہی نہیں۔ کسی کسی کے پاس دو دو آئی فون ہوتے ہیں۔ زندگی تو ان لوگوں کی ہے، مہنگی گاڑی، مہنگا گھر اور استعمال کرنے کے لئے مہنگی مہنگی چیزیں، ان کی خوب گزرتی ہوگی ، نہ کوئی فکر نہ پریشانی۔ جو زندگی میں چاہیں حاصل ہو جائے گا۔ دوسری طرف ہم پورے ایک مہینے ترستے ہیں دس ہزار کی تنخواہ کے لئے۔ کاش کوئی ایسا رحم دل عمیر آدمی کبھی یہاں آ جاتا، جو میری حالت پر ترس کھا کر مجھے ایک آئی فون دان کر دیتا۔ اس کو بیچ کر میرے چھ مہینے کا خرچہ آرام سے نکل جاتا اور کوئی سرکاری امتحان پاس کرنے کے لئے مجھے صرف چھ مہینے پڑھائی کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی نہ کوئی امتحان پاس کر کے میں بھی ایک بہترین زندگی گزارتا۔ میں بھی پاگل ہوں کیا کیا سوچ رہا ہوں۔ بھلے کوئی کتنا بھی عمیر کیوں نہ ہو، وہ ایسے ہی آئی فون دان کیوں کرے گا۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے کسی کا فون گر جاتا اور میری پھوٹی قسمت وہاں پڑی ہوتی اور وہ فون اسے مل جاتا۔ ایسے کچھ کئے بغیر میری قسمت اور زندگی بھی سنور جاتی۔ لیکن میری زندگی میں کبھی ایسی قسمت نہیں ہو سکتی ہے۔ وہ دیکھو اس لڑکی نے پیچھے والے جیب میں رکھا ہے۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے، اگر میں پیچھے سے ہی اس کا فون نکال کر بھاگ جاؤں تو مزہ ہی آئیگا۔لیکن پکڑا گیا تو سارا مزہ پولیس والے نکال لیں گے۔ یہ بھی سوچنا بےکار ہے، میں چوری کرنے کے لائق بھی نہیں ہوں۔ میں یہاں سے بھی غریب ہوں۔
اتنے میں ایک لڑکا اور لڑکی اندر داخل ہوتے ہیں۔ پریم کی نظر لڑکے کی گردن پر پڑتی ہے۔ اؤ تیری! اتنی موٹی سونے کی چین (chain) کم سے کم ڈیڑھ دو لاکھ روپے کی ہو گی۔ اگر میں اس کی چین چھین سکتا۔ لیکن کیسے؟اگر میں پیچھے سے جا کر چین کھینچ لوں۔ مگر اگر چین نہیں کٹی تو یہ مجھے پکا کاٹ کے رکھ دے گا۔ یہ ہے بھی اتنا موٹا آدمی،اس سے بچنا میرا مشکل ہے۔ کاش کچھ ایسا ہوتا میں اس کی چین چراتا اور پکڑا بھی نہیں جاتا۔ زندگی میں پھر کبھی چوری نہیں کرتا، چوری کرنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔ مانو یہ چین ڈیڑھ لاکھ میں بِک جائے گی، ویسے ہے تو یہ اس سے مہنگی۔ لیکن چوری ہوئی چیز کو پوری قیمت کہاں ملتی ہے۔ مان لو ڈیڑھ ہی لاکھ ملے۔ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لئے مجھے چھ مہینہ پڑھائی کی ضرورت ہے۔ چھ مہینے میں میرا خرچہ صرف پچاس ہزار ہوگا۔ میری سرکاری نوکری لگ جاتی تو باقی روپے دان کر دیتا۔ ہاں میں کیوں چوری کا روپیہ کھائوں گا۔ اتنے میں چندر پیٹھ پر ہاتھ مارتا ہے۔
پریم کیا سوچ رہے ہو؟ پریم چونک کر۔ ہیں! کچھ نہیں۔ وہ لڑکا کہاں گیا،کون لڑکا؟چندر بولا۔ارے و ہی موٹا سا لڑکا،اس کے ساتھ ایک موٹی لڑکی بھی تھی۔ پتہ نہیں، تجھے کیا کرنا موٹے لڑکے لڑکی کو؟
