یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ ایک مسلمان کی شخصیت پورے معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے،اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہر روز آئینہ دیکھا کریں ،اگر بُری صورت ہو تو بُرا فعل نہ کریں ،تاکہ بُرائیاں ہمارے اندر جمع نہ ہونے پائیں اور اگر صورت اچھی ہے تو بُرا کرکے اِس کی خوبصورتی کو تباہ نہ کریں ۔ یاد رکھیں کہ اچھا وہی ہے جس کے دِل کا آئینہ صاف ہے،تاہم دنیا کاکوئی آئینہ انسان کی اُتنی حقیقی تصویر پیش نہیں کرسکتا ،جتنا کہ اُس کا برتائو۔کیونکہ برتائو ہی وہ آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنا عکس دیکھ سکتا ہے،شائد اسی لئے فلاسفروں کا کہنا ہے کہ دوسروں کی زندگی کے آئینے میں اپنے لئے راہِ عمل تلاش کرو اور اس بات پر غور و فکر کرلو کہ جب ہر تصویر اپنے مصّوِرکی عظمتوں کا ’آئینہ ‘ ہوتی ہے تو پھر کائنات کا خالق کتنا عظیم الشان ہے۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ گناہوں سے بچتا رہے اور نیک کام کرتا رہے۔کیونکہ آخرت میںاللہ تعالیٰ کے پاس بہترین سفارش نیک اعمال ہیں۔ نیک اعمال ایمان کو زیادہ نہیں کرتے بلکہ روشن کرتے ہیں اور بُرے اعمال ایمان کو کم نہیں کرتے بلکہ مکدر کردیتے ہیںاور جو مسلمان اپنے ایمان و ایقان کا عملی مظاہرہ نہیں کرتا، وہ محض حاشیے کی ایک برادری بن کر رہ جاتا ہے۔در حقیقت صاحبِ ثروت مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ غریبوں کے درد کو محسوس کریں، یہ کوئی شکوہ یا الزام نہیں بلکہ اصلاح اور تدارک کی ایک سنجیدہ دعوت ہے، جس پر عمل کے لئےواضح عزم اور بامقصد حکمتِ عملی درکار ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائے، جس کے تحت غریب بچوں کے لئے مفت اور جدید تعلیم، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار اور مستحق افراد کے لیے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یاد رکھیں کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ جب غربت کے باعث نوجوان نسل گمراہی کی طرف بڑھ رہی ہو، بہترتعلیم کا فقدان ہو اور دو وقت کی روٹی کے لئے جدوجہد زندگی کا معمول بنا ہو تو یہ سوال لازماً اُٹھتا ہے کہ اہل ِ ثروت نے اپنی زکوٰۃ اور صدقات کو کس انداز میں استعمال کررہے ہیں؟کیا یہ کہا جائے گا کہ راشن کا بیگ تقسیم کرکے اس کی ویڈیوز اور ریِلز سوشل میڈیا پر وائرل کرکے داد و تحسین سمیٹ لی جائیں؟ اس طرزِ عمل میں خدمت سے زیادہ دکھاوا اور ریاکاری ہےاور بعض لوگ توغریبوں کی مجبوری کو ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتے ہیں، یہاں تک کہ کئی غیرت مند مستحق افراد اس طرح کی امداد سے انکاری ہورہے ہیں۔ اس نمائشی طرزِ خیرات سے باہر نکل کر دیانت داری کے ساتھ غربت کے حقیقی اسباب کے خاتمے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج نوجوان منشیات اور جرائم کی طرف مائل ہو رہے ہیں ،ان میں سےاکثر نوجوانوںکے پیچھے اُن کی مجبوری، محرومی اور مستقبل سے ناامیدی کارفرما ہوتی ہے۔بعض نوجوانوں میں علمی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ معاشی کمزوری ہے، جس کے باعث وہ جدید حالات سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہےہیں اور اقتصادی طور پردوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً منفی سوچیں جنم لے رہی ہیں اور تعمیری سرگرمیاں محدود ہوتی جا رہی ہیں۔اگرچہ زکوٰۃ اور صدقات کوماہِ رمضان تک محدود کر دیا گیا ہے لیکن اس مقدس مہینے میں بھی اسلام کے اس اہم رُکن یعنی زکوٰۃ کی پا مالی ہو تی رہتی ہے۔زکوٰۃ کا نظم اللہ تعالیٰ نے دوسرے ارکان اسلام کے مانند اجتماعی رکھا ہے ، اور اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ جس علاقے سے زکوٰۃ وصول کی جا ئے اُسی علاقے کے فقراء و مساکین میں تقسیم کی جا ئے لیکن اکثر ایسا ہوتا نہیں۔ جبکہ ملی اور اصلاحی خدمات کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنا ہی کامیابی سمجھ لیاجاتا ہےجوکہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے، کیونکہ دنیا کو دکھانے کے لئےکئے گئے چند وقتی اقدامات معاشرتی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ ایک دن کی افطاری، رمضان کا دسترخواں یا ایک ماہ کا راشن غربت کے مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتا۔اسلام کا مقصد مسلمانوں کو اسلامی کردار کا حامل بنانا ہے نہ کہ صرف سوشل میڈیا کو مذہبی رنگ دینا۔ اسلامی تعلیمات تو یہاں تک تلقین کرتی ہیں کہ صدقہ اس طرح دیا جائے کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ اہل ِ ثروت کو چاہیے کہ خود ساختہ ذہنی سانچوں سے باہر نکل کر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کام کریںاورایک ایسا طرزِ عمل اختیار کریںجوغریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایسا راستہ ہموارکریں جو حقیقی روحانیت، قلبی سکون اور دائمی اجر کا ذریعہ بن جائے۔
��