دنیا میں ہر ایک انسان صلاحیت سے بھرپور ہے۔ لیکن صرف چند لوگ اس صلاحیت کا استعمال کرکے کامیابی کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ حوصلہ مند لوگ نہ صرف اپنے لیے خوشیوں اور کامیابیوں کے نقیب ہوتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی امیدوں کے چراغ ثابت ہوتے ہیں جو راہوں میں گم ناامیدیوں کے بادل میں گھرے رہتے ہیں۔
مٹی پورہ اننت ناگ کا نوجوان محمد شفیع راتھر بھی ایسے ہی حوصلہ مند انسانوں میں سے ایک ہے جس نے اپنی محنت شاقہ اور پہل قدمی سے بظاہر ناممکن کو ممکن بنا کے چھوڑا۔ شفیع ایک تعلیم یافتہ جوان ہونے کے ناطے روایتی طرز کاشتکاری سے کبھی مطمئن نہیں تھا اور اپنے علاقے میں دھان فصل کی گھٹتی پیداوار سے بھی بہت مایوس تھا۔ وہ اپنے چھ کنال رقبہ زمین میں ایسی کم پیداوار والی فصل کی مزید کاشت کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں تھا۔ لہٰذا وہ جاکر شملہ سے High densityایم- نائن (M-Nine) سیب کے پودے لایا اور اپنے باغ کی دیکھ بھال میں جھٹ گیا۔
یہ وہ وقت تھا جب وہ اپنی اس کوشش میں اکیلا تھا۔ باقی سارے لوگ تذبب میں مبتلا تھے اور اس کے اس خیال اور انتخاب کو بالکل تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مشکلات کے باوجود شفیع اپنے کام میں مگن رہا اور صرف دو برسوں میں یعنی 2018 سے2020تک اس نے اپنے آپ کو بالکل صحیح ثابت کردیا۔ اس نے عمدہ اور اعلیٰ معیاری گالا سیبوں کی بڑی کھیپ تیار کرکے ہر کسی کو حیران کردیا۔ سیب کی یہ قسم اور پیداوار ہاتھوں ہاتھ لے لی گئی اور آ ناًفاناً مہنگے داموں بک گئی کیونکہ یہ بہت جلد تیار ہوجاتی ہے۔ شفیع نے دس ہزار سے پندرہ ہزار کلو سیب کی پیداوار نکال کر صرف دوسرے سال میں ہی دس لاکھ روپے کی کمائی حاصل کی اور چونکہ باغ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لہٰذا اگلے دو برسوں میں پیداوار دوگنا ہونے کی پوری توقع ہے۔
آج شفیع کے پاس اپنی ایک عمدہ اور آرام دہ گاڑی ہے اور ایک خوبصورت گھر ہے۔ وہ ہر وقت لوگوں سے گھرا رہتا ہے تاکہ اس کا نادرمشورہ حاصل کریں۔ شفیع آج صرف ایک کامیاب انسان ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک کارآمد شخص اور نئی جہت کا سرخیل اور بانی بھی ہے۔ اس نے اپنے علاقے میں کاشتکاری کے منظر کو ایک دم بدل کے رکھ دیا ہے۔ وہاں ہر کوئی اب سیب کی وہی قسمیں اگاتا ہے جو شفیع منتخب کرتا ہے اور سب لوگ اس کے ماہرانہ مشوروں اور تعاون سے بہتر کر رہے ہیں۔
علاقے کے بیروزگار نوجوانوں کے لئے اور ان کاشتکاروں کے لئے جن کی محنت ابھی رنگ نہیں لاتی تھی، شفیع حقیقت میں امیدوں اور خوشیوں کا نقیب ثابت ہوا ہے۔ شفیع کی تقلید آج نہ صرف علاقے کے ہمسائے لوگ ہی کرتے ہیں بلکہ لوگ دوسرے ضلعوں سے بھی ان کی صلاح لینے کیلئے سفر کرتے ہیں اور ان کو ہر لحاظ سے مددگار اور گرمجوش پاتے ہیں۔ ہر سال سردیوں کے موسم میں شفیع شملہ سے تازہ پودے لاکر دیتا ہے اور جو لوگ اپنے باغوں میں لگانا چاہتے ہیں، ان میں تقسیم کرتا ہے۔ شفیع کبھی بھی کاشتکاری کے گئے گذرے طریقوں پر یقین نہیں رکھتا ہے۔ وہ یہ سب کچھ جدید اور پیشہ ورانہ انداز میں کرتا ہے اور اس کے لئے ہر قسم کی جدید مشینیں اور ضروری سامان بہم رکھتا ہے۔
لوگ گروہ در گروہ آکر اس کے باغ کا سیر کرتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال پر تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ علاقے میں یہ باغ ایک لیبارٹری کی حیثیت رکھتاہے جہاں پر شفیع نت نئے تجربوں کو کامیابی سے انجام دیکر دوسروں کے لئے بھی بطور صلاح پیش کرتاہے۔شفیع اپنی دیگر خوبیوں سے بھی معروف ہے۔ وہ ایک زبردست ہنس مکھ مزاج رکھتا ہے۔ اپنے دوستوں میں شفیع ظرافت کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ وہ جس سے بھی ملے، اُسے ہنساکر خوش کردیتا ہے۔ لوگ اسے اس خوبی پر بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ چند پل گزارنا ضیافت سے کچھ کم نہیں ہے۔ ہر کوئی اس کی صحبت پسند کرتا ہے۔ میں جب بھی اسے ملتا ہوں میرے خون کے خلیے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ شفیع کے پاس دوسروں کو خوش رکھنے کا خاص فن ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہوسکتا۔