سائنس و ٹیکنالوجی
ڈاکٹر مشتاق حسین
فرض کریں آپ کی دسترس میں ایک ایسی مشین آجاتی ہے، جس کے ذریعے آپ وقت کے سمندر میں کسی بھی جانب سفر کرسکتے ہیں۔ اب یہ بھی فرض کریں کہ آپ اس مشین کا استعمال کرتے ہوئے آج سے تقریباً 500 یا 1000 سال پہلے کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ اس سفر کے دوران آپ اکیسویں صدی کی کوئی بھی معمولی سی دریافت جو کہ روزمرہ کے استعمال میں آتی ہے لے جاتی ہیں۔ مثال کے طور پہ آپ کے ہاتھ یا کسی قریبی میزپر پڑا آپ کا اسمارٹ فون۔ ماضی کے اس سفر میں آپ کی ملاقات اسی زمانے یعنی500یا1000سال قبل کے انسانوں اور مفکروں سے ہوتی ہے۔
وہ اپنے زمانے میں ہونے والی ترقی اور علم کی حدود کا بڑے فخر سے آپ سے ذکر کرتے ہیں۔ اب یہ جدید دور آپ کا ہے۔ آپ بغیر کچھ کہے اپنی جیب سے اسی اسمارٹ فون کو نکالتے ہیں اور اس کےکمالات کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس چھوٹے سے آلے سے ہونے والی فوٹو گرافی ہی انہیں ششدر کرنے کے لیے کافی ہوگی کہ مہینوں میں بننے والی تصاویر زیادہ قدرتی اور بہتر انداز میں سکینڈوں میں حاصل ہوجاتی ہے۔ مزید یہ کہ اب یہ تصاویر عام عوام کی دسترس میں بھی آسکتی ہے۔
یہ بات ترین قیاس ہے کہ یک دم ایسے آلے کا مشاہدہ اور اسی کی طاقت کا ادارک ان500یا1000سال قبل کے انسانوں میں کئی خیالات کو جنم دے سکتا ہے۔ اب احاطہ کریں کہ اکیسویں صدی کی ایک روزمرہ کے استعمال میں آنے والی ایجاد یہ کرسکتی ہے تو قدرے بڑی ایجادات کیا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا مجموعی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کسی بھی پرانے اور نئے زمانے میں جو بنیادی فرق ہے وہ سائنسی ایجادات اور دریافتوں کا ہے ،جن کی رفتار ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز سے تیز ترین ہوتی جارہی ہے۔
لہٰذا یہ بہت ممکن ہے کہ جو فرق آپ میں اور500سال قبل رہنے والے انسانوں میں ہے وہی فرق ہم میں محض50سال بعد آنے والے انسانوں میں ہوگا۔ ہم بھی ان کی دریافتوں اور ایجادات کو دیکھ کر اتنے ہی حیرت زدہ ہوں گے جتنے ہماری ایجادات کو دیکھ 500 سال قبل کے لوگ ہوسکتے ہیں۔ حیرت کے اس سفر کا بنیادی ماخذ سائنسی علوم پر بڑھتی ہوئی انسانی دسترس اور اس سے حاصل کی گئی ایجادات اور دریافتیں ہیں۔ 2022بھی سائنسی ترقی کے لحاظ سے کافی اہم ثابت ہوا۔ علم اور وقت کی کمی کو خاطر میں لانے میں اس مضمون میں ہم مختلف سائنسی شعبوں میں 2022 میں ہونے والی چند اہم دریافتوں اور ایجادات کا ذکر کریں گے۔
ماحولیات : ۔ماحولیاتی آلودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پیچیدہ مضر اثرات بلاشبہ اس صدی اور شاید مستقبل کی آنے والی کئی صدیوں کا بنیادی مسئلہ ہوگا۔ 2022 میں ہونے والی کئی تحقیقات انتہائی فکر انگیز اشاروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ انسان کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر ناصرف زمین پر پڑ رہا ہے بلکہ زمین سے باہر خلا میں بھی اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر سائنسی جریدے Environmental science and technology کے جنوری کے شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خلا میں زمین پر پیدا کیے گئے کئی مصنوعی کیمیائی اجزا پائے گئے ہیں جن میں پلاسٹک سر فہرست ہے۔ آلودگیوں کا اہم ذریعہ خلا میں بھیجی جانے والی لاتعداد سٹیلائٹیز ہیں جواب ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔ اسی سلسلے میں چائنا نے ایک سیٹلائٹ SJ.21کو خلا میں دوسری ناقابل استعمال سیٹلائٹ کو پکڑ کر مدار سے باہر بھیجنے کا کامیاب تجزبہ کیا۔ آپ سب نے ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والےگرین ہائوس افیکٹ کا نام تو سنا ہوگا، جس کے نتیجے میں زمین کا درجۂ حرارت مستقل بڑھ رہا ہے۔
