مکیت اکملی
سرینگر // جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے جمعرات کو سوال اٹھایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے حامی کارکن ہمیشہ اپنی مہم کا مرکز جموں و کشمیر کو ہی کیوں بناتے ہیں، جبکہ ایسی مہمات دہلی، کولکاتا یا ملک کے دیگر حصوں سے کیوں شروع نہیں کی جاتیں۔ الطاف بخاری صحافیوں سے اس سوال کے جواب میں گفتگو کر رہے تھے جس میں حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شخصیات کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے کھلے خط کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس خط میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کی بحالی اور تعلقات کو معمول پر لانے کی اپیل کی گئی تھی۔30 جون کو جاری کیے گئے اس خط کی رابطہ کاری سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے چیئرمین او پی شاہ نے کی تھی۔ اس پر بھارت کے 61اور پاکستان کے 55ممتاز افراد نے دستخط کیے تھے، جن میں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یوسف تاریگامی، سابق را چیف اے ایس دلت، منوج جھا، سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر، پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی سمیت کئی سابق سفارت کار اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔
خط میں دونوں حکومتوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن، معمول کی صورتحال، مذاکرات اور باہمی تعاون کی بحالی کے لیے بامعنی اور مستقل اقدامات کریں، کیونکہ اختلافات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ مسلسل بات چیت اور رابطہ ہے۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا’’میرا جواب بہت سادہ ہے۔ جو لوگ باہر سے آ کر ایسی مہمات چلاتے ہیں اور بھارت و پاکستان کے وزرائے اعظم سے اپیل کرتے ہیں، انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ ایسی مہم کا آغاز دہلی، کولکاتا یا ملک کے دیگر حصوں سے کیوں نہیں کرتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’حکومت ہند کو جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات شروع کرنے چاہئیں تاکہ مرکز اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کیا جا سکے‘‘۔الطاف بخاری نے کہا کہ آخر ہر مرتبہ جموں و کشمیر کو ہی ایسی مہمات کا مرکز کیوں بنایا جاتا ہے؟انہوں نے کہا’’کیا اس کا مقصد ہمارے نوجوانوں کو دوبارہ پتھراؤ کی یاد دلانا ہے؟ دنیا میں کون ہے جو امن کے خلاف ہو؟ کوئی بھی امن کا مخالف نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے کبھی امن کی مخالفت نہیں کی، اس لیے اس خطے کو بار بار امن مہمات کا مرکز بنانا درست نہیں۔انہوں نے مزید کہا’’جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ امن کے حامی رہے ہیں۔
جو لوگ ایسی مہمات چلاتے ہیں، انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ ملک کے دوسرے حصوں میں ایسی کوششیں کیوں نہیں کرتے‘‘۔اس سے قبل کنزر، ٹنگمرگ میں منعقدہ ایک کارکنان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری، سینئر نائب صدر غلام حسن میراور صوبائی صدر محمد اشرف میر نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے اور مؤثر طرزِ حکمرانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔اپنے خطاب میں الطاف بخاری نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے نیشنل کانفرنس کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے کو ’’محض سیاسی ڈرامہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا”ریاستی درجہ دہلی کی سڑکوں یا جنتر منتر پر احتجاج کرنے سے حاصل نہیں ہوگا۔ یہ مجوزہ احتجاج صرف ایک ڈرامہ ہے، جس کا مقصد حکمران جماعت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا اور انہیں گمراہ کرنا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام، جنہوں نے موجودہ حکومت کو بھاری اکثریت سے منتخب کیا، آج اس کی کارکردگی سے شدید مایوس ہیں۔انہوں نے کہا”لوگ خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ 2024 کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے اور عوامی بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے‘‘۔حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا”حکمران جماعت نے اقتدار سنبھالتے ہی ایک لاکھ سرکاری نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بیس ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، وہ نوکریاں کہاں ہیں؟ دو سو یونٹ مفت بجلی اور مفت ایل پی جی سلنڈر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس کا کیا ہوا؟ کیا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیا گیا؟ کیا راشن کے کوٹے میں اضافہ کیا گیا؟ انتخابات سے پہلے وعدوں کی ایک طویل فہرست پیش کی گئی تھی، مگر آج تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا‘‘۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ پنچایت اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی تیاری کریں، کیونکہ عوام اب جھوٹے وعدوں اور حقیقی عوامی خدمت کے درمیان فرق سمجھ چکے ہیں۔الطاف بخاری نے مقامی کانکنی پر پابندی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ندی نالوں میں مقامی لوگوں کو روایتی طریقے سے دستی کانکنی کی اجازت دی جائے، کیونکہ کئی نسلوں سے یہی ان کا ذریعہ معاش رہا ہے۔انہوں نے کہا’’حکومت مقامی لوگوں کو اجازت نامے جاری کرے، مقررہ رائلٹی وصول کرے اور انہیں دستی کانکنی جاری رکھنے دے۔ مقامی آبادی کو ان کے روایتی روزگار سے محروم کرنا سراسر ناانصافی ہے‘‘۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ ان کے مسائل اور خواہشات کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکے۔الطاف بخاری نے زیر حراست افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا اور حالیہ ژالہ باری اور شدید بارشوں سے متاثرہ کسانوں کو معاوضہ نہ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس موقع پر سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے اور تمام اختیارات کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کو اس انداز میں چلایا جا رہا ہے جیسے مہاراجاؤں کا دور واپس آگیا ہو۔ اختیارات محدود ہاتھوں میں سمٹ گئے ہیں اور جمہوری ادارے کمزور کیے جا رہے ہیں۔ اپنی پارٹی اس مہاراجہ طرز حکمرانی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی تاکہ حقیقی معنوں میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہو‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران جماعت کے اپنے ارکان اسمبلی بھی آزادانہ طور پر عوامی مسائل حل کرنے کے مجاز نہیں رہے۔غلام حسن میر نے کہا’’حکمران جماعت کے ایم ایل ایز کو عملی طور پر غلام بنا دیا گیا ہے۔ انہیں نہ آزادانہ کام کرنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی عوام کے مسائل حل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے‘‘۔ آخر میں صوبائی صدرمحمد اشرف میرنے سرکاری ملازمتوں میں آؤٹ سورسنگ کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا’’آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرتیاں اور پس پردہ تقرریاں قابل نوجوانوں کو روزگار کے مساوی مواقع سے محروم کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بے روزگاری جموں و کشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ایسی پالیسیاں عوام میں مزید مایوسی پیدا کر رہی ہیں‘‘۔انہوں نے موجودہ ریزرویشن پالیسی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’موجودہ ریزرویشن پالیسی منصفانہ نہیں ہے اور اس کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ حکومت کو اقتدار میں آئے بیس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن وہ اس اہم مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے عوام کو اس کی نیت اور صلاحیت دونوں پر سوال اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے‘‘۔