بانہال//سنیچر 26جون کو منشیات کے خلاف عالمی دن منایا گیا اور اس نسبت سے پروگرام اور سمینار بھی منعقد کئے گئے لیکن زمینی سطح پر منشیات خاص کر تباہ کن نشہ ہیروئین کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے اور نوجوان نسل اس لت میں مبتلا ہو رہی ہے اگرچہ پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے منشیات مخالف کاروائیوں کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے لیکن سماج اور سرکار کی طرف سے اس وبا کو ختم کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ رام بن میں بھی آدھ درجن سے زائد افراد ہیروئین کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان گنوا چکے ہیں جبکہ بہت واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوئے ہیں۔ضلع رام بن سے گذرنے والی شاہراہ پر اور ضلع رام بن کے بانہال اور رام بن ، گول اور بٹوٹ کے علاقوں میں پچھلے چند مہینے سے نئی نوجوان خاتون ایس ایس پی رام بن محترمہ پی ڈی نتیا کی قیادت میں منشیات کے استعمال کی لت میں ملوث افراد اور اس کے کاروبار سے جڑے سمگلروں کو بانہال ، رام بن ، گول ، بٹوٹ ، چندر کوٹ اور ریلوے سٹیشن بانہال سے پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا ہے اور رام بن کے علاقوں ، پنچاب اور کشمیر کی طرف لائی لیجانے والی منشیات کو بڑی کوشیشوں کو ناکام بنایا ہے جس میں پھکی ، شراب ، نشہ اور کیپسول ، ٹکیاں ، چرس اور ہیروئین کی بڑی مقدار کو اپنی منزلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضبط کیا گیا ہے اور لانے والے پکڑے گئے ہیں۔پچھلے کئی برسوں کے دوران ضلع رام بن سے تعلق رکھنے والے کم از کم ایک درجن نوجوان ہیروئین کے مبینہ استعمال کی وجہ سے گھروں کے علاو¿ہ کئی دیگر جگہوں پر مردہ حالت میں پائے گئے جن میں سے ضلع رام بن کے ایک 23 سالہ نوجوان ، جو اپنے جنم دن کے موقع پر گھر سے رام بن کیلئے نکلا تھا کو ہیروئین کے مبینہ استعمال اور اور ڈوز کی وجہ سے ادہمپور ضلع جیل کی ایک سڑک پر اگلی صبح مردہ پایا گیا تھا جبکہ وہ گھر سے رام بن کیلئے نکلا تھا۔اسی طرح کے ایک اور واقع میں ضلع رام بن کا ہی ایک اور نوجوان گھر سے سرینگر کیلئے نکلا تھا لیکن اس کو اگلی صبح ضلع اننت ناگ کے ڈورو اور کوکرناگ کو جوڑنے والی لِسر رابطہ سڑک پر ہیروئین کے مبینہ اور ڈوز کی وجہ سے مردہ حالت میں پایا گیا ، جبکہ اسی طرح ریلوے سٹیشن بانہال کے نزدیک چند سال پہلے ایک نوجوان کی موت ہیروئین کے مبینہ استعمال کی وجہ سے ہوئی تھی۔مبینہ طور پر منشیات کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے جانے والے افراد کے رشتہ داروں اور اس کی لت میں مبتلا کئی نوجوانوں کے والدین نے کشمیر عظمیٰ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ موت کے ان معاملات میں منشیات فراہم کرنے والے موت کے سودا گر سمگلروں کو گرفتار نہ کئے جانے کی وجہ سے سماج میں ہیروئین کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کا اندازہ صوبہ جموں میں دس پندرہ گرام ہیروئن کے ساتھ آئے روز پولیس کے ہتھے چڑھنے والے نوجواں کی تعداد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن میں منشیات مخالف پولیس کے ساتھ ساتھ والدین اور سماج کا ایک بڑا کردار بنتا ہے لیکن اسے نہیں نبھایا جارہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں منشیات پہنچانے والے سمگلروں کی جڑوں کو جب تک اکھاڑ پھینکا نہیں جائے گا تب تک اس بدعت کی مکمل روک تھام ممکن نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عالم یہ ہے کہ فزیکل کنٹیکٹ کے بغیر ہی اس لعنت میں مبتلا افراد کو منشیات خاص کر مہنگی دام ہیروئین کی ڈیلوری کی جاتی ہے اور نشے کی لعنت میں مبتلا افراد گھر بیٹھے ہیروئین منگواتے ہیں۔ انہوں نے کہا ضلع رام بن میں ہماری نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ منشیات کی لت میں مبتلا ہے اور ان کے علاج و معالجہ کیلئے ان کے والدین کی مدد سے ایسے کئی نوجوانوں کو ڈرگ ڈی ایڈیکشن سینٹر منتقل کرنے میں سرکار کی طرف سے بھرپور رہبری اور رہنمائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی والدین منشیات کے عادی بچوں کی حرکتوں اور روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آئے ہیں اور رقومات نہ ملنے کی صورت میں ایسے بچے گھروں میں توڑ پھوڑ اور مارپیٹ پر اتر آتے ہیں۔ انہوں نے ایسے والدین کو پولیس اور محکمہ صحت کے تعاون اور مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منشیات کے عادی بچوں کی باز آباد کاری کیلئے ضلع رام بن میں ایک جدید Drug de addiction center کا قیام ناگزیر ہوگیا ہے اور اس سے مبتلا نوجوانواں اور ان کے والدین کو چھٹکارہ ملے گا۔
فوج نے جانکاری تقریبات کا انعقاد کیا
محمد تسکین
بانہال // منشیات مخالف عالمی دن کے موقع پر ضلع رام بن میں کئی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ فوج کی طرف سے بانہال کے چملواس علاقے میں منشیات کے استعمال ، سمگلنگ اور اس کے خاتمے کےلئے ایک آگاہی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے منشیات کے ناجائز استعمال اور ناجائز سمگلنگ اور صحت پر اس کے مضر اثرات کے بارے میں بات کی
۔اس بات چیت میں منشیات کے مختلف ذرائع اور اس علاقے میں منشیات کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے اقدامات پر زور دیا گیا اور سماج اور والدین کو بھی منشیات مخالف مہم کا حصہ بننے کی تلقین کی گئی اور سماج میں اس لت میں مبتلا افراد اور سمگلروں کی شناخت کے طریقوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔مقامی مدرسہ کے مہتمم اور امام چکناڑواہ مسجد مفتی شکیل احمد سوہل نے بھی اس موقع پر قرآن کریم کی وہ تعلیمات بیان کیں جس میں تمام نشہ اوور اشیا ءکو ممنوع اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر قرآن مقدس کی آیات اور حدیث نبوی ﷺ کی کئی احادیث پیش کیں جس میں اسلام میں منشیات کی مخالفت کی گئی ہے اور اس کے استعمال کو سختی سے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس پروگرام میں کویڈ 19کے رہنما اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے چملواس اور اس کے گرد نواح کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب لوگوں نے شرکت کی اور منشیات کی لعنت سے دور رہنے کا عہد کیا۔