سائنسی جریدے نیچر میں فروری میں شائع ایک تحقیق کے مطابق زمین پر میتھین گیس کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح1900ppbپر پہنچ چکی ہے ۔ اسی طرح تاریخ کا بلندترین ماہانہ کاربن ڈائی آکسائیڈکا اخراج بھی اسی سال اپریل اورمئی کے مہینے میں مشاہدے میں آیا۔ امریکی ادارےNOAAکی جون 2022 میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈکی مجوعی مقدار زمین پر صنعتی ترقی کے مقابلے میں50فی صد زیادہ ہوگئی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہی دونوں گیسیں ہی گلوبل وارمنگ کی بنیادی وجہ ہیں، جس کے باعث زمین کا درجۂ حرارت مجموعی طور پر مستقلاً بڑھ رہا ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی آلودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے Global Carbon Project نے نومبر 2022میں اس بات کی پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ آنے والے9سالوں میں زمین کا درجۂ حرارت1.5.Cبڑھ جائے گا،جس کے باعث سمندورں کی سطح آب میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے گا۔اسی سلسلے میں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی ایک تحقیق جو فروری میں شائع ہوئی تھی ،اس کے مطابق اگلے30سالوں میں سمندروں کی سطح میں اضافہ گذشتہ 100سالوں میں بھی زیادہ ہوگا۔ فضائی آلودگی کے علاوہ بھی آبی اور زمینی آلودگی بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کررہی ہے۔ مثال کے طور پر سائنسی جریدےPNAS میں فروری2022 میں شائع ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے کئی دریاؤں میں ادویات کی آلودگی پائی گئی ہے۔
اسی طرح environmental science and technology نامی جریدے میں مئی 2022 میں شائع تحقیق کے مطابق کاغذ کے بنے چائے یا کافی کے کپ دوران استعمال پلاسٹک کے کھربوں چھوٹے ذرّات(nano particles) پانی میں شامل کردیتے ہیں۔ لیکن سائنس کی خوبصورتی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے تعین میں بھی ہے۔ لہٰذا سائنسی جریدے نیچر کے 2022ءکے شمارمیں سائنسدانوں نے کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے کئی ایسے کیمیائی تعملات کا تعین کیا ہے جو کہ ان آلودگیوں کو نہ صرف تلف کرسکتے ہیں بلکہ ان میں کئی تعملات انہیں ادویات میں بھی تبدیل کرسکیں گی۔
جنگلات کی مسلسل کٹاؤ یا جلاؤ آلودگی کے مسئلے کو مسلسل بڑھارہا ہے۔ مثلاً فروری2022 میں نیچر میں شائع ایک تحقیق کے مطابق گذشتہ 20سالوں میں جنگلات دوگنی رفتار سے کم ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگلات میں لگنے والی قدرتی آگ میں2100 تک31 فی صد سے 50 فی صد اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ان سب عوامل کے باعث قدرتی حیات بشمول انسان کی بقا ایک شدید خطرے کا شکار ہے، جس کی شدت میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ اپریل2022میں science advance نامی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق2018 میں تقریباً پچاس لاکھ افراد صرف آلودگی کے باعث موت کا شکار ہوئے۔
اپریل2022میںnature ecology and evolution میں شائع تحقیق کے مطابق تو انسانی پیدا کردہ آلودگی کے باعث ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے تمام بڑے جانور معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ جولائی2022میں سائنسی جریدےFrontiers in Ecology of the environmentکے مطابق تو زمین پر پائی جانے والی 30 فی صدانواع معدومیت کے خطرے کا شکار ہے۔ان سارے حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس ہے کہ اگر موثر اقدامات نہ لیے گئے تو مستقبل میں دنیا زندگی کی بقا کے لیے سازگار نہیں رہے گی۔
