پونچھ//حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے پچیس رجب المرجب کی شب عترت سوسائٹی موہری گورسائی کے زیر انتظام جلوس تابوت بر آمد کیا گیا جس میں شامل نوجوانوں نے نوحہ و سینہ کوبی کر کے اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔یہ جلوس بعد نماز مغربین سمیل والا گورسائی سے بر آمد کیا گیا جو مقامی راستوں سے گزرتے ہوئے مکتب امامیہ میں اختتام پذیر ہوا۔اس موقعہ پرمقررین نے امام موسیٰ کاظم ؑ کی زندگی کے مختلف گوشوئوں کو روشنی ڈالی۔دریں اثناء امام بار گاہ عالیہ پونچھ میں بھی مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا جہاں حسب دستور تلاوت قرآن پاک کے بعد نعت و منقبت، سلام و نوحہ کا نذرانہ پیش کیا گیا ۔اس موقعہ پرخطاب کرتے ہوئے علماء و مقررین نے کہا کہ وہ کتاب جو کتاب ہدایت ہے ،اس میں اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جو اس قانون کو توڑنے کی کوشش کرے وہ خود ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، جب آدم علیہ السلام کا پتلا بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں آدم علیہ السلام کے پتلے میں روح پھونک دوں تو تم سبھی اسے سجدہ کرنا سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے تو اللہ نے اسے شیطان بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ جب آدم علیہ السلام نے اس پھل کو کھایا جس کے کھانے سے انہیں پروردگار نے منع کیا تھا تو اللہ نے انہیں جنت سے نکال دیا اور ان سے جنت کا لباس چھین لیا ۔ تاہم انہوںنے کہاکہ قربان جائیں نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی پر جس کے کہنے پر اللہ نے حسنین ؑکے لئے رضوان جیسے فرشتے کو حکم دیا کہ درزی بن کر جاؤ اور حسنین ؑکو جنت کا لباس دو۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان اعمال کو قانون بناتا ہے جو اہلیت انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلیت علیہ السلام کے جتنے فضائل ہیں انہوںنے اتنے ہی مصائب بھی اٹھائے ہیں۔وہیں بعد نماز ظہرین امام بارگاہ عالیہ منڈی میں بھی مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا جہاں تلاوت کلام پاک، نعت و منقبت کا نذارانہ عاشقان محمد و آل محمد نے پیش کیا ۔اس دوران امام جمعہ و جماعت المصطفیٰ جامع مسجدمنڈی مولانا سید اقرار حیدر زیدی نے امام عالی مقام کے فضائل و مصائب پر روشنی ڈالی جبکہ کشمیری ذاکرین نے کشمیری مرثیہ پڑھا۔