جے کے این ایس
سرینگر//جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے انکم ٹیکس قانون کے تحت دوبارہ جانچ (ری اسیسمنٹ یعنی دوبارہ سرمایہ کاری) سے متعلق ایک اہم فیصلے میں سال 2013-14کے معاملے میں کارروائی کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ مقررہ قانونی مدت ختم ہو چکی تھی، اسلئے یہ کارروائی درست نہیں تھی۔سرینگر میں جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ نے 25 جولائی 2022 کوIncomeTaxActکی دفعہ148A(d) کے تحت جاری حکم اور26 جولائی2022 کو دفعہ 148 کے تحت جاری نوٹس کو منسوخ کر دیا۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ یہ دونوں آرڈر قانونی مدت ختم ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 31 مئی 2021 کو جسبیر سنگھ اوبرائے کو دفعہ 148 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔ اس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ تعین سال 2013-14 کے لیے ایک کروڑ30 لاکھ روپے کی آمدنی کا حساب نہیں دیا گیا تھا۔بعد میں سپریم کورٹ کے مقدمہ یونین آف انڈیا بمقابلہ آشیش اگروال کے فیصلے کے بعد اسیسنگ آفیسر نے 24 مئی2022 کو ایک نیا خط بھیجا۔ یہ نوٹس دفعہ148A(b)کے تحت جاری کیا گیا تھا جس میں اوبرائے کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، لیکن انہوں نے مقررہ وقت میں جواب نہیں دیا۔اس کے بعد 25 جولائی 2022 کو افسر نے دفعہ 148A(d) کے تحت حکم جاری کیا اور کہا کہ اس معاملے میں دفعہ 148 کے تحت نوٹس دینا ضروری ہے۔ اگلے دن یعنی 26 جولائی 2022 کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ جسبیر سنگھ اوبرائے نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی اور کہا کہ ان کم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ149 کے مطابق یہ کارروائی وقت کی حد گزر جانے کے بعد انجام دی گئی ہے۔
اس میں فائنانس ایکٹ 2021میں کی گئی ترامیم کا بھی ذکر کیا گیا۔ جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل بینچ نے پرانے قانون، فائنانس ایکٹ 2021کی ترامیم اور کووڈ عالمی وبا کے دوران دی گئی رعایتوں کا بھی جائزہ لیا، جن کا ذکرOther Lwas(Relaxation of certain Provisions)Act 2022میں ہے۔ججوں نے سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے یونین آف انڈیا بمقابلہ راجیو بھنسل کا بھی حوالہ دیا، جس میں اپریل سے جون2021 کے درمیان جاری نوٹسوں کے لیے وقت کی حد کا طریقہ واضح کیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے کہا کہ نئے قانون کے تحت جاری کیے جانے والے نوٹس وہی ہوں گے جو انکم ٹیکس ایکٹ اور ٹی او ایل اے کے تحت باقی رہ جانے والی قانونی مدت کے اندر جاری کیے جائیں۔ اس مدت کے بعد جاری ہونے والے تمام نوٹس غیر قانونی ہوں گے اور انہیں منسوخ کیا جا سکتا ہے۔جسبیر سنگھ اوبرائے کے معاملے میں عدالت عالیہ نے کہا کہ تعین سال 2013-14 کے لیے اصل 6 سال کی مدت 31 مارچ 2020 کو ختم ہو گئی تھی۔ تاہم ٹی او ایل اے کے تحت یہ مدت30 جون 2021 تک بڑھا دی گئی تھی۔ اس لیے31مئی 2021 کو دیا گیا پہلا نوٹس وقت کے اندر تھا۔عدالت عالیہ نے کہا کہ دوبارہ جانچ کی کارروائی شروع کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا وہ قانونی مدت کے بعد تھا، اس لیے قانون کے مطابق درست نہیں ہے۔ جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل بنچ نے مزید کہا کہ 25 جولائی 2022 کا حکم اور 26 جولائی 2022 کا نوٹس منسوخ کیے جاتے ہیں۔عرضی منظور کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے کہا کہ تمام حقائق اور قانون کو دیکھتے ہوئے یہ درخواست قبول کی جاتی ہے اور دونوں حکم نامے منسوخ کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے سے جڑی باقی درخواستیں بھی ختم سمجھی جائیں گی۔