ٹیکنالوجی : ۔سائنس بحیثیت مجموعی تو قدرتی عوامل اور قوانین کے حقائق کی جستجو ہے لیکن ان حقائق سے آگاہی کے بعد ان کے اطلاق سے ٹیکنالوجی وجود میں آتی ہے جوکہ ترقی کی علامت یا ضامن قرار دی جاسکتی ہے۔2022میں بھی اس میدان میں بھی کئی اہم جدتیں متعارف کروائی گئیں جن میں چند پیش نظر ہیں۔ فروری 2022میں نیو کلیائی تعامل فیوزن سے توانائی حاصل کرنے کا ریکارڈ بنایا گیا گویا پانچ سکینڈ میں گیارہ میگا واٹ ثابت ہوا جو کہ1997کے ریکارڈ کے مطابق دگنا ہے۔ نیو کلیائی فیوژن دراصل وہی تعامل ہے جو ہائیڈروجن بم کی طاقت کی بنیاد ہے۔
اسی تعامل کے ذریعے سورج اپنی حرارت پیدا کرتا ہے۔ مارچ 2022 میںCell Reports Physical science نامی سائنسی جریدے میں شائع ایک تحقیق میں ایک کمپیوٹر چپ کی جسامت کے الیکڑک جنریٹر کی ایجاد کا دعویٰ کیا گیا جو کہ سورج کی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہوا کو جراثیم سے پاک رکھنے کے لیے ایک خاص قسم کا فیلٹر جسےHEPAکہاجاتا ہے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس طرح کے سسٹم کو بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کیا جاسکتا یا اس کااستعمال انتہائی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا حل مارچ 2022 میں شائع Scientific reports میں ایک تحقیق نے دیا، جس میں ایک ایسی ایجاد متعارف کروائی گئی ہے، جس میں UVروشنی کا استعمال کیا گیا ہے جو کے ایک منٹ میں 98 فی صدجراثیم کو ہوا سے روک سکتی ہے، یہ فلٹر بڑی جگہوں پر لگائے جاسکتے ہیں۔ ان کا استعمال مستقبل میں آنے والی وباؤں کے دوران لاک ڈاون کے خطرے کو روک سکتا ہے۔Hadron Collider جس نے کائنات کی ابتدا اور مادّے کی ہیت کے بارے میں کئی حیرت انگیز حقائق سے پردہ اٹھایا۔ گذشتہ تین سال سے مرمت کی غرض سے بند تھا، اس سال اپریل میں اسے دوبارہ شروع کردیاگیا ۔مئی2022میں science robotics میں شائع ایک تحقیق میں آدھےmmکے برابر ایک ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے ایک روبوٹ کو متعارف کروایا گیا۔ اس سائز کے روبوٹ جس میں بند ہونے والی شریانوں و کھولنے میں کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔
اسی سال مئی میں oak ridge national laboratory نے دنیا کہ تیز ترین Super Computerکی ایجاد کا اعلان کیا ۔ ہم سب نے الٹرا ساونڈ کی مشین کا نام توسنا ہوگا جو کہ جسم کے اندر موجود اعضا کا بغیر کاٹے مشاہدہ کرلیتی ہے۔ جولائی2022 میں سائنس نامی جریدے میں کسی بھی زخم پر لگائی جانے والی پٹی کی طرح کے ایک Patch کی دریافت شائع کی گئی جوکہ الڑا ساونڈ کی طرح کام کرتا ہے۔ اگست 2022میں سائنسدانوں نےVO2نامی مادّے کی ایک نئی خصوصیت کا پتہ چلایا کہ یہ اس پر لگنے والی پرانی ضرب یا تبدیلی کو یادرکھتا ہے۔ اس خصوصیت کو ڈیٹا کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق نیچر الیکٹرونکس نامی جریدے میں شائع ہوئی۔
فلکیات : ۔فلکیات سے انسان کا تعلق کافی گہرا اور پرانا ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی حرکات اور سکنات کو مختلف اشاروں سے تابیر کرتے ہوئے ابتدائی طور پر تو اس علم نے علم نجوم کی حیثیت اختیار کی۔ لیکن گیلیٹو کی James Webb telescope نامی دوربین کے ذریعے اب یہ علم ایک مستحکم سائنس کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔2022 میں بھی اس سلسلے میں خاصی تحقیقات منظر عام پر آئی جن میں سے چند کا مختصراً تذکرہ زیر نظر ہے۔
جب انسان کو سیاروں کی حیثیت کا اندازہ ہوا تو قدرتی طور پر پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا زمین اور ہمارے نظام شمسی جیسے اور سیارے اور نظام ہیں جہاں ممکنہ طور پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ اگرچہ خلا میں سیاروں کی تعداد تو لامحدود ہے لیکن وقتاً فوقتاً ایسے سیارے بھی دریافت ہوتے ہیں جواپنے ستارے سے قریباً اتنے ہی فاصلے پر ہیں جتنا کہ زمین اپنے ستارے سورج سے جس کی وجہ سے زمین پر زندگی ممکن ہے۔ (جاری)
اُفق پر اُبھر رہے ہیں نئے نقشے | ایجادات اور دریافتیںتیز تر ہورہی ہیں