یو این آئی
واشنگٹن//امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا نے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔یہ مشترکا بیان امریکی صدر جو بائیڈن کے اتحادی رہنمائوں سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق بیان میں اسرائیل سے عالمی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے حملے روکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اعلی صیہونی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ موخر کرنے کے مطالبے سے آگاہ نہیں،انسانی امداد کو حماس کو ختم کرنیکی کوششوں میں رکاوٹ بننے نہیں دیا جاسکتا۔ادھرشمالی کوریا نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی ذمہ داری امریکا پر عاید کرتے ہوئے اسے المیہ قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری سنٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ ‘‘امریکہ مشرق وسطیٰ میں حالات کنٹرول کر رہا ہے، اور امریکہ کی طرف سے جانبدارانہ رویے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں قتل و غارت مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔’شمالی کوریا نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد کے خلاف واشنگٹن کے ویٹو پاور کے استعمال پر تنقید کی تھی جس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت اور اسرائیلی قبضے کے درمیان انسانی امداد کوغزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔شمالی کوریا کا خیال تھا کہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے قرارداد کے مسودے کو منسوخ کرنے سے مشرق وسطیٰ کے حالات کو بگڑنے سے روکنے کا ایک موقع ضائع ہو گیا ہے۔اس نے اس سلسلے میں یورپی یونین کے موقف کو امریکی ڈکٹیشن کا نتیجہ قرار دیا۔شمالی کوریا نے اس ماہ کے اوائل میں حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو بھی اسرائیلی جارحیت کا ردعمل قرار دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی مجرمانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