پریم نہیں کچھ نہیں ایسے ہی پوچھا۔ گئی چین ہاتھوں سے، جانے دے نہیں تو میں نے چھین لینی تھی۔ اتنی ہمت کہاں ہے مجھ میں۔ ہائے پریم چل اپنا کام کر تیری قسمت میں یہ رگڑے والا کام ہی ہے۔ سرکاری ملازمت پانے کے لئے تیرے پاس روپیہ ہے نہ وقت ہے۔ اس لئے زیادہ مت سوچ رگڑا کھا۔
دوسرے دن پریم تین ٣ بجے کے قریب کام میں مصروف تھا، تبھی گیٹ سے دو لڑکیاں ایک عورت اور اُن کے ساتھ ایک لڑکا داخل ہوتے ہیں۔ پریم کی نظر پڑتے ہی، اؤ تیری اُس کی ٹانگوں میں کچھ بھی نہیں ننگی چلتی جا رہی ہے۔
چندر پیچھے سے۔ پریم کیا گھور رہا ہے؟ پریم گھور نہیں رہا ، بس دیکھ رہا ہوں کہ اگر کسی غریب کی ساڑھی تھوڑی سی پھٹی ہو تو اس کا مذاق بن جاتا ہے اور یہ عمیر لوگ بنا کپڑوں کے گھومنے پر فخر سمجھتے ہیں۔ چندر، بھائی یہ فیشن(fashion) ہے تجھے کیا لینا اس سے ، تو اپنا کام کر۔ پریم مجھے کچھ نہیں لینا ، لیکن جب کوئی ایسے کپڑے پہن کر سامنے سے گزرے نظر تو وہاں جائے گی۔ وہ دیکھو سارے سٹاف(staff) کی نظریں ادھر ہی گئیں۔ بھائی چندر! یہ تماشہ جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ پیسوں سے ہوتا ہے جو یہ عمیر لوگ ہمیں دکھا رہے ہیں۔ آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے یہاں کتنے قسم کے عمیر لوگ آتے ہیں؟ میں نے نوٹ کیا ہے۔
چندر اچھا! کیا نوٹ کیا اور کس طرح کچھ بتانا ذرا۔ پریم یہاں کہیں قسم کے عمیر لوگ آتے ہیں، جیسے وہ لوگ جن کی چھوٹی موٹی سرکاری نوکری ہوتی ہے۔ اُن کے کپڑے تھوڑے تنگ اور آدھے بازو ہوتے ہیں۔ اُن سے عمیر جو آتے ہیں وہ والی عورتیں پینٹ (pant) اور شرٹ (shirt) لگاتی ہیں۔ جو اُن سے بھی زیادہ عمیر ہوں وہ پینٹ کے ساتھ آدھی شرٹ لگاتی ہیں، جس میں اُن کی کمر نظر آتی ہے۔ سب سے بڑے امیر یہ جو آپ دیکھ رہے ہو، اُوپر سے تھوڑی قمیض ڈالی اور ٹانگوں میں کچھ نہیں۔ چندر تجھے کیا کرنا ان باتوں سے؟
مجھے کیا کرنا میں یہ بولنا چاہتا ہوں،چلنا تو ان کو ننگے ہی ہے۔ وہ کپڑے والا پیسہ ہمیں دیتے۔ چندر۔ تو پاگل ہے بھائی۔
پریم۔ ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی، کپڑے لگانے تو ہیں نہیں پھر یہاں کیا لینے آتے ہیں۔ خود دیکھو یہ نا کے برابر کپڑے ہوئے۔ چندر۔ بس کر بھائی چل اپنا کام کر۔ ہمارے جیسے لوگوں کو محنت کے بغیر نہیں ملتا ہے۔ محنت سے کمائے ہوئے پیسے میں بھی آدھے دوائیوں پر لگ جاتے ہیں۔ تجھے وہ پیسہ دیں گے پھر اس سے تو امیر بن جائے گا۔
پریم۔ ہاں آپ بھی سچ بول رہے ہو۔ ہماری بھگوان بھی کہاں سُنتا ہے۔ لیکن سوچنے میں کیا جاتا ہے۔ اس کے پاس آئی فون دیکھو کتنا اچھا ہے اؤ دوسری کے پاس اس سے بڑا ہے۔ پریم اپنے بال کھینچتے ہوئے کہتا ہے۔ بھگوان بس ایک آئی فون، ایک آئی فون میری زندگی بنا سکتا ہے بھگوان۔۔۔
���
کاستی گڑھ،ڈوڈہ، جموں،موبائل نمبر؛ 6005260724