سشمیتا
جموں//ریاستی الیکشن کمشنر شانت مانو نے بدھ کے روز جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے منتظر پنچایت انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا، تاہم اجلاس میں انتخابات کے انعقاد کے شیڈول یا ٹائم لائن سے متعلق کسی بھی پہلو پر غور نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جموں ڈویژن کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ الیکشن افسران ،نائب تحصیلداروں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی محور پنچایت انتخابی فہرستوں کی سالانہ نظرثانی اور 21 مئی 2026 کو ان کی حتمی اشاعت کے بعد اپ ڈیٹیشن، ہینڈ بک اور مینول سے متعلق امور تھے۔اسی نوعیت کا ایک اجلاس آج یعنی4جون 2026کو کشمیر ڈویژن کے ڈپٹی ڈی ای اوز اور دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہوگا۔ذرائع نے بتایا، ’’انتخابی فہرستوں کی اپ ڈیٹیشن ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ ایک معمول کا جائزہ اجلاس تھا جس کا مقصد پنچایت انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا، نہ کہ انتخابی شیڈول پر کوئی فیصلہ کرنا۔ گفتگو کا مرکز سالانہ نظرثانی کے بعد ہینڈ بک اور مینول کی تیاری اور کنٹرول ٹیبل (ڈیٹا بیس) کی تازہ کاری تھا۔ اگرچہ پنچایت انتخابات کی تیاری جاری ہے، لیکن انتخابی تاریخوں پر کوئی غور و خوض نہیں ہوا۔‘‘اس سے واضح اشارہ ملا کہ انتخابی پروگرام کے اعلان سے قبل ابھی مزید وقت درکار ہے، حالانکہ اپوزیشن جماعتیں پنچایت اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات فوری طور پر کرانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔اگرچہ انتخابی فہرستوں کی سالانہ نظرثانی اپنے آخری مراحل میں تھی، تاہم قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ پنچایت انتخابات 2026کی امرناتھ یاترا کے اختتام کے بعد اگست میں منعقد ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
دریں اثنا، پنچایت انتخابات جلد از جلد کرانے کے مطالبات اس وقت مزید زور پکڑ گئے جب سرکاری ذرائع نے اشارہ دیا کہ جموں و کشمیر میں خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کی تاخیر پنچایت انتخابات کی جاری تیاریوں کو متاثر نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق، ’’ریاستی الیکشن کمیشن اس معاملے میں خود مختار ہے اور یہ فیصلہ خود کر سکتا ہے کہ SIR مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہے یا نہیں۔ پنچایت انتخابی عمل ایک الگ اور آزاد عمل ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں کیونکہ پنچایت انتخابات کے لیے انتخابی فہرستیں پہلے ہی تیار ہو چکی ہیں۔ البتہ SIR سے کراس چیکنگ اور دوبارہ تصدیق میں مدد مل سکتی تھی۔‘‘اطلاعات کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن نے او بی سی کمیشن کی سفارشات کے حوالے سے حکومت جموں و کشمیر کو خط لکھا ہے، جس پر فیصلہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد او بی سی ریزرویشن کے بارے میں حکومتی فیصلہ آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔فروری 2026 میں ضلع ترقیاتی کونسلوں کی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں تین سطحی پنچایتی راج نظام بھی ختم ہو گیا تھا۔اس سے قبل پنچایتوں اور بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں کی مدت دو سال پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ضلع ترقیاتی کونسلوں کی پانچ سالہ مدت 24فروری 2026کو ختم ہوئی، جبکہ پنچایتوں اور بی ڈی سیز کی مدت 9 جنوری 2024 کو مکمل ہوئی تھی۔سری نگر میونسپل کارپوریشن کی مدت 5 نومبر 2023اور جموں میونسپل کارپوریشن کی مدت 14 نومبر 2023 کو ختم ہوئی تھی، جبکہ دیگر میونسپل کونسلوں اور کمیٹیوں کی مدت بھی اکتوبر اور نومبر 2023کے درمیان مکمل ہو گئی تھی۔جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ 1989، جموں و کشمیر میونسپل ایکٹ 2000اور جموں و کشمیر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2000 کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیاری اور انتخابات کے انعقاد کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول ریاستی الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔شانت مانو نے 21 فروری 2026 کو ریاستی الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا تھا اور ایک ماہ کے اندر پنچایت انتخابات کی تیاریوں کا عمل شروع کر دیا تھا۔مرکزی زیر انتظام علاقے میں پنچایت انتخابی فہرستوں کی جامع نظرثانی کا عمل 27مارچ 2026 کو مسودہ انتخابی فہرستوں کی اشاعت کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ حتمی فہرستوں کے مطابق ووٹروں کی مجموعی تعداد 72,24,131ہے، جن میں 36,62,502مرد، 35,61,488 خواتین اور 141 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔نظرثانی کے دوران 3,39,384نئے ووٹر شامل کیے گئے، جبکہ وفات، نقل مکانی، دوہرے اندراج اور دیگر جائز وجوہات کی بنیاد پر 1,13,344 نام فہرستوں سے خارج کیے گئے۔