نئی دہلی//انڈیا بمقابلہ انگلینڈ کے درمیان جاری سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں آخری دن کا کھیل باقی رہ گیا ہے ، ویراٹ کوہلی کے دھریندروں نے ٹیسٹ کے چوتھے دن سیریز میں ناقابل تسخیر برتری حاصل کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ شاردول ٹھاکر اور رشبھ پنت کی سنچری شراکت کی بدولت ہندوستانی ٹیم نے انگلش ٹیم کے سامنے 368 رن کا پہاڑ جیسا ہدف رکھا۔ جو روٹ کی قیادت والی انگلینڈ ٹیم کو اگر اوول میں بازی مارنی ہے تو اس میدان کی تاریخ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پانچویں دن کی پچ اور بھارتی تیز گیند بازوں کی فارم کو دیکھتے ہوئے انگلش ٹیم کے لئے ایسا کرپانا بے حد مشکل نظر آ رہا ہے ۔ ان تین وجہوں سے ٹیم اندیا نے چوتھے ٹیسٹ کو تقریباً اپنی مٹھی میں کر لیا ہے ۔ اوول کے میدان پر ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک چوتھی پاری میں کوئی بھی ٹیم 300سے زیادہ کے ہدف کا کامیابی کے ساتھ تعاقب نہیں کر سکی ہے ۔اس میدان پر ککرٹ کے سب سے لمبے فارمیٹ میں چوتھی اننگ میں سب سے یادہ 263رن چیز ہوئے ہیں۔ سال 1902 میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف کامیاب رنوں کا تعاقب کر کے جیت درج کی تھی ۔ یعنی اوول میں ار جو روٹ کی ٹیم کو جیت کا مزہ چکھنا ہے تو چوتھی پاری میں تاریخ رقم کرنی ہوگی ۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو بتا دیں کہ بھارت نے ٹیسٹ ککٹ میں 300سے زیادہ کی سبق لینے کے بعد پچھلے 44سال سے کوئی بھی مقابلہ نہیں گنوایا ہے۔ سال 1977-78میں آسٹریلیا نے ٹیم انڈیا کے خلاف 342رن چیز کر کے میچ جیتا تھا ۔ ایسے میں انگلینڈ کو جیت کے لئے بھارت کے خلاف وہ کر کے دکھانا ہوگا جو دنیا کی کوئی بھی ٹیم بھارت کے خلاف آخری 44سال میں نہیں کر سکی ہے۔ تیسری وجہ جو اوول میں ہندوستان کی فتح کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے وہ روہت شرما اور چیتیشور پجارا کی سنچری پارٹنرشپ ہے۔ ٹیسٹ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ ان دونوں بلے بازوں نے سنچری کی شراکت قائم کی ہے۔ اس سے قبل 2019 میں ، اس ہندوستانی جوڑی نے جنوبی افریقہ کے خلاف یہ کیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس اننگز میں بھی ہٹ مین نے 127 رنز بنائے تھے اور اوول میں روہت کا اسکور جوں کا توں رہا۔ اس میچ میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی۔ ایسااگر ہم روہت-پجارا کی شراکت کو ذہن میں رکھیں تو مانچسٹر میں ٹیم انڈیا 2-1 کی برتری کے ساتھ جیتتی نظر آ رہی ہے ۔