ہندستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کے حسین امتزاج کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اردو زبان و ادب کے مخلص ادیبوں نے اپنے حسی پیکروں کو بصری پیکروں کا روپ دے کراسے دلہن کی ماننداپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے۔ہندستان ایک کثیرا للسان ملک ہے لیکن اس کے باوجود بھی اردوہی ایک ایسی زبان ثابت ہوئی جس نے یہاں کی تہذیب و ثقافت کو اپنے وسیع دامن میں سمویا ہے اوراس کی ترجمانی کرتے ہوئے خود کو ہندستانی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ بار بار اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے اور اب بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ اردو زبان کسی مخصوص خطے یا طبقے کی زبان نہیں ہے بلکہ آپ ہندستان کے جس خطے پر اپنی نظر دوڑائیں گے ؛اردو زبان اُ س خطے کی تہذیبی روایات، اقدار، رہن سہن، بول چال اور علاقائیت کی پاسداری کرتے ہوئے نظر آئے گی۔کیا ہندو اور کیا مسلمان !اردو زبان نے جہاں دونوں کے جذبات وخیالات،احساسات اورخواہشات کواپنی شہد و شکر سے شیریں لفظیات سے گویائی عطا کی ہے وہیں دونوں کی تہذیبی و ثقافتی روایات کی امین بھی ہے،قرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مسلم ثبوت بھی دیا ہے اورجدو جہد آزادی میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے مشترکہ نصب العین کے لیے کام کرنے میں اپنا اہم کردار بھی ادا کیا ہے ۔خیر اردو زبان کے ہاتھوں میں اگر ہندستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت مخملی قبا میں سجی ہوئی ہے تو اس کی اپنی قبا بوسیدہ ہورہی ہے،چاک دارہورہی ہے۔نام نہاد خادمان ِ ادب اگراردو زبان پر فخر کرتے ہوئے اس کی مدح سرائی میںزمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’سارے ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے‘‘ کیوں کہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘بھی اردو کے بڑے شاعر علامہ اقبال نے ہی کہا تھا اور تو اور جب جدو جہد کا وقت آیا تو اردو میں ہی ’’میرا نعرہ انقلاب وانقلاب و انقلاب‘‘ گھونج اُٹھا۔حالاں کہ اردو زبان پر فخر ہونا بھی چاہیے لیکن ایک بار ہمیں اردو زبان کی اُس بوسیدہ قبا کی طرف بھی ایک نظر دوڑا دینا چاہیے جس کی بوسیدگی میں کسی حد تک ہم اردو والوں کا بھی ہاتھ ہے۔اردو زبان کے دہن پر اگر اللہ،اسلام،قرآن، کعبہ، نماز، روزہ، خانقاہ، مسجد،مولانا،عید وغیرہ جیسے الفاظ ہیں تو وہیں اس کی زبان پر رام، بھگوان، ایشور،ہندو، گیتا،رامائن، مہابھارت، مندر، کرواچوتھ،پنڈت، ہولی،دیوالی جیسے الفاظ بھی توہیں ۔پھر یہ ’’مسلمان‘‘ کیسے ہوئی؟ ۔اردو دُشمنی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔اردو زبان نے کافی نفرتیں اور عداوتیں جھیلی ہیں۔ہم اس کے منہ سے گل و بلبل کا تذکرہ تو سنتے ہیں،محبوب کے جسم کی تراش خراش کو محسوس تو کرتے ہیںلیکن ہم نے کبھی اُن چھالوں کو مرحم لگانے کی کوشش نہیںکی جو خار زاروں میں چلتے چلتے اس کے پاؤں پر پڑے ہیں کیوں کہ ہماری نظریں محبوب کی سرمئی آنکھوں ، اُس کی صراحی گردن اور سرو جیسے قد سے ہٹیں گی تب جا کر ہمیں حقیقت حال معلوم ہوگا۔ہم نے اردو زبان سے یہ تو سنا ہے کہ محبوب کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول بھی اپنی قبائیں کترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن کبھی اردو زبان کی بوسیدہ قبا پر ہماری نظریں نہیں گئیں جسے اس زبان کے پُر از بغض و عناد دُشمنوں نے کتر دیا ہے۔ اردو کے ہندی زبان سے جھگڑے کے بارے میں کون واقف نہیں ہے۔کبھی اس بات پر جھگڑا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے تو کبھی اس بات پر کہ ہندوؤں کی زبان ہندی ہے اردو نہیںلیکن پھر یہ بھی ثابت کرنا پڑا کہ ’’سگی بہنوں کا جو رشتہ رشتہ ہے اردو اور ہندی میں‘‘۔اردو کے گریبان پر بار بار اس لیے بھی ہاتھ ڈالا گیا کہ اس نے ہندستان کے لیے کیا کیا ؟یہ ہندستان کی اپنی زبان نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔غرض ہر دور میں اردو دُشمن عناصر موجود رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اردو ہندستان میں ترقی و ترویج کی بلندیوں کو چھوتی رہی ہے۔
