محمد بشارت
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ سب ڈویژنل ہسپتال اس وقت شدید طبی بحران کا سامنا کر رہا ہے جہاں بنیادی صحت سہولیات کی مکمل عدم دستیابی نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہسپتال میں نہ تو الٹراساؤنڈ کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی دیگر ضروری تشخیصی سہولیات، جس کی وجہ سے مریضوں کو معمولی سے ٹیسٹ کے لیے بھی دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔خاص طور پر حاملہ خواتین اور ایمرجنسی کیسز کے لئے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی بار مریضوں کو فوری تشخیص کی ضرورت ہوتی ہے مگر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ہسپتال میں پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں ہے۔ تیمارداروں کا کہنا ہے کہ انہیں گھنٹوں ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے مگر پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی پوری نہیں ہو پاتی۔
اس کے علاوہ سردیوں کے موسم میں کمروں میں ہیٹرز نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بزرگ مریض، بچے اور داخل مریض اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سہولیات کسی بھی سرکاری ہسپتال میں عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضروریات میں شمار ہوتی ہیں۔ عوام کا سوال ہے کہ جب ایک سب ڈویژنل سطح کے ہسپتال میں ہی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو دیہی آبادی کے صحت کے مسائل کیسے حل ہوں گے۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں محکمہ صحت کے ڈائریکٹر نے ہسپتال کا دورہ بھی کیا، تاہم مقامی لوگوں کے مطابق اس دورے کے باوجود زمینی سطح پر کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ محض رسمی ثابت ہوا جس سے لوگوں میں پیدا ہونے والی امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں الٹراساؤنڈ مشین کی فراہمی، صاف پینے کے پانی کا انتظام اور کمروں میں مناسب ہیٹنگ سسٹم نصب کیا جائے تاکہ مریضوں کو باوقار اور محفوظ ماحول میں علاج کی سہولت مل سکے۔ عوام نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال میں جلد بہتری نہ آئی تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