محمد امین اللہ
الف لیلیٰ کی داستان طلسم ہوش رُبا پڑھ کر انسانی عقل چکرا جاتی ہےاور زمانہ قدیم کی انسانی ترقی اور جادوئی کمالات ہر خاص و عام کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ اب تو Holly Woodاور Bollywood نے اس پر فلمیں بھی بنا دی ہیں۔ امریکہ میں ایک تحقیقی ادارہ Thousands Miracle of the ancient days کے عنوان سے اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ فراعنہ مصر کے اہرام، بابل کا جھولتا باغ، الیکسر سٹی کے ایر کنڈیشنر مکانات، عاد و ثمود کی بستیاں اور موئن جو داڑو کے کھنڈرات ایک طرف انسانی عروج و زوال کی نشانیاں بیان کرتے ہیں تو دوسری جانب اسباب تباہی بھی تاریخ اور قرآنی قصص میں موجود ہیں۔
مگر دور جدید کے لاسلکی آلات اور ہوائی پیغام رسانی ایک طرف انسان کی مسخرانہ صلاحیتوں کو ظاہر رہا ہے تو دوسری جانب اس کی ہوش ربا سرعت پذیر تباہی کی نوید بھی سنا رہا ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں بیٹھا فرد اس آلہ ابلاغ کے ذریعہ دنیا کی تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہےاور خوف ناک تباہی اور بربادی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ جدید لاسلکی ترقی فرد کو بالا دست اور معاشرے کو پست کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اس فکر کو مد نظر رکھ کر چند سوالات قارئین تک پہنچانے کی کوشش اس مضمون میں کی ہے۔
عام آدمی کی دسترس میں سوشل میڈیا ہے اور دنیا کی اکثریتی آبادی اس کو استعمال کر رہی ہے۔تو کیا؟ سوشل میڈیا کے ذریعہ انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ کیا ریاستی حکمرانوں کے ذریعہ پیدا کردہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کیا سیلاب کی طرح پھیلتی ہوئی برائی، فحاشی عریانی کو روکا جا سکتا ہے۔ کیا آن لائن تعلیم اسکول، کالج اور جامعات کی پڑھائی کے متبادل ہو سکتا ہے۔ جس سوشل میڈیا نے خاندانی نظام اور شوہر بیوی کے تعلقات کو مشکوک بنا کر رشتوں کو پامال کر دیا ہے اس کو روکا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے مقدس ہستیوں کی تذلیل کی جا رہی ہے اس پر قدغن لگایا جا سکتا ہے۔آج کا سوشل میڈیا ایک بڑے بلیک میلر کا روپ دھار لیا ہے۔ کیا اس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا دور جدید کا ایسا ابلاغی ایجاد ہے جس نے دنیا کو لوگوں کی مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ اب 5 G 6G کے بعد پلک جھپکتے ہر بات کی عالمی تشہیر ہو جاتی ہے ۔ اس کے باوجود حکومتیں جب چاہتی ہیں، پورے ملک یا محدود علاقوں میں بند کر دیتی ہیں ،اس لئے کہ اس تمام تر ابلاغی ذرائع کا تعلق فضائی کنٹرول سے مشروط ہے۔ شمالی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے سوشل میڈیا کی ناک میں نکیل ڈال رکھی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے تمام ملکوں میں سائبر کرائم کے سد باب کا شعبہ موجود ہے۔ یہ جتنا فعال ہے وہ اس کو قابو کرنے میں کامیاب ہیں۔اب دنیا Digital War کی جانب بڑھ رہی ہے۔ چین، روس، امریکہ اور یورپی ممالک تیزی سےIT ٹیکنالوجی کے سرعت پذیر ایجادات کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ہوانا سنڈروم کے ذریعہ امریکی سفارت کاروں کو دنیا کے مختلف حصوں میں اعصابی مریض بنایا جا رہا ہے۔ چین الیکٹرو میگنٹب ویب کے ذریعہ لداخ میں انڈین فوجیوں کو گرمی سے ہلاک کر رہا ہے ۔ زمین کے محوری بلندی پر ہزاروں مصنوعی سیارچے اسٹار وار کی تیاری میں مصروف ہیں۔
اس سب کے باوجود سوشل میڈیا کا ہدف اخلاقی زوال کے تابوت میں کیل ٹھونکنا ہے تاکہ قہر خداوندی جوش میں آئے۔
