انقرہ// مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق جُرات مندانہ فیصلہ لیتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم نے مقدس شہرکو فلسطین کی راجدھانی تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ائوآئی سی نے دیگرممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ بیت المقدس(یروشلم)کواسرائیل نہیں بلکہ مملکت فلسطین کادارالخلافہ تسلیم کریں ۔اس دوران ترکی کے صدرطیب اردغان نے اسرائیل کو ایک قابض اور دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم مسلمانوں کے خلاف مظالم کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ادھرسعودی فرمانروا شاہ سلمان نے امریکی صدرکے متنازعہ اقدام کوقابل مذمت قراردیتے ہوئے یہ واضح کردیاکہ فلسطین بیت المقدس کو کو اپنی راجدھانی قرار دے سکتا ہے۔کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مسلم ممالک کے مشترکہ پلیٹ فارم ائوآئی سی یعنی اسلامی تعاون تنظیم نے مقبوضہ بیت المقدس(مشرقی یروشلم )کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی ایسا ہی کرنے اپیل کی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں بدھ کے روزمنعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک غیرمعمولی ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک 23 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ بیت المقدس( یروشلم )کے معاملے کے حل کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام انتہا پسندی اور دہشت گردی بڑھائے گا۔ امریکہ کا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اعلان امن عمل سے دستبرداری ہے لہذا امریکہ مشرق وسطیٰ امن عمل سے اپنا کردار ختم کرے۔ او آئی سی اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے۔قابل ذکر ہے کہ 57 مسلم ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ50 ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ پاکستان سمیت22مسلم ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ائوآئی سی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں اسرائیل کو ایک قابض اور دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف مظالم کو اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