صائمہ مقبول
گھر کی دیواروں میں ایک خاموشی بسی تھی جیسے پرانی ہنسی کہیں دراڑوں میں اٹک گئی ہو۔ یہ وہی گھر تھا جسے ماں باپ نے اپنی محنت سے کھڑا کیا تھا۔بھائیوں کے خوابوں اور بے فکر قہقہوں سے آباد۔ اب بھی سب کچھ ویسا ہی تھا مگر فضا بدل چکی تھی۔آئینے کے سامنے کھڑی فہمیدہ آہستہ آہستہ بال سنوار رہی تھی، ہونٹوں پر مدھم سی دھن۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا یقین تھا، جیسے گھر کی ہر چیز اس کی اجازت کی محتاج ہو۔
زویا۔۔۔۔ زویا۔۔۔۔ اس نے اونچی مٹھاس بھری آواز میں پکارا۔ پانچ سالہ بیٹی دوڑتی آئی،آنکھوں میں معصومیت کی چمک۔ جی امی۔۔ فہمیدہ نے مسکرا کر کہا۔۔ “ماموں آنے والے ہیں۔ ان سے کہنا آپ کو شاپنگ کروانی ہے۔ واپسی پر آئس کریم بھی کھائیں گے۔” زویا نے تالیاں بجا دیں اسے کیا خبر تھی کہ یہ خوشیاں ماں کی سلطنت کی بنیادوں پر کھڑی تھیں۔
زویا کا اچھا اسکول مہنگے کپڑے سب ماموں کی جیب سے نکلتے تھے۔ مگر فہمیدہ کے ہاتھوں سے چلائے جاتے۔فہمیدہ کی شادی کو سات برس ہو چکے تھے مگر وہ سسرال میں چند مہینے ہی رہی۔ شوہر کو جوتے کی نوک پر رکھتی اور بیٹی زویا کو نانیہال لے آئی۔ یہاں والدین کی موت نے اسے تخت پر بٹھا دیا۔ دو بھائی رشید اور عدنان۔ اس کی انگلیوں پر ناچتے۔ رشید بڑا نوکری کرنے والا خاموش مزاج، عدنان چھوٹا دکاندار ہنس مکھ۔ دونوں شادی کے قابل مگر فہمیدہ کو خوف تھا بھابیاں آئیں گی تو سلطنت ڈگمگا جائے گی۔ عیش و آرام حکمرانی سب داؤ پر لگ جائے گا۔رات کے کھانے پر بھائیوں کے سامنے وہ فرشتہ بن جاتی۔” بھائی جان امّی ابو کے جانے کے بعد میں نے ماں بن کر آپ کو پالا۔ سب کچھ قربان کروں گی آپ پر۔”
رشید نے ایک دن رشتہ دکھایا۔۔۔ “باجی لڑکی پڑھی لکھی ہے خاندان اچھا۔ کیا خیال ہے۔۔۔ فہمیدہ کی مسکراہٹ مصنوعی تھی۔ “بھائی جان میں تو آپ کی خوشی چاہتی ہوں مگر سنا ہے اس کا مزاج تیز ہے۔ کل کو گھر کا سکون بگڑ جائے تو۔۔؟ رشید سر ہلا گیا۔۔۔ “اگر آپ کو ٹھیک نہ لگے تو رہنے دیں۔ آپ کا فیصلہ میرا فیصلہ۔” دل ہی دل میں فہمیدہ مطمئن ہوئی۔
پانچ آٹھ رشتے دکھائے مگر فہمیدہ ہر ایک میں نقص نکالتی ۔کبھی کہتی “لڑکی کا خاندان اچھا نہیں”کبھی “ابھی ذمہ داریاں پوری نہیں”۔ عدنان نے بھی رشتے دکھائے مگر وہی نتیجہ۔ بھائی اندھے اعتماد میں اس کے غلام۔ مگر رشید تھک گیا۔ دفتر کی ایک سادہ سی لڑکی سارہ سے اس نے چھپ کر شادی کر لی۔ شادی کی خبر گھر پہنچی تو فہمیدہ کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ سارہ کے قدم پڑتے ہی فہمیدہ کو لگا کہ اس کے تخت پر حملہ ہو گیا ہے۔ اس کی مسکراہٹ بدستور نرم تھی۔ مگر آنکھوں میں ایک سختی اتر آئی تھی۔
فہمیدہ سامنے مسکراتی پیچھے زہر اُگلتی۔ چائے میں نمک ڈال دیا الزام لگایا۔۔۔”تمہارے ہاتھ کا کھانا تو زہر ہے” سارہ نے نرمی سے کہا۔۔”آپا آج میں کھانا بنا لوں؟ آپ آرام کریں۔” فہمیدہ کا لہجہ تیز۔۔۔ “یہ۔۔۔۔۔۔یہ میرا گھر ہے یہاں کیا اور کیسے ہوگا مجھے کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ مدد کے نام پر اقتدار چھیننے کی کوشش مت کرو۔” سارہ خاموش رہ گئی آنکھوں میں آنسوآئے۔
رشید نے دیکھا مگر باجی پر شک نہ کیا۔ وہ سارہ کو کہتا کہ آپا ماں سمان ہے ،اُس سے کبھی زبان نہیں لڑانا۔دن گزرتے گئے۔ فہمیدہ سارہ کے کپڑوں پر دھول جھاڑتی چغلیاں کرتی۔۔۔ “دیکھو بھائی یہ گھر کی مالکن بننا چاہتی ہے۔ رشید “باجی صبر کرو۔”۔۔۔ مگر فہمیدہ کا ظلم بڑھتا گیا۔ ایک دن سارہ نے روتے ہوئے رشید سے کہا۔۔۔”میں برداشت کر لوں گی مگر یہ حد ہے۔” رشید نے سوچا مگر باجی کا احترام تھا۔
ادھر عدنان کا رشتہ آیا۔ فہمیدہ نے روکا مگر عدنان نے اصرار کیا۔ نئی بھابھی نازنین آئی۔ وہ بھی نرمی والی بچوں کی ماں بن گئی۔ ایک دن سارہ اور نازنین باورچی خانے میں آہستہ آہستہ ہنس رہیں تھیں۔ فہمیدہ دروازے سے دیکھتی رہی۔اب گھر میں دو عورتوں کی موجودگی سے فہمیدہ کا تخت ہلنے لگا۔ نازنین بچوں کو نانا نانی کی کہانیاں سناتی۔۔۔ فہمیدہ حسد سے جلتی۔
ایک دن نازنین نے کہا۔۔۔ “آپا بچوں کو آپ سے بہت محبت ہے”۔ فہمیدہ۔۔۔۔ محبت۔۔ہہ ۔۔یہ تو میرے گھر پر قبضہ کرنا چاہتی ہو۔ چھوٹے بچوں سے بھی الزام۔۔فہمیدہ نے فیصلہ کر لیا یا سب تابع ہوں یا سب برباد۔۔۔۔ اس نے سسرال کا دروازہ چھوڑ دیا میکے میں بیٹھ گئی۔
شوہر فون کرتا فہمیدہ۔۔۔۔خدا کے لئے واپس آؤ۔ زویا کو ماں باپ دونوں چاہئیں۔ گھر تمہارے بغیر ویران ہے۔ فہمیدہ غرور سے۔۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔ یہ میرا ٹھکانہ ہے۔ رشتے ضد سے نہیں صبر سے چلتے ہیں ۔ مگر مجھے صبر کی ضرورت نہیں۔ شوہر منتیں کرتا رہا مگر وہ نہ پگھلی۔
برس گزرے پہلے فون کم ہوئے۔ پھر شکوے کم ہوئے۔ پھر خاموشی لمبی ہوتی گئی۔۔۔ شوہر تھک گیا۔ خاموشی سے دوسری شادی کر لی ایک سادہ سی عورت سے جو گھر سنبھال لے۔بھائیوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ عدنان کی بیوی نازنین نے کہا۔۔۔میں نے برداشت کیا مگر اب نہیں۔ دیکھو آپ کی بہن میرے بچوں سے کیسے نفرت کرتی ہے۔ چغلیاں الزامات۔۔۔ یا فیصلہ کرو یا بچوں سمیت ماں کے گھر جاؤں گی۔ عدنان نے دیکھا سمجھا۔ رشید نے بھی سارہ کی باتیں سنیں۔ دونوں نے مل کر کہا۔۔۔”باجی اب بس۔ یہ گھر سب کا ہے۔”
فہمیدہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ بھائی اب اس کی چالوں سے خبردار ہو چکے ہیں۔ لہجے کی مٹھاس کڑواہٹ میں بدل گئی۔ اب وہ پسِ پردہ وار کرنے کے بجائے سامنے سے جائیداد کا ذکر چھیڑنے لگی۔ “یہ گھر امّی ابو نے میرے لئے بھی چھوڑا ہے۔ میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا تم دونوں کا”۔۔۔۔ وہ بلند آواز میں کہتی۔ کاغذات کی باتیں، حصے کی گنتی اور کمروں کی تقسیم اب روز کا موضوع بن گئے۔ جس گھر کو وہ محبت اور قربانی کی کہانی بنا کر پیش کرتی تھی۔۔ اب وہی گھر اس کے لئے اقتدار اور ملکیت کی جنگ کا میدان بن چکا تھا۔ بھائی خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پہلی بار انہیں اپنی بہن کے چہرے کے پیچھے چھپا ہوئی حرص صاف دکھائی دینے لگا۔ قانونی طور پر اس کا حصہ الگ کر دیا گیا۔ایک چھوٹا سا مکان اس کے نام ہوا مگر اس کے ساتھ وہ اقتدار بھی چھن گیا جس پر وہ برسوں سے قابض تھی۔
حصے کا مکان اگرچہ اس کے نام ہو گیا تھا، مگر وہاں تنہائی اس کا پیچھا کرتی رہی۔ آخرکار مجبوری میں اسے سسرال کا رخ کرنا پڑا مگر وہاں دروازہ کھلا تو شوہر کی نئی بیوی سامنے آئی اور فہمیدہ پر بجلی گر گئی۔ نہ میکے کی مالکن نہ شوہر کی واحد بیوی۔ زویا اب بڑی ہو چکی تھی۔ وہ سب کچھ سمجھنے لگی تھی۔۔۔ماں کی ضد گھر کے جھگڑے اور رشتوں کی ٹوٹتی ڈور۔ ایک دن اس نے نرمی سے کہا۔۔۔ ’’امی میں آپ سے محبت کرتی ہوں مگر میں اس ماحول میں نہیں رہ سکتی۔ مجھے سکون چاہیے لڑائی نہیں۔‘‘ فہمیدہ خاموش رہ گئی۔ پہلی بار اسے لگا جیسے بیٹی اس کے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔ کچھ دن بعد زویا اپنے باپ کے پاس چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا تو گھر اور بھی سنسان ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ اپنے حصے کے چھوٹے سے مکان میں فہمیدہ تنہائی کی ساتھی بن گئی۔ خالی کمروں میں اس کی آواز گونجتی مگر جواب کہیں سے نہ آتا۔ رات کو وہ اکیلی بیٹھی رہتی۔ کبھی دیوارو ںکو دیکھتی کبھی دروازے کو۔ اسے یاد آتا کہ کبھی گھر ہنسی سے بھرا ہوتا تھا۔ آج سب اس سے دور تھے۔ وہ آہستہ سے خود سے کہتی’’میں نے کیا پایا۔۔۔ سب کو اپنے قابو میں رکھنا چاہا مگر سب ہی کھو دیئے۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔ اب اسے سمجھ آ رہا تھامگر وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
محلہ والیاں سر ہلاتے کہتیں ۔۔۔۔”پاگل ہو گئی ہے۔” وہ سنتی مگر لفظ نہ بچے۔ اب کچھ بھی باقی نہ تھا سوائے خاموشی کے اور ایک خالی آئینہ۔۔۔آئینہ آج بھی چمک رہا تھا۔۔۔مگر اس میں اسے اپنی ہی صورت اجنبی لگتی تھی۔
���
ٹیکی پورہ لولاب، کپوارہ، کشمیر