اخلاقی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، ذہنی امراض اور مختلف گیمز کے ذریعہ خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے فلاح انسانیت کی سوچ رکھنے والے زعماء کو پریشان کر دیا ہے ۔ افسوس تو دینی تحریکوں اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کے رویوں کا ہے جو اس تباہ کن انسانیت کش اور خدا بیزار جارحیت کا سدباب کرنے کے بجائے فروعی، مسلکی اور جماعتی مفادات سے ہٹ کر سوچنے کے روداد نہیں ۔ انسانی اخلاق اور سیرت کی تعمیر کا بنیادی کردار ادا کرنے والے اساتذہ اب تعلیم کی بروکری میں لگے ہوئے ہیں اور نتیجتاً ایک ایسی انسانی نسل اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں تیار ہو رہی ہے جو نہ صرف عیاش بن رہے ہیں بلکہ مختلف روپ میں حیوانیت کو شرم سار کر رہے ہیں۔ جس کو عالمی طاغوت حقوق انسانی اور حقوق نسواں کے نام پر قانونی چھتری فراہم کر رہا ہے۔ حتیٰ کے سر زمین نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تقدس بھی پامال ہو رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ چند سالوں میں دور جاہلیت کے تمام خرافات لوٹ آئیں گے ۔نا محرم عورتوں کو تنہا حج عمرہ کرنے اور ہوٹلوں میں ٹھہرنے کی اجازت مل چکی ہے۔ یہ سب جدیدیت کا اور سوشل میڈیا کا کردار ہے۔
یہ تمام خرافات ریاست کی سرپرستی میں انجام پا رہےہیں۔ ارجنٹائن کی وزیر اعظم پہلے ماں بنتی ہے پھر شادی کرتی ہے اور معروف و مقبول بھی ہے ۔
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو مٹا دیتے ہیں آلات
اسی I.T. ٹکنالوجی کے ذریعہ مصنوعی ذہانت کی جدید اور ہوش ربا ایجاد نے روئے زمین پر انسانوں کی تباہی کی نوید سنا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ہم نے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پڑھی ہے کہ جب دجال کا ظہور ہوگا تو وہ لوگوں کو اپنے مردہ والدین سے ملاقات کرائے گا اور مردوں کو زندہ کر کے دکھائےگا ۔ آج 7D Hollow gram ٹکنالوجی کے ذریعہ مصنوعی طور پر یہ نظارے دکھائے جا رہے ہیں ۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ جاپانی شادی کی ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر Visual Wife کا انتظام کرنے لگے ہیں ۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر جب گھر آتے ہیں تو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کمرے میں ایک visual Wife نمودار کرکے جی بہلاتے ہیں ۔ آج کی دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کا پورا نظام Digitalize ہو گیا ہے ۔ دفاعی نظام سے لیکر مالیاتی ، پاور پلانٹ ، فراہمئ آب ، ایٹمی پروگرام تنصیبات ، گو کہ حکومتی راز اور منصوبے سب Digitalize ہیں ۔ اور Dark wave میں بیٹھے ہوئے نجی اور حکومتی cyber experts ہر وقت اپنا کرشمہ دکھاتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف نقصانات پہنچاتے ہیں بلکہ بلیک میل بھی کرتے ہیں ۔ خدشہ تو یہ ہے کہ کسی دن کوئی انسانیت دشمن ملک یا شخص کسی ملک کے ایٹمی مزائیل تک دسترس حاصل کرکے اس ملک کے دشمن ملک پر فائر کردے تو ایٹمی جنگ شروع ہو جائے گی اور دنیا تباہ ہو جائے گی اور انسانوں کی جگہ لال بیگ رہ جائیں گے کیونکہ ان پر تابکاری اثرات نہیں ہوتے ۔فی الحال اسرائیل کے خلاف حماس کا حملہ اس لئے تباہ کن ہوا کہ اسرائیلی دفاعی نظام ہیک ہو چکا تھا اور Iron dome فیل ہو گیا تھا ۔ مستقبل قریب میں یہ انٹر نیٹ اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کیا تباہی لائے گی۔ اس کو قرآن نے فرما دیا ہے ۔
’’خشکی اور تری میں جو فساد ہے یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔‘‘( سورہ الروم)۔
(مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے)