بلا شبہ اعتماد ہی زندگی کی متحرک قوت ہے اور ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہے۔ ہماری زندگی چند دنوں کی ہے لیکن اس کی ذمہ داری بہ نسبت زندگی کے کئی حصے زیادہ ہیں۔ہمارے چند دنوں کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو دنیا کی چہل پہل سے علاحیدہ صرف ہوتا ہے ،بصیرت کے نئے نئے باب چشم بینا کے سامنے کھول دیتا ہے۔جس کے سبب بہت سے خوش بخت انسان انتہائی کٹھن دن بھی عزم ،حوصلے اورحمد و ثنا کے ساتھ یہ سوچ کر گزارتے ہیں کہ آج کا دن جہاں زندگی کا پہلا دن ہے وہیں یہ دن زندگی کا آخری دن بھی ہے۔ وہ جسم سنوارنے کے ساتھ ساتھ ،جسم کے فنا ہونے کے بعد زندہ رہنے والی روح کو بھی سنوارتے رہتے ہیں۔وہ معلومات اور تجربات حاصل کرنے کے لئے ہر دم کوشان رہتے ہیں۔جس سے انہیں اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے کہ یہ دنیا رنج و الم کی تصویر ہے، یہاں دْکھ اور موت ہے۔ طاعون، بیماری اور قحط ہے۔ خشک سالی، سیلاب اور زلزلہ ہے۔یہاں اَن دیکھے حادثات ہوتے رہتے ہیں،یہاں ظلم ، فساد ، گنوار پن ، جہالت ،بییقینی اور پاگل پن ہے۔ وہ سمجھ پاتیہیں کہ یہاں کی خوشی عارضی ہے اور خود غرضی کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔وہ اس بات سے واقف ہوجاتے ہیں کہ انسان مساوی طریق پر پیدا ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی مساوی ہوجاتے ہیں ،اس لئے درمیانی وقفہ یعنی زندگی کے دن بھی مساویانہ طریق پر ہی گذاردیتے ہیں،جس کی بدولت اْن کی زبان اصلاح پذیر ہوجاتی ہے،اْن کے دِل صالح ہوجاتے ہیںاور وہ شرفِ انسانیت سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے توکرہ ارض پر انسانی حیات اور بقا کی جدوجہدایک طرف آگ اور خون سے لبریز جنگ و جدل سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف قدرتی آفات اور خوفناک وبائی امر اض کی تباہ کاریوں سے بھری ہے۔ مختلف وبائی امراض کے لرزہ خیز و اقعات رقم ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کی ہلاکتیں ہوئیں،بستیاں ویران ہوئیں، شہر اجڑے، ملک برباد ہوگئے ، تہذیبیں مٹ گئیں اور قدریں کھو گئیں،گویا یہ خوفناک اور ہولناک سلسلہ اب بھی جاری ہیاور تا قیامت جاری رہے گا۔
قارئین کرام !دنیا میں جب کبھی کوئی بیماری، حادثہ یا آفت لاحق ہوجائے تو اِس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ دنیا محض مصیبتوں کا ہی گڑھ ہے اور یہاں سوائے دکھ ،درد اور اذیت کے اور کچھ بھی میسر نہیں۔ انسان کی اپنی بد اعمالیوںکے سبب قدرتی آفات تو کہیں بھی کسی بھی لمحے آسکتی ہیں اور آنے والے کل میں کیا ہو، کسی کو معلوم نہیں مگر روئے زمین پر موجود انسانی آبادی کی ایک کثیر تعداد کی اْس جہل،بد کاری اور پاگل پن کا کیا کیا جائے جورنگ،نسل ، مذہب اور مسلک کی آڑ میں اَنا،ضداور حسد کے تحت اپنی مکروہ سازشوں،ناجائز کاروائیوں اور کالی کرتوتوں سے انسانیت کو شرمسار کرتی چلی جارہی ہیںاور اْن کی اْس ظلم و جبر اور زیادتی کا مداوا کیسے ہو جو وہ کل بھی ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھے تھے اورآج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ، حادثہ، سانحہ یا قدرتی آفت ایسی نازل ہوئی کہ جو اس دور کے لوگوں کے لئے ایک کڑی آزمائش اور چیلنج بنی اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک عبرت، ایک مثال اور ایک قابل ذکر داستان بن گئی۔ بیسویں صدی کی ہی بات کریں تو جنگ عظیم اول و دوم، برطانیہ اور سویت یونین جیسی عالمی طاقتوں کا زوال، تقسیم ہند، چین کا وجود اور ترقی کرنا،بنگلہ دیش کا قیام، ایران کا انقلاب ایسے واقعات ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کی تاریخ رقم کی۔ اکیسویں صدی کی تاریخ میںجہاں مختلف ملکوںخصوصاًمشرق وسطیٰ کے علاوہ میانماربرما ،افغانستان ،فلسطین وغیرہ کی خونریزیاں ہمارے لئے چشم کْشا ہیںوہاں سب سے بڑی آفت کو رونا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو یرغمال بنا دیا ہے اور ہر شعبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔جو ابھی اس کے وار سے محفوظ ہیں انہیں زندگی کے اہم ترین معمولات کو بھی ترک کر کے گھروں میں قید ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور طب کے میدان میں حیرت انگیز ترقی اور نت نئی تحقیقات کرنے والے ممالک اس موذی وائرس کے سامنے تاحال بے بس نظر آرہے ہیںاور اپنے اپنے راتب کے مطابق بیان بازیاں کررہے ہیں۔