سیاسی مفادات میں’’اردو‘‘ کا ستعمال:
کسی بھی زبان کے فروغ میں معاصر حکومت کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔اسی طرح اگر ہمیں اردو زبان کی ترقی و ترویج اور فروغ کے حوالے سے جاننا ہوگا تو ہمیںاردو زبان کے سیاسی منظر نامے کو دیکھنا ہوگا اور سیاسی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینا ہوگا ۔اگر ہم مودی سرکار کی بات کریںتو یقیناً اردو کا سیاسی منظر نامہ تشفی بخش نہیں ہے کیوں کہ ’’ہندو،ہندی،ہندوستان‘‘ اور ’’ایک دیش، ایک زبان اور ایک آئین‘‘نعرے کے تحت قطعی اردو کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا ہے لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ اردو زبان کی مخالفت کے باوجود بھی انتخابی مہموں میں اپنے سیاسی مفادات کے لیے بالخصوص مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو کا خوب استعمال کیا گیا ہے۔اگر ہم مودی سرکار کی مسلم اکثریتی علاقوں میں انتخابی مہموں میںاستعمال کیے گئے بینروں(Banners) پر نظر دوڑائیں تو اُن پر اردو الفاظ بھی خوب نظر آئیں گے۔ایسے ہی ایک بینرمودی کی تصویر کے ساتھ کافی مشہور ہواتھا جس پر’’صاف نیت، صحیح وکاس‘‘(Saaf Niyat, Sahi Vikas)لکھا گیا تھا۔مجھے اُمید ہے کہ وہ اس بات سے واقف ہوں گے کہ ’’صاف‘‘،’’نیت‘‘ اور ’’صحیح ‘‘اردو کے الفاظ ہیں۔اسی نوعیت کے بینر ریلوے اسٹیشنوںپر لگے وائی فائی کے حوالے سے بھی دیکھے گئے ہیں جن پر’’بس وعدے نہیں، ترقی کے پکے ارادے‘‘(Bass Wade nahi, Taraqi ke Pakke Irade)لکھا ہوا تھا۔یہاں بھی لفظ’’وعدے‘‘ اور ’’ارادے‘‘ عربی الاصل ہیں۔جموں وکشمیر کی اگر بات کریں تو یہاں بھی سری نگری سیٹ کے لیے بی۔جے۔پی اُمیدوار خالد جہانگیر کی انتخابی مہم کے لیے جو بینر تیار کیا گیا اُس میں بھی اردو کا ہی سہارا لیا گیا تھا اور اُس پر ’’جھوٹ چھوڑئیے سچ بولیے۔۔۔پمپوش کو ووٹ دو‘‘لکھا گیا تھا۔آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ جب2014ء میں بہار، مغربی بنگال اور یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونے والے تھے تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں مودی سرکار کی کارکردگیوں کو اردو زبان میں چھاپ دیا گیا تھا۔حالاں دوسری سیاسی پارٹیاں اپنی کار کر دگیوں کو انگریزی اور ہندی میں چھاپ دیتی تھیں لیکن مودی سرکار نے اردو میں بھی چھاپ دیں ۔جس کا بنیادی مقصد مسلم ووٹرس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا تھا۔حالاں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمان ہندی یا انگریزی سے نابلد تھے اور اس وجہ سے مودی سرکار کو پارٹی کی کار کردگی اردو میں چھاپناپڑی ۔بی۔جے۔پی کے سابق نائب صدرDinesh Sharmaسے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اُنھوں نے ایسا مسلم ووٹرس کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کیا ہے یا کسی اور مقصد کے تحت ایسا کرنے پر مجبور ہوئے۔ اُنھوں نے اس بار کو نکارتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے اردو میں کتابچے اُن ریاستوں میں بھی تقسیم کیے ہیں جہاں اگلے دو سال تک کوئی چناؤ نہیں ہونے والے ہیں۔ ہاں مگر پارٹی کی کار کردگیوں کو اردو میں چھاپنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوںتک پارٹی کی ترقیوں کا علم بہتر صورت میں ہو اور اُن کے نزدیک وہ بہتر صورت’اردو‘ تھی۔اس حوالے سے اُنھوں نے کہا تھا:
"Muslims will get the message in a right way if it is given in Urdu."(Deccan Chronicle,July,16, 2015)
یہ بات مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ جو سرکار ابھی ’’ہندو، ہندی، ہندوستان‘‘ اور ’’ایک دیش، ایک زبان اور ایک آئین‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہے وہ کبھی یہ کہتی تھی کہ مسلمانوں تک اُن کی بات اگر’’Right way‘‘میں پہنچے گی تو وہ صرف اور صرف ’’اردو ‘‘ ہے۔اس ضمن میں جب پارٹی کے ایک کارکن سے اس حوالے سے پوچھا گیا ؎تھاتو اُس نے واضح الفاظ میں یوں کہا:
"…but now we are publishing in Urdu too so that the Muslim voters can read it themselves and assess the performance of the Modi Government."(Source, Deccan Chronicle,July 16,2015)
اب یہاں پر ذہن صاف ہوجانا چاہیے اور کسی بھی قسم کا مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ مودی سرکارکو اگر مسلمانوں تک رسائی پانا مقصود ہوتا ہے تو وہ بہتر جانتی ہے کہ کس زبان کے ذریعے اُن تک رسائی ممکن ہے یا اپنی بات پہنچائی جائے لیکن جب ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارمز کا نام انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوا ہوتا ہے تو اُسے برداشت نہیں ہوتا ہے اور وہ ’’اردو‘‘ کو ہٹا کر’’سنسکرت‘‘ میں لکھنے کا حکم نامہ جاری کرتی ہے۔جب چند ایک لیڈر ’’اردو‘‘ زبان میں حلف اُٹھاتے ہیں تو اُنھیں اجازت نہیں دی جاتی ہے لیکن جب 13بی۔جے۔پی کے لیڈر ’’سنسکرت‘‘ زبان میں حلف لیتے ہیں تو اُنھیں روکا نہیں جاتا ہے۔اسی طرح جب 2013ء میں دہلی میں اسمبلی الیکشن ہوئے تو بی۔جے۔پی نے انتخابی مہم کے دوران مسلم اکثریت علاقوں میں اردو میڈیم اسکول کھولنے کے وعدے کیے تھے اور ساتھ ہی انتخابی مہم کے لیے کتابچے بھی اردو زبان میں تقسیم کیے تھے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اردو زبان کے تئیں بی۔جے۔پی کا کیا رویہ ہے۔ جس طر ح آج مودی سرکار کو اس بات کی پراوہ نہیں ہے کہ اگر ہم ’’ایک زبان‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں تو کیا وہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی؟جب ’’ایک زبان ‘‘ کا نعرہ لگتا ہے تو کیا اردو جیسی زبان جو 5کروڑ ہندستانیوں کی زبان ہے،اُس کے ساتھ یہ نا انصافی نہیں ہوگی؟۔جب مودی سرکار کو کرسی کا معاملہ پیش آتا ہے تو اُسے مسلمانوں کے مسائل یاد آتے ہیںاور اُسے اردو میڈیم اسکولوں اور اردو میںبنیادی تعلیم پانے والے مسلمان بچوںکی فکر ہونے لگتی ہے۔ اس حوالے سے بی۔جے۔پی کی لیڈرVani Tripathiنے کہا تھا:
"For students with an Urdu background, there has always been a demand to provide them education in the language they are confortable with. If we are voted back to power, we'll open more Urdu medium schools in wards."(Hindustan Times,April 13, 2012)
اس بات پر اگر ہم غور کریں گے اور اردو کے موجودہ سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔ اگر مودی سرکار کو واقعی اس بات کا احساس ہوتا کہ مسلمان اردو زبان میں زیادہ’’Comfortable‘‘ہیں تو’’ہندی دیوس‘‘ کے ساتھ ساتھ’’یوم اردو‘‘ بھی منا لیتی، اگر واقعی اُسے اردو زبان سے دلچسپی ہوتی تو جموں و کشمیر میں ’’اردو زبان‘‘ کو ہٹانے اور ’’ہندی‘‘ کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کی بات نہیں کرتی۔اسی طرح جب بھوپال میں لوگوں نے CAAکے خلاف احتجاج کیا تو مودی سرکار جو’’ایک دیش، ایک زبان‘‘ کی بات کر رہی ہے ،اُس نے CAAکی حمایت میں جو کتابچے لوگوں میں تقسیم کیے وہ ’’اردو زبان‘‘ میں تھے۔
(مضمون نگار کا تعلق چیوہ اُولر، ترال کشمیرسے ہے اور وہ حیدر آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پی ایچ ڈی کے ریسرچ سکالر ہیں،رابطہ۔9149958892)
(مضمون جاری ہے،اگلی قسط انشاء اللہ کل شائع کی جائے گی۔)