راجا ارشاد احمد
گاندربل //سال 2025 اختتام پذیر ہونے میں چند روز باقی باقی ہیںاور سال 2025 میں گاندربل کے علاقہ تولہ مولہ میں واقع ماتا کھیر بوانی مندر میں 1 لاکھ 42 ہزار 232 شردھالوں نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران مندر میں حاضری دیتے ہوئے پوجا کی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیر بوانی مندر سے پنڈت برادری کو کتنی عقیدت اور محبت ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوری میں 4,747، فروری میں 4,922، مارچ میں 16,394، مارچ میں 22,546، مئی میں 3,709، مئی میں 3,609، جون میں 20,678، جولائی میں 4,820، جولائی میں 4,800 یاتریوں نے حاضری دی۔ ستمبر میں 5,031، اکتوبر میں 7,027، نومبر میں 4,608 اور دسمبر میں 4,265 ؛لوگ مندرآئے ۔سب سے زیادہ شردھالوں نے جولائی کے دوران مندر میں آکر پوجا پاٹ کی۔ سالانہ کھیر بوانی میلے کے دوران ہجوم کے انتظام اور بنیادی سہولیات سے متعلق ضروری انتظامات کو یقینی بنایا گیا تھا تاکہ شردھالوں کی مندر میں حاضری آسانی فراہم ہوسکے جہاں میلے کے دوران ان کی رہائش، لنگر اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔تولہ مولہ کے مقامی لوگوں نے بڑی مذہبی تقریبات کے دوران انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔ تولہ مولہ کے مقامی شہری پیر شفاعت نے بتایاکہ مؤثر تال میل سے شردھالوں کو بغیر کسی تکلیف کے رسومات ادا کرنے میں مدد ملی۔سیول سوسائٹی تولہ مولہ سے وابستہ اعجاز احمد نے کہا کہ سال بھر شردھالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد علاقہ تولہ مولہ کے لئے خوش آیندہ قدم ہے اس کے لئے علاقہ تولہ مولہ میں جدید ترین سہولیات فراہم ہونی چاہیے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ تولہ مولہ کو “سیاحتی گاؤں” قرار دیا جائے تاکہ یہ منصوبہ بند ترقی، بہترین تعمیراتی ڈھانچہ تاکہ مقامی باشندوں کے لیے اقتصادی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔حکومت نے پہلے ہی مثبت ارادے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مندر کے مقام پر ایک یاتری نواس کی تعمیر جاری ہے اور توقع ہے کہ یاتری نواس مکمل ہونے کے بعد ایک وقت میں تقریباً ہزار شردھالوں کو قیام کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔ اس منصوبے کو ایک بڑی ریلیف اور رہائش کی کمی کو دور کرنے کی طرف پہلا قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سالانہ میلہ کھیر بوانی ہندو مسلم بھائی چارے کی زندہ مثال کے طور دیکھی جاتی ہے جہاں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے برادری کے لئے مسلم آبادی پیش پیش رہتے ہیں. جو کہ حب الوطنی، امن، بھائی چارے کی زندہ مثال قائم کرتی ہے ۔