حق تو یہ ہے کہ کورونا وائرس دنیا میں عذاب الہٰی کی ایک صورت ہے، انسانوں کی بداعمالیوں کے باعث پروردگار کی جانب سے ایک انتباہ ہے تاکہ وہ باز آجائیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کر لیں یا پھر ترقی کے نشے میں چور ہو کر خدا کو بھول جانے والوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک پیغام ہے کہ مخلوق چاہے کچھ بھی کر لے، آخر خالق کی قدرت کے آگے اسے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔ مخلوق بہرحال اس ذات باری کے ایک حرف ِکْن کی محتاج ہے۔ تکبر اسی کو شایاں ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے، انسان نہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کو رونا وائرس کے ذریعے خدا نے خوابیدہ اور غفلت میں ڈوبی اْمت مسلمہ کو بلکہ پوری انسانیت کو جھنجوڑا ہے تاکہ وہ بیدار ہو کر ہوش کے ناخن لے۔
ذرا غور کیجئے کہ جب سیاِس کائنات پر انسانی مخلوق کا وجود ہوا،تب سے اِس مخلوق نے ناقابلِ یقین ترقی کی ہے۔ وہ انسان جو کبھی درندوں سے محفوظ رہنے کے لئے گپھوں اور غاروں میں رہتا تھا، آج نہ صرف سمندروں کی تہہ تک چلا جاتا ہے بلکہ خلائی جہازوں کے ذریعے مریخ پر بھی جا پہنچا ہے۔ سائنسی اور مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اس انسان نے فلسفے میں بھی کمال حاصل کیا اور ایسی ایسی ذہنی گتھیاں سْلجھائیںیا اْلجھائیں کہ جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہا ،جس کا انسان نے حل تلاش نہ کیا ہو، مگر اِس سب کے باوجود ہر ذی شعور کے ذہن میں یہ سوال اْبھر رہا ہے کہ کیا آج کا انسان حقیقی معنوں میں انسان بن چکا ہے اورانسانیت کے وہ کام پورا کررہا ہے جس پر اْسے اشرف المخلوقات کا درجہ ملا ہے۔کیا آج کا یہ ترقی یافتہ انسان ، قدیم انسان کے مقابلے میں رحم دل بن گیا ہے یا زیادہ سفاک ؟ گزشتہ تین چار صدیوں کی ہی تاریخ پر نظرڈالیںتو اِن برسوں میں تخلیق کائنات کے گمبھیر مسئلے سے لے کر اخلاقیات کے اصولوں تک فلاسفہ نے ہر مسئلہ کھول کر رکھ دیا ہے۔ ریاست کیا ہوتی ہے، جمہوریت کی روح کیا ہے، عوامی نمائندے کیسے منتخب کئے جائیں، انصاف کی فراہمی یقینی کیسے بنائی جائے، شخصی آزادی کتنی اہم ہے، مساوات کا تصور کیا ہے، ملک اور فرد کا باہمی ربط کیا ہونا چاہئے، سوشل کنٹریکٹ کس مرض کی دوا ہے، علم کے ذرائع کیا ہیں، دلیل کیا ہے، عقیدہ کیا ہے، ایمان کیا ہے۔ غرض انسانی معاشرت کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر انسان نے علم کے پہاڑ نہ کھڑے کر دئے ہوں! مگر عقل کے یہ تمام مدارج طے کرنے کے باوجود آج کی دنیا کا انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اْس نے کرہ ارض سے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کر دیا ہے، کہیں پر بھی جنگ اور کشت و خون کا خاتمہ کردیا ہے ، نہتے لوگوںاورمعصوم بچوں کی لاشیں گلی کوچوں، شاہراہوں،ویرانوںاورساحلوں پر پڑنے نہیں دیتا ہے،اکثریتوں کے ہاتھوں اقلیتوںکا قتل عام نہیں ہونے دیتا ہے،مظلوم کو ظالم سے بچاتا ہے، دنیا میں کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیتا ہے اور کسی بیمار کو محض اِس وجہ سے نہیں مرنے نہیں دیتا کہ اْس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ کسی کو کھلے آسمان کے نیچے زندگی گذارنے نہیں دیتا کہ اْس کو رہنے کے لئے گھرنہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس تو شاید اِن باتوں کاکوئی نہ کوئی جواب ہو،لیکن دنیا کے کئی ترقی پذیر ملکوں کے پاس تو اس وقت اپنے شہریوں کے کسی سوال کو جواب دینے کے لئے حوصلہ تک بھی نہیں ہے۔بغور جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال سے یہ احتمال قوی ہوجاتا ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں اس وبائی بیماری نے جیسے انسانیت کے خلاف تیسری عالمی جنگ چھیڑ دی ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں سے لے کر کاروبار تک کا پوری دنیا میں بیک وقت معطل ہو جانا، لوگوں کا گھروں تک محدود ہو کر رہ جانا، جنگ کے حالات میں ہی ہوتا ہے۔اس سے پہلے بھی دنیا میں کئی وبائی امراض آئے اور آ کر چلے بھی گئے لیکن کسی وباء نے ایسی دہشت اور ایسا خوف و ہراس نہیں پھیلایا جیسا کہ کورونا وائرس نے پھیلا رکھا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ لاک ڈائون طویل عرصے تک جاری رہنے سے تو پوری دنیا ایک شدید معاشی بحران کا شکار ہو رہی ہے ، جس میں خوراک اور ادویات کی قلت کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔ اس بحران سے بھارت جیسے ممالک بہت بری طرح متاثر ہوں گے جن کے پاس نہ صرف وسائل کی کمی ہے بلکہ اس بیماری سے نمٹنے کے منصوبے کا فقدان ہے اور ساتھ ہی غیر مساویانہ پالیسی سے ملک کی صورت حال بھی غیر یقینی ہے۔
ظاہر ہے کہ کورونا وائرس نے اجتماعی زندگی کے ساتھ ساتھ انفرادی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے اکثر لوگ گھروں میں بند ہیں، محفلیں ختم ہوئیں اور رونقیں ماند پڑ گئیں،کاروبار ٹھپ ہے،بے روز گاری عام ہے۔بے روز گاری بذات خود ایک المیہ اور ایک مسئلہ ہے۔ اہل دانش کا قول ہے کہ انسان انسان کی دوا ہے لیکن یہ عجیب مرض ہے کہ جس کی دوا صرف تنہائی ہے اور پرہیز یہ کہ کسی سے نہ ملا جائے، سب سے دور اور الگ تھلگ رہا جائے۔ تنہائی انسان کو اکیلا تو کر دیتی ہے لیکن خود کبھی اکیلی نہیں رہتی، ہمیشہ اپنے ساتھ اداسی اور بیکار خیالات لاتی ہے،وہم اور وسوسوںمیں ڈالتی ہے اور ایک انجانے خوف میں مبتلا کردیتی ہے۔تاہم جن کے خیالات نیک اور با اعتماد ہوتے ہیں،وہ ہر حال میں خوش رہتے ہیںاور اپنی خود اعتمادی سے زندگی کے ہر مرحلے کو ذکرِ اللہ سے عبور کرتے چلے جاتے ہیںاور انسانیت بھی اسی بات میں ہے کہ انسان کسی بھی حال میں اس زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کریاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں جس سے انسانیت کا دامن داغدار ہوجائے کیونکہ قدر کا مستحق وہی فرد،معاشرہ اور ملک ہوتا ہے ، جس میں نظم و انضباط ہونے کے ساتھ ساتھ تعاون و امدادِ باہمی، آپس کی محبت و خیر خواہی ، اجتماعی انصاف اور باہمی مساوات ہوتا ہے۔ تفرقہ، انتشار، بدنظمی، بے ضابطگی، نااتفاقی، بدخواہی، ظلم اور نا ہمواری کو اجتماعی زندگی کے محاسن میں کبھی شمار نہیں کیا گیااورمکار، متکبر، ریا کار، منافق، ہٹ دھرم اور حریص لوگ کبھی بھلے آدمیوں میں شمار نہیں کئے جاتے ہیں۔ ہرکسی کے ساتھ حسن ِ سلوک، رفاقت،بے کسوں کی خبرگیری، مریضوں کی تیمار داری اور مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت ہمیشہ نیکی سمجھی جاتی ہے۔دنیا میں نیکی اور بھلائی کرنے کے برابر اور کوئی کام نہیں ہے۔ اس میں دنیا اور دین دونوں کی بھلائی ہے۔ روحانی اور جسمانی راحت کا سامان نیکی میں ہی پوشیدہ ہے۔ بغیر بدلہ کے دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا احسان کہلاتا ہے اور اسی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ انسان میں احسان کا جذبہ قدرت نے پیدا کیا اور قدرت نے انسان کو احسان کرنے کی تعلیم و تربیت دی۔ انسان اور بندے کو احسان کی وجہ سے قربِ خدائی حاصل ہوتی ہے۔ خدا کے بندوں سے نیکی کرنا خدا کو بہت پسند ہے۔ جو لوگ خدا کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ خدا کے دوست کہلاتے ہیںاورایسے ہی لوگ دین اور دنیا کی فلاح پاتے ہیں۔