جموں//شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنماؤں نے جموں میں سی پی او چوک سے راج بھون تک امن مارچ نکالا اور یکم جولائی سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کی مفت رجسٹریشن کا مطالبہ کیا۔منیش ساہنی کی سربراہی میں پارٹی کارکنان اور دیگر ہندو تنظیموں کے رہنما سی پی او چوک جموں میں جمع ہوئے اور راج بھون جموں کی طرف امن مارچ کیا۔ ساہنی نے امرناتھ یاتریوں کے لیے مفت رجسٹریشن، سڑک کے ذریعے آنے والے عقیدت مندوں اور لنگر سروس فراہم کرنے والی گاڑیوں کے لیے ٹول چھوٹ کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر، جو امرناتھ شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، وزیر داخلہ امیت شاہ اور جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کے ساتھ میمورنڈم پیش کیے گئے ہیں۔ اس سب کے باوجود کہیں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔انکاکہناتھا”ہم ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مذہبی زیارتوں کے لیے سبسڈی دی جاتی تھی۔ 2019 میں امرناتھ یاترا پر رجسٹریشن صرف 50 روپے تھی جسے بڑھا کر 220/120 روپے کر دیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ساہنی نے کہا کہ ہندوؤں کے مذہبی مقامات پر سرکاری تجاوزات محض منافع خوری بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اکثریتی ملک میں ہندوؤں کے مذہبی دوروں کی رجسٹریشن کے نام پر وصولی مغلیہ دور کے جزیہ کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملتا ہے تو شیوسینا دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا دے گی۔ساہنی نے کہا کہ اگر مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت مذکورہ مطالبات کے حق میں فوری فیصلہ نہیں لیتی ہے تو اسے ہندو ہونے کا دعویٰ ترک کر دینا چاہئے۔مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں بشمول ٹھاکر ہوشیار سنگھ کرنی سینا، کرنل پٹھانیا سینک سماج پارٹی، آل یونائیٹڈ پارٹی، سوشلسٹ ستیش پونچی، اور دیگر نے جموں میں امن مارچ میں شمولیت اختیار کی اور شیوسینا کے مطالبے کی حمایت کی۔پنجاب، ہریانہ، دہلی، ہماچل، بہار، یوپی، کرناٹک، آسام سمیت ملک بھر میں شیو سینا کی اکائیوں نے مذکورہ مطالبات پر دھرنا مظاہرے کیے ہیں۔