عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے کل گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں جدید ترین 1.5 ٹیسلا میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (ایم آر آئی) سہولیت لوگوں کے لئے وقف کی ۔ اُنہوں نے جی ایم سی اننت ناگ کے ایسی سی ایٹیڈ ہسپتال کے شعبہ اوپتھامالوجی میں تین ماڈیولر آپریشن تھیٹرز اور وٹریکٹومی مشین کا بھی اِفتتاح کیا۔اِس موقعہ پر وزیر موصوفہ نے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا،’’حکومت عوامی صحت کے نظام میں بہتری لانے کے لئے ضلع اور میڈیکل کالج سطح پر تشخیصی سہولیات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
جی ایم سی اننت ناگ میں اس ایم آر آئی سہولیت کے آغاز سے مریضوں کی بہتر نگہداشت ممکن ہوگی اور گھروں کے قریب مریضوں کی بروقت تشخیص کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘وزیرموصوفہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے تعاون سے جی ایم سی اننت ناگ میں پہلے سے فعال کیتھ لیب نے جنوبی کشمیر اور پیر پنچال خطے کے لوگوں کے لئے زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’پہلے اس ہسپتال سے ریفر کئے گئے متعدد مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے کیوں کہ وہ سنہری گھنٹے میں سری نگر کے ہسپتالوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے لیکن اَب اس جی ایم سی میں کیتھ لیب کی دستیابی کے باعث دل کے امراض کا جدید علاج یہیں فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘وزیرصحت نے اِس بات پر زور دیا کہ جدید تشخیصی ڈھانچہ حکومت کے وسیع تر صحت اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم ستون ہے جس کا مقصد اِنتظار کے وقت کو کم کرنا، علاج کے نتائج کو بہتر بنانا اور جموں و کشمیر میں صحت خدمات کی مجموعی فراہمی کو مضبوط کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے مختلف جی ایم سیز بشمول جی ایم سی اننت ناگ میں مختلف سپیشلٹیز اور سپر سپیشلٹیز میں میڈیکل نشستوں میں اِضافہ کیا گیا ہے۔