کیسے نہ کہوں میں کل تلک اُس جا اسیر تھا
جس جا ہوائے صبح کا جھونکا ہی تیر تھا
زیرِ فلک تھا مہر یوں آتش مزاج آپ
جیسے پیامِ اجل لیئے منکرؔ و نکیرؔ تھا
عنقا تھی شہرِ جموںؔ میں مکینوں کی ریل پیل
ہر فرد لئے آڑ کچھ چھپائے شریر تھا
بے وائے تُند تھی وہاں کرنوں کی تمازت
متصل تندور کے کھڑا غریب و امیر تھا
جُھلسے ہوئے تھے آب سے تویؔ کے کنارے
آبِ رواں بھی اسکا عین اُبلا خمیر تھا
اِک ’’دمہ‘‘ کے طفیل ملی یہ خانہ بدوشی
موسم دیارِ کشتواڑ ورنہ بے نظیر تھا
مؤجب اسی کسائو کے پھر گھر کی راہ لی
یعنی پہنچی وہیں پہ خاک پھر جہاں کا خمیر تھا
گلیاں میرے دیار کی تھیں منتظر میری
آمد پہ مری جشن ہوا جیسے میں پیرؔ تھا
بابت سکونِ قلب یاں پاکے ہوائیں
منظر ہی میرے واسطے کیا دِل پذیر تھا
یہ سب فضائے وطن کا ہی فیض ہے عُشاقؔ
اک جسم نیم جان کیا پھر توانا کثیر تھا
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛96975244690