جموں //پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے نیشنل کانفرنس پر کے وی آئی بی بھرتیوں میں گمراہ کن مہم چلانے کا مبینہ الزام لگایا ہے اور یاد دلایا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے دوران اقتدار اپنے قریبی رشتہ داروں کو مختلف سرکاری محکموں میں ناجائز طریقہ سے بھرتی کیا ہے۔پارٹی کے ایم ایل سی فردوس ٹاک نے جاری ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ ریاست کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے بھرتیوں کی تحقیقات کا حُکم 24 گھنٹوں میں جاری کیا جب ان تعیناتیوں پر پارٹی کے لیڈران پر انگلی اُٹھائی گئی،جبکہ ماضی میں سابقہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان میں چور دروازے سے کی ہوئی تعیناتیوں کا دفاع کیا ہے۔ فردوس ٹاک نے نیشنل کانفرنس پر گمراہ کن مہم چلانے کی تنقید کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس لیڈر شپ پر دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ویجی لنس آرگنائزیشن نے قانون ساز اسمبلی میں سابقہ تین اسپیکروں کی جانب سے غیر قانونی طور سے 37تعیناتیوں کا اُجا گر کیا ہے ،جن میں سے سابقہ سپیکر نے 28تعیناتیاں چور دروازے سی کی ہیں اور پوچھا ہے کہ اُس وقت ان لیڈراں کا ضمیر کہاں تھا ؟انہوں نے جے اینڈ کے بینک میں چور دروازے سے کی گئی تعیناتیوں پر احتساب کمشین کی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے سابقہ وزیر اعلیٰ سے ان پر اپنی پوزیشن واضع کرنے کو کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے29مارچ2012کو اسمبلی ایوان میں اعتراف کیا تھا کہ انکے دور میں ہاوسنگ و اربن ڈیولپمنٹ میں کی گئی چور دروازے سے تعیناتیوں اور دیگر225 افراد کو باقاعدہ کیا گیا ہے،جن کی تعیناتی غیر قانونی طریقہ سے کی گئی تھی۔ٹاک نے مزید الزام لگایا کہ این سی نے2008سے2014تک مختلف پرائیویٹ سیکٹر104 ۔افراد کو غیر قانونی طور سے بھرتی کیا گیا ہے،جن میں سے بیشتر کا تعلق این سے کے قریبی رشتہ داروں سے ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے دور میں کوئی بھی غیر قانونی بھرتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے بلکہ بھرتیوں کا عمل صاف و شفاف طریقہ سے منعقد کیا جا رہا ہے۔