سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے اقامتی اسنادیعنی ڈومیسائل سرٹیفیکٹ اجراءکرنے کے سرکاری اعدادوشمارپرشک کااظہار کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا،”یونین گورنمنٹ نے جو اعداد و شمار ڈومسائل سرٹیفکیٹ (Domicile Certificate) اجراءکرنے کے سلسلے میں شائع کئے ہیں اور اُس میں مغربی پاکستان کے رفیوجیوں ، وال میکی طبقے اور گورکھوں سے متعلق اعداد و شمار پیش کئے ہیں، وہ حالات کی صحیح عکاسی نہیں کرتے۔ “انہوں نے مزیدکہا،”یہ معاملہ 40 لاکھ لوگوں سے متعلق ہے (جموں کے 25 لاکھ اور کشمیر کے 15 لاکھ )جن کو صرف ایک برس میں ڈومسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں ۔ اس سارے معاملے کی تشریح ہونی چاہئے ۔ یونین ٹریٹری گورنمنٹ نے جو اعداد و شمار دیئے ہیں ، اُن سے غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے“۔بیان میں انہوں نے کہاکہ جن طبقوں کا ذکر یونین ٹریٹری ایڈمنسٹریشن نے کیا ہے ، اُن کی کل آبادی ایک لاکھ سے کم ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یو ٹی ایڈمنسٹریشن نے کیونکر صرف تین طبقوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں یونین ٹریٹری گورنمنٹ نے پورے حالات اور مزید اعداد و شمار نہ بتاکر اپنی پوزیشن مشکوک بنادی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک سال میں گورنمنٹ نے جموں میں 25 لاکھ سرٹیفکیٹس اجراءکئے ہیں اور کشمیر میں 15 لاکھ ، یہ کون لوگ ہیں ، جن کو ان اسناد (Certificates)کی ضرورت تھی؟ پھر کشمیر اور جموں کے درمیان اتنا فرق کیوں ہے؟ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ یوٹی گورنمنٹ عوام کے سامنے جواب دہ ہے